بسواکلیان میں مرکزی جلوس و جلسۂ عید میلاد النبی ﷺ کی بنیاد حضرت افضل پیرؒ کا عظیم کارنامہ - عشقِ رسول ﷺ کے فروغ اور نسلِ نو کی دینی تربیت کے لیے حضرت افضل پیرؒ کی تاریخی خدمات ناقابلِ فراموش۔


بسو کلیان (راست) غفران مآب حضرت خواجہ ابو الحسن جا گیر دار قبلہ رحمۃ اللہ علیہ المعروف بہ افضل پیر اپنے وقت کے ایک جید عالم بھی تھے صوفی بھی تھے، شاعر بھی تھے، مرشد و مربی ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین واعظ و مفسر قرآن اور عاشق رسول ﷺ تھے ۔ جس کو سرزمین بسواکلیان میں حضرت افضل پیر " کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ ماضی قریب میں جو بارگاہ حضرت سید نا تاج الدین شیر سوار رحمہ اللہ علیہ بسواکلیان کے سجادہ نشین گذرے ہیں اور جنہوں نے ترکیہ وتصفیہ کے ذریعہ اس مسند رشد و ہدایت کا حق ادا کر دیا۔
آپ کا پورا نام خواجہ ابوالحسن جاگیر دار تھا اور افضل تخلص فرماتے تھے اور آپ کے ارادت مند آپ کو افضل پیر سے ملقب کرتے ہوئے اسی نام سے یاد کرتے ہیں۔ آپ کی پیدائش سن 1929ء کلیانی شریف ضلع بیدر میں ہوئی ۔ آپ کے والد گرامی کا نام حضرت شیخ محمد جا گیر دار صاحب قبلہ نوراللہ مرقدہ تھا۔
حضرت افضل پیر کی تعلیم سے فراغت کے بعد سن 1945ء میں آپ کے والد محترم شیخ المشائخ حضرت محمد صاحب جا گیر دارنور اللہ مرقدہ نے آپ کو اپنا جانشین مقررفرمایا والد محترم کے حین حیات آپ ان کی صحبت سے فیض پاتے رہے اور ان کے وصال کے بعد 1948ء سے مسند رشد و ہدایت اور خدمت درگاه شریف حضرت سید تاج الدین راجہ باگ سوار رحمہ اللہ علیہ کلیانی شریف کے منصب پر فائز ہوئے اور مواعظ و نصائح اشاعت دین و علم دین کے علاوہ سلسلہ عالیہ چشتیہ کے فروغ میں ہمہ تن مصروف ہو گئے۔
61 ساله طویل عرصہ آپ مسند سجادگی و تولیت پر فائز رہے
حضرت قبلہ 1948ء سے 2009 تک مسند سجادگی و تولیت بارگاه حضرت راجہ باگ سوار رحمہ اللہ پر فائز رہے اور تب ہی سے درگاہ شریف کی مسجد میں منصب امامت و خطابت پر فائز رہے آپ کے جمعہ کے خطاب سے استفادے کے لئے لوگ کثیر تعداد میں بسواکلیان کے علاوہ اطراف واکناف علاقے سے شرکت کرتے تھے ۔ 50 سال تک مسجد میں درس تفسیر کا اہتمام فرماتے رہے اور اپنے مریدین و معتقدین کو علم شریعت سے آراستہ کرنے کے لئے تجوید کے قوائد ، علم صرف علم نحو ، وغیرہ علوم کی مشق آپ بورڈ پر کروایا کرتے تھے جس کی بدولت آج بھی آپ کے مریدین درس تفسیر دینے کی صلاحیت کے حامل ہیں ۔ حضرت قبلہ کے تمام مریدین و معتقدین نے آپ کو مرشد و کامل رہنما پایا اور آپ کی صحبت بابرکت سے علمی وروحانی فیض حاصل کیا حضرت قبلہ کے ظاہر اور باطن کو صاف ستھرا پایا، حضرت کے ارادت مندوں کو بامراد ہوتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ اور الحمد للہ آج بھی بسواکلیان میں آپ کے خلفاء مساجد میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ یہ سب حضرت افضل پیر کی تربیت کا نتیجہ ہے۔
ختم نبوت کے حوالے سے آپ کی خدمات :
حضرت قبلہ درس تفسیر ، حدیث ، فقہ کے علاوہ محافل نعت وغیرہ سے اہل ایمان کو جلا بخشتے رہے۔ بالخصوص آپ نے ختم نبوت کے حوالے سے بھی گراں قدر خطابات فرمائے ہیں چنانچہ بسواکلیان میں ایک وسیع میدان واقع ہے جس کو فتح میدان کہتے ہیں 1995 میں اسی میدان میں اتحاد بین المذاہب کے عنوان سے تمام مذاہب کے لوگ جمع تھے اور عظیم الشان پیمانے پر پروگرام منعقد کیا گیا تھا، جس میں حضرت افضل پیر کو بطور مقرر خصوصی مدعو کیا گیا تھا۔ کم و بیش 10 ہزار لوگوں کا مجموعہ تھا ، اس عظیم مجموعے میں آپ نے مدلل و جامع انداز میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبین ہونے کو واضح فرمادیا ، جو آپ کی جرات و حرارات ایمانی کی واضح دلیل ہے۔ بسواکلیان میں مرکزی جلوس و جلسه میلاد النبی ﷺ کی بنیاد: حضرت افضل پیر نے 8 جنوری 1982 میں میلاد النبی صلی
اللہ علیہ وسلم کے موقع پر جلوس میلاد النبی ﷺ کی بنیاد ڈالی جوا لحمد للہ آج بھی جاری و ساری ہے حضرت قبلہ نے جب اس جلوس کا آغاز فرمایا تھا اس وقت اس جلوس میں شریک رہنے والوں کی تعداد سینکڑوں میں تھی الحمد للہ آج ہزاروں کی تعداد اس جلوس میں شریک ہوتی ہے۔ الحمد للہ حضرت افضل پیر کے فرزند و جانشین تقدس مآب حضرت مولانا خواجہ ضیاء الحسن جا گیر دار صاحب قبلہ مدظلہ العالی بحیثیت متولی و سجاد نشین بارگاه حضرت راجہ باگ سوار ان تمام کاموں کو بحسن و خوبی انجام دینے میں ہمہ تن مصروف ہیں جس کو سیدی و مرشدی حضرت خواجہ ابوالحسن جا گیر در رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے حیات میں انجام دیا اور پروان چڑھایا۔ الحمد للہ آج بھی یہ جلوس بصد عقیدت و احترام منعقد ہوتا ہے جلوس کے اختتام پر عظیم الشان پیمانے پر جلسہ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم عمل میں لایا جاتا ہے جس میں مقامی علماء مشائخ کے علاوہ دیگر اضلاع سے مقررین کو مدعو کیا جاتا ہے۔ واعظین اہل سنت اپنے ایمان افروز خطابات سے عاشقان مصطفیﷺ کے قلوب کو منور و مجلی فرماتے ہیں۔ جلوس میلاد النبی ﷺ کے چراغ کو حضرت افضل پیر نے 46 سال پہلے روشن فرمایا تھا آج وہ پورے آب و تاب سے روشن و تاباں ہے ۔جشن میلاد النبی ﷺ کا اہتمام:
حضرت افضل پیر ماہ صفر المظفر کے آغاز ہی سے اپنے خطابات کے ذریعے ماہ میلاد کی عظمت و فضائل کے بیان کا آغاز فرماتے تھے ۔ اُس زمانے میں عوام میں عید میلاد کو بارہ وفات کہنا عام تھا۔ حضرت افضل پیر نے یہ شعور بیدار کیا کہ اہل سنت وفات نہیں بلکہ اپنے آقا کی حیات کے قائل ہیں ۔ آپ نے اپنے خطابات کے ذریعہ حیات النبیﷺ کا ثبوت پیش کیا۔ اور لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات ڈال دی کہ یہ عید میلاد ہی عیدوں کی عید ہے ۔ اسی تناظر میں آپ نے ایک سلام بھی لکھا یا حیات النبی سلام علیک اور اس سلام کو عام سے عام فرمایا جس سے لوگوں نے بارہ وفات کے بجائے عید میلاد کہنا شروع کر دیا ۔ اس طرح حیات النبیﷺ کے حوالے سے ایک بڑی تبدیلی آپ نے معاشرے میں لائی۔ اور پھر اپنے کچھ خاص مریدین معتقدین کے علاوہ شہر بسواکلیان کے سر گرم متحرک افراد کو لے کر مشاورت کرتے کہ جشن عید میلاد النبی و جلوس میلاد النبیﷺ کوکس طرح عظیم الشان پیمانے پر امن وامان کے ساتھ منایا جائے۔ تمام لوگ حضرت افضل پیر کے زرین مشوروں پر عمل کرتے ہوئے جلوس کو منظم کرنے کی فکر میں لگے رہتے ۔ اس وقت ڈیجیٹل بیانرس وغیرہ کا زمانہ تو نہیں تھا مگر بہترین خطاط کے ذریعہ بڑے پردے پر خوشنما تحریر سے جشن میلاد کے بیانرس و جھنڈے تیار کئے جاتے تھے۔ اور یہ سب تیاریاں حضرت افضل پیر کی سرپرستی میں احاطہ درگاہ حضرت شیر سوار میں انجام پاتی تھیں ۔ آپ تمام مریدین و معتقدین اور عوام کو جلوس میں شرکت کرنے کے آداب بیان فرماتے ۔ سب لوگ اس پر عمل کرتے ہوئے بصد عقیدت و احترام جلوس میں شرکت کرتے تھے۔ جب عید میلاد النبی ﷺ کا دن آتا تو تمام لوگ نماز ظہر سے قبل قلعہ بارگاہ حسین پہنچ جاتے۔ حضرت قبلہ کی امامت میں نماز ظہر ادا کی جاتی اور پھر وہاں سے جلوس میلاد النبی ﷺ نکلتا تھا۔ یہ جلوس شہر کی مختلف شاہ راہوں سے گذرتا ہوا چوک پر پہنچتا تھا۔ کچھ مقامات پر اہلیان محلہ اس جلوس کا استقبال کرتے حضرت قبلہ کی اور آپ کے ہمراہ معتقدین کی گلپوشی کرتے اور پھر حضرت قبلہ اس مقام پر رک کر اہلیان محلہ کے لئے خاص نصیحتیں فرماتے اور خصوصی دعاؤں سے نوازتے ۔ بے شمار لوگ آپ سے دعائیں لینے کے لئے آپ کی دست بوسی فرماتے اور دعائیں لیتے ۔ اس طرح جلوس آگے بڑھتے رہتا لوگوں کے ہاتھ میں عید میلاد کی مبارکبادی کے جھنڈے ہوتے نعرہ تکبیر ورسالت کے علاوہ کلمہ طیبہ و مسنون دعاؤں کے ورد کے ساتھ یہ جلوس چوراہے پر پہنچتا۔ حضرت افضل پیر نے اس جلوس کو ہر سال پر امن طریقے سے اہل وطن کو ساتھ شامل کر کے منایا ہے۔ الحمد للہ آج بھی یہ جلوس جاری و ساری ہے۔
گزشتہ سال 1500 سالہ عظیم الشان جشن عید میلاد النبی صلی اللہ والہ وسلم کے موقع پر46واں شاندار جلوس و جلسہ منایا گیا تھا. تقدس مآب پیر طریقت حضرت مولانا خواجہ ضیاء الحسن جاگیر دار صاحب قبلہ سجادہ نشین و متولی بارگاہ حضرت شیر سوار رحمۃ اللہ علیہ بسواکلیان کی سر پرستی ونگرانی میں شہر بسواکلیان کے 47 واں سالانہ جلوس عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں ۔ ان شاء اللہ اس مرتبہ شہر بسواکلیان میں جلوس عید میلاد النبی نہایت تزک و احتشام سے عظیم پیمانے پر منعقد کیا جائے گا۔ تمام مریدین و معتقدین و متوسلین بارگاه حضرت شیر سوار بسواکلیان کے علاوہ تمام عوام اہل سنت سے خصوصی گزارش ہے کہ اس جلوس میں بصد عقیدت و احترام شرکت کریں۔
عشقِ سرکار کلیجے سے لگائے رکھنا 
یہی ایمان ہے ایمان بچائے رکھنا  
بھول نہ جائے کوئی آمدِ میلادِ نبی  
عیدِ میلادِ نبی کرتے مناتے رہنا

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔