افسانہ - وطن کی خاطر - ازقلم: رہبر تماپوری


 افسانہ - 
 وطن کی خاطر - 
ازقلم: رہبر تماپوری - 
(مہمان معلم، جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم, جامعہ نگر، تماپور، تعلقہ شوراپور، ضلع یادگیر، ریاستِ کرناٹک)
رابطہ: 8431012141

گاؤں کی آخری بستی میں جمیل کا ایک چھوٹا سا کچا گھر تھا۔ کچی دیواریں، ٹین کی چھت اور صحن کے ایک کونے میں نیم کا بوڑھا درخت۔ گھر میں آسائشیں کم تھیں، مگر دعاؤں، دیانت اور باہمی خلوص کی کوئی کمی نہ تھی۔ جمیل کے والد احمد حسین پرہیزگار اور سادہ مزاج انسان تھے۔ محنت مزدوری کرکے حلال کی چند روٹیوں کا انتظام کرتے۔ جمیل ان کی اکلوتی اولاد تھا، اس لیے بڑھاپے کی ساری امیدیں اسی سے وابستہ تھیں۔

گاؤں کا اسکول تھا، مگر اساتذہ کی کمی، کتابوں کی نایابی اور مناسب رہنمائی نہ ہونے کے باعث اکثر نوجوان دسویں یا بارہویں کے بعد روزگار کی تلاش میں شہروں کا رخ کرتے۔ سرکاری ملازمتوں اور فوجی بھرتی کی اطلاعات بھی گاؤں تک پہنچتے پہنچتے پرانی ہوجاتیں۔

مگر جمیل کی آنکھوں میں ایک خواب تھا: فوج میں شامل ہوکر وطن کی خدمت کرنا۔

ایک صبح فجر کے فوراً بعد وہ دوڑنے کے لیے گھر سے نکلنے لگا تو احمد حسین نے اسے پکارا:

’’بیٹا! اتنی صبح کہاں جا رہے ہو؟‘‘

’’ابا! دوڑنے۔ فوج کی بھرتی کی تیاری کر رہا ہوں۔‘‘

’’فوج؟‘‘

’’جی ابا! اپنے حالات کا ماتم کرنے سے بہتر ہے کہ اپنی جوانی کسی مقصد کے لیے وقف کردوں۔‘‘

احمد حسین نے بیٹے کو غور سے دیکھا۔

’’بیٹا! وطن کی خدمت بڑی سعادت ہے، لیکن یہ راستہ آسان نہیں۔ صرف خواہش کافی نہیں ہوتی؛ علم، محنت، صبر اور صحیح رہنمائی بھی چاہیے۔‘‘

’’میں سب حاصل کرنے کی کوشش کروں گا، ابا!‘‘

اس دن کے بعد جمیل کی زندگی بدل گئی۔ وہ فجر سے پہلے اٹھتا، نماز ادا کرتا، کئی کلومیٹر دوڑتا، والد کے کام میں ہاتھ بٹاتا اور رات کو کتابیں پڑھتا۔ کبھی مزدوری کے باعث جسم تھک کر چور ہوجاتا، مگر کتاب بند کرنے سے پہلے وہ خود سے کہتا:

’’ایک دن یہی محنت میرا راستہ بنے گی۔‘‘

گاؤں کے کچھ لوگ اس کا مذاق اڑاتے۔

’’فوجی بننے کی تیاری؟ وہاں بڑے بڑے سورما ناکام ہوجاتے ہیں!‘‘

جمیل مسکرا کر کہتا:

’’اسی لیے تو کھیل سمجھ کر نہیں، محنت کرکے تیاری کر رہا ہوں۔‘‘

بھرتی کے طریقۂ کار کی مکمل معلومات نہ ہونے کے باعث اسے بار بار دور کے قصبے کا سفر کرنا پڑتا۔ کبھی فارم کی کوئی شرط سمجھ میں نہ آتی، کبھی کسی دستاویز کی کمی رہ جاتی۔ ایک دن اس نے والد سے پوچھا:

’’ابا! کیا واقعی ہمارے جیسوں کے لیے مواقع کم ہیں؟‘‘

احمد حسین نے کچھ دیر خاموش رہ کر کہا:

’’رکاوٹیں ضرور ہوتی ہیں، بیٹا، مگر ہر رکاوٹ کو تعصب کا نام دے کر بیٹھ جانا بھی درست نہیں۔ تم اس ملک کے شہری ہو۔ اپنی دیانت اور محنت سے اپنا حق حاصل کرنے کی کوشش کرو۔‘‘

یہ بات جمیل کے دل میں اتر گئی۔

بالآخر بھرتی کی تاریخ آگئی۔ مرکز شہر میں تھا۔ سفر کے اخراجات کے لیے احمد حسین نے اپنی محدود جمع پونجی میں سے چند نوٹ نکال کر بیٹے کی ہتھیلی پر رکھ دیے۔

جمیل نے رقم لینے کے بجائے والد کے ہاتھ تھام لیے۔

’’آپ کی دعا اس رقم سے کہیں بڑی ہے، ابا۔‘‘

بھرتی مرکز پر نوجوانوں کا ہجوم تھا۔ جسمانی امتحان میں دوڑ کے آخری مرحلے پر جمیل کے پاؤں جواب دینے لگے۔ سانس دھونکنی کی طرح چل رہی تھی۔ ایک لمحے کے لیے اسے لگا کہ شاید وہ رک جائے، مگر احمد حسین کی آواز جیسے کانوں میں گونجی:

’’صرف خواہش کافی نہیں ہوتی۔‘‘

وہ پوری قوت سے دوڑا اور خطِ اختتام عبور کرگیا۔

پھر تحریری امتحان آیا۔ کئی سوالات اس کے لیے مشکل تھے۔ اس نے پرچہ تو مکمل کیا، مگر دل کے کسی گوشے میں اسے اپنی کمزوری کا احساس ہوچکا تھا۔

نتیجہ آیا تو اس کا نام کامیاب امیدواروں میں نہیں تھا۔

گھر واپسی کا راستہ اسے معمول سے کہیں زیادہ طویل محسوس ہوا۔ جس خواب کو وہ سینے میں لیے دوڑتا رہا تھا، وہ ایک کاغذ کے ٹکڑے پر ناکام لکھ دیا گیا تھا۔ رات بھر وہ نیم کے درخت کے نیچے بیٹھا رہا۔ کبھی آسمان دیکھتا، کبھی اپنی کتابوں کو۔ ایک لمحے کو خیال آیا کہ شاید گاؤں والوں کی بات درست تھی۔

پھر اسے والد کی بات یاد آئی:

’’اپنا حق حاصل کرنے کی کوشش کرو۔‘‘

صبح احمد حسین اس کے پاس آئے۔

’’ناکام ہوگئے؟‘‘

جمیل نے خاموشی سے سر جھکا دیا۔

’’اب کیا کرو گے؟‘‘

کچھ دیر بعد جمیل نے سر اٹھایا۔

’’دوبارہ کوشش، ابا! مگر اس بار اپنی کمزوری کو شکست دے کر۔‘‘

احمد حسین کی آنکھوں میں اطمینان اتر آیا۔

’’بس، مجھے یہی جواب چاہیے تھا۔‘‘

اس کے بعد جمیل نے اپنی شکست کو شکایت نہیں، سبق بنا لیا۔ اس نے کمزور مضامین کے لیے کتابیں جمع کیں، قصبے کے ایک استاد سے رہنمائی لی اور روزانہ کے معمول میں پڑھائی کے لیے اضافی وقت نکالا۔ وہ رات بھر مسلسل محنت کرتا، مشکل اسباق کو بار بار پڑھتا، سوالات حل کرتا اور اپنی کمزوریوں کو دور کرنے میں لگا رہتا۔ تھکن اسے بستر تک لے جاتی، مگر اس کا عزم اسے اگلی صبح پھر وقت سے پہلے جگا دیتا۔

دوسری بار اس نے امتحان دیا۔

چند ماہ بعد نتیجہ آیا۔ اس بار جمیل کامیاب تھا۔

گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ماں کی آنکھوں میں خوشی کے ساتھ جدائی کا خوف بھی تھا۔

’’بیٹا! اب تم ہم سے دور چلے جاؤ گے؟‘‘

جمیل نے اس کے ہاتھ تھام لیے۔

’’امی! دور ضرور جاؤں گا، مگر آپ کی دعاؤں سے کبھی دور نہیں ہوں گا۔‘‘

تربیتی مرکز میں پہنچ کر اسے معلوم ہوا کہ اصل آزمائش ابھی باقی ہے۔ صبح چار بجے کا بگل، سخت مشق، دوڑ، دھوپ اور نظم و ضبط نے اسے کئی بار اندر سے توڑ دیا۔

ایک رات عمران نے تھکی ہوئی آواز میں کہا:

’’جمیل! کبھی کبھی دل چاہتا ہے سب چھوڑ کر گھر واپس چلا جاؤں۔‘‘

جمیل نے مسکرا کر جواب دیا:

’’مشکل ہمیں توڑنے نہیں، مضبوط بنانے آئی ہے۔ ہم نے آسان زندگی کے لیے یہ راستہ چنا ہی نہیں تھا۔‘‘

وقت کے ساتھ جمیل نے اپنے جسم کے ساتھ اپنے حوصلے کو بھی مضبوط کرلیا۔

تربیت مکمل ہوئی تو اس کی شادی ثریا سے ہوگئی۔ رخصتی کے وقت ثریا نے صرف اتنا کہا:

’’آپ جہاں بھی رہیں، اپنے فرض سے کبھی پیچھے نہ ہٹیں۔ میں انتظار کرنا سیکھ لوں گی۔‘‘

جمیل نے اس جملے کو دل میں محفوظ کرلیا۔

کچھ ہی عرصے بعد اس کی تعیناتی ایک حساس اور شدید سرد سرحدی علاقے میں ہوگئی۔ برفانی ہوائیں، طویل راتیں اور گھر سے میلوں کی دوری اس کی زندگی کا حصہ بن گئیں۔ کبھی ڈیوٹی کے دوران اسے ماں کی آواز، والد کا چہرہ اور ثریا کی خاموش آنکھیں یاد آتیں، مگر وہ خود کو سنبھال لیتا:

’’فرض پہلے۔‘‘

ایک رات اچانک فضا گولیوں کی آواز سے گونج اٹھی۔ دشمن کی جانب سے گولا باری شروع ہوگئی۔ اسی دوران عمران گولی لگنے سے کھلے میدان میں گرپڑا۔

’’جمیل! مجھے چھوڑ دو، اپنی پوزیشن سنبھالو!‘‘ عمران نے درد سے چیخ کر کہا۔

جمیل نے جواب دیا:

’’ہم ایک دوسرے کو چھوڑنے کے لیے اس وردی میں نہیں آئے!‘‘

وہ گولیوں کی بوچھاڑ میں برف پر رینگتا ہوا عمران تک پہنچا۔ اسے کندھے پر اٹھایا اور زخمی بازو کی پروا کیے بغیر محفوظ بنکر تک پہنچا دیا۔ پھر واپس اپنی پوزیشن پر آکر ڈٹ گیا۔ کمک پہنچنے تک اس نے چوکی کی حفاظت میں اپنا فرض نبھایا۔

صبح ہوئی تو برف پر خون کے چند دھبے باقی تھے، مگر چوکی محفوظ تھی اور عمران کی سانسیں چل رہی تھیں۔

چند ماہ بعد دارالحکومت کے ایک عظیم الشان ہال میں صوبیدار جمیل احمد کا نام پکارا گیا۔ اسے غیر معمولی بہادری اور فرض شناسی پر حکومتی اعزاز سے نوازا گیا۔

اسٹیج پر کھڑے جمیل کی نگاہیں پہلی قطار میں بیٹھے اپنے والدین پر تھیں۔ احمد حسین کا سادہ کُرتا اور ماں کی معمولی چادر اسٹیج کی تمام چمک دمک پر بھاری تھی۔

تقریب کے بعد جمیل اسٹیج سے نیچے اترا اور سیدھا اپنے والد کے پاس پہنچا۔ اس نے جھک کر احمد حسین کے ہاتھ چومے اور پھر انہیں سینے سے لگا لیا۔ احمد حسین کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آگئے۔

’’جمیل! آج تو نے ہمارا سر فخر سے بلند کردیا۔‘‘

جمیل نے نم آنکھوں سے کہا:

’’ابا! میں نے تو بس اپنا فرض ادا کیا ہے۔‘‘

احمد حسین نے اس کا شانہ تھپتھپایا:

’’فرض کو دیانت سے ادا کرنا ہی تو اصل بہادری ہے، میرے بیٹے!‘‘

جمیل نے دور لہراتے ہوئے قومی پرچم کو دیکھا۔ اسے اپنی کچی بستی، نیم کا درخت، رات بھر کی محنت، پہلی ناکامی، والد کی نصیحت، ماں کی دعائیں، ثریا کا انتظار اور عمران کی آواز سب ایک ساتھ یاد آگئے۔

اس نے خاموشی سے پرچم کو سلامی دی۔

ہوا کا ایک جھونکا آیا تو پرچم پوری شان سے لہرا اٹھا۔

جمیل کی آنکھوں میں نمی تھی، مگر چہرے پر اطمینان۔ اسے محسوس ہوا جیسے اس لہراتے ہوئے پرچم نے اس سے کہا ہو:

’’ابھی سفر باقی ہے۔‘‘

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔