کہانی - موبائل نہیں، کتاب - ازقلم: رہبر تماپوری۔
کہانی - موبائل نہیں، کتاب -
ازقلم: رہبر تماپوری۔
رابطہ: 8431012141
صبح کی نرم دھوپ صحن میں پھیل رہی تھی۔ دادا جان اپنی پرانی آرام کرسی پر بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔ کبھی کسی خبر پر غور کرتے، کبھی عینک اتار کر دور دیکھتے اور پھر صفحات پلٹنے لگتے۔ اتنے میں مدثر اسکول جانے کے لیے تیار، ایک ہاتھ میں موبائل اور دوسرے ہاتھ میں آدھی کھائی ہوئی روٹی لیے کمرے سے باہر آیا۔
“مدثر! پہلے ناشتہ مکمل کر لو، پھر اسکول جانا ہے،” امی نے کہا۔
“بس امی! ایک منٹ، یہ ویڈیو دیکھنا بہت ضروری ہے۔”
دادا جان مسکرائے۔ “بیٹا، ویڈیو میں ایسا کیا ہے؟”
مدثر نے فخر سے جواب دیا، “دنیا بھر کی معلومات! اب کتابیں کون پڑھتا ہے؟ گوگل اور چیٹ جی پی ٹی سے ہر جواب فوراً مل جاتا ہے۔”
دادا جان نے اخبار تہہ کیا۔ “یہ اچھی بات ہے کہ تم نئی چیزیں سیکھتے ہو۔ کبھی مجھے بھی کوئی مفید بات دکھا دینا۔”
مدثر حیران ہوا۔ اسے توقع تھی کہ دادا جان اسے ڈانٹیں گے، مگر وہ خاموش رہے۔
مدثر کی چھوٹی بہن پری صحن میں گڑیا سے کھیل رہی تھی۔ کچھ دیر بعد اس نے امی کا موبائل اٹھایا اور کارٹون دیکھنے لگی۔ دونوں بہن بھائی اکثر موبائل اور ٹی وی میں مصروف رہتے۔ کتابیں ان کی میز پر سجی رہتیں، مگر بہت کم کھلتی تھیں۔
چند دن بعد اسکول میں تقریری مقابلے کا اعلان ہوا۔ موضوع تھا: “علم کی اہمیت”۔
مدثر نے موبائل پر تقریر تلاش کی۔ چند لمحوں میں اسے ایک لمبی تقریر مل گئی۔ اس نے اسے جلدی جلدی رٹ لیا اور مطمئن ہو گیا۔
دادا جان نے پوچھا، “تقریر کی تیاری کیسی چل رہی ہے؟”
“بہت آسان ہے، دادا جان! سب کچھ موبائل میں موجود ہے۔”
دادا جان نے کہا، “اچھی بات ہے، مگر جو بات سمجھ کر پڑھی جائے، وہ اپنے الفاظ بن جاتی ہے۔”
مقابلے کے دن مدثر پُراعتماد انداز میں اسٹیج پر پہنچا۔ اس نے دو جملے بولے، پھر اچانک خاموش ہو گیا۔ اسے اگلی سطریں یاد نہ رہیں۔ اس نے سامعین کی طرف دیکھا، نظریں جھکا لیں اور مایوس ہو کر اسٹیج سے اتر آیا۔
گھر پہنچ کر وہ چپ چاپ ایک کونے میں بیٹھ گیا۔
دادا جان اس کے پاس آئے۔ “آج اسکول میں کیا ہوا؟”
مدثر نے اداسی سے کہا، “میں تقریر بھول گیا۔”
“کیا تم نے موضوع کو سمجھا تھا؟”
“نہیں، میں نے صرف موبائل سے ملنے والے جملے یاد کیے تھے۔”
دادا جان نے میز سے ایک کتاب اٹھائی۔ “جب میں تمہاری عمر کا تھا تو سبق کئی بار پڑھتا، اہم باتیں لکھتا اور پھر اپنے الفاظ میں سناتا تھا۔ شاید اسی لیے وہ بات دیر تک ذہن میں رہتی تھی۔”
مدثر نے کتاب کے چند صفحات پڑھے۔ دادا جان نے مشکل الفاظ سمجھاتے ہوئے کہا، “موبائل جواب جلدی دیتا ہے، مگر کتاب جواب کے پیچھے کی بات بھی سمجھاتی ہے۔”
اگلے دن امی نے مدثر اور پری کو دکان سے دودھ اور ترکاری لانے بھیجا۔ دکاندار نے سامان دے کر کچھ رقم واپس کی۔
مدثر نے رقم گنی، مگر حساب سمجھ میں نہ آیا۔ اس نے موبائل نکالا تو بیٹری ختم تھی۔
“پری! تم بتاؤ، کتنے روپے واپس ملنے چاہییں؟”
پری نے کندھے اچکائے۔ “مجھے نہیں معلوم۔”
دکاندار نے مسکرا کر انہیں حساب سمجھایا۔ گھر آکر مدثر نے کہا، “دادا جان! اگر موبائل بند نہ ہوتا تو ہم فوراً حساب کر لیتے۔”
دادا جان ہنسے۔ “موبائل مدد ضرور کرتا ہے، مگر ہر جگہ بیٹری، انٹرنیٹ یا موبائل ساتھ نہیں ہوتا۔ انسان کو اپنے ذہن سے بھی سوچنا چاہیے۔”
پھر انہوں نے کتاب سے چند آسان سوال حل کروائے۔ مدثر نے جواب کاپی میں لکھا اور پری نے اسے دہرایا۔ کچھ ہی دیر میں دونوں خود سوال حل کرنے لگے۔
دن گزرتے گئے۔ مدثر کو سر درد اور آنکھوں میں جلن رہنے لگی۔ پری بھی زیادہ دیر اسکرین دیکھنے کے بعد آنکھیں ملنے لگتی۔ ایک شام دادا جان انہیں باغ میں لے گئے۔
مدثر نے پوچھا، “دادا جان! آپ اتنی عمر میں بھی تندرست کیسے رہتے ہیں؟”
دادا جان نے جواب دیا، “میں بھی موبائل استعمال کرتا ہوں، مگر ضروری معلومات کے لیے اور مقررہ وقت تک۔ باقی وقت کتاب، ورزش، گفتگو اور دوسرے کاموں کے لیے ہوتا ہے۔”
اس دن سے گھر میں نیا معمول بن گیا۔ موبائل کا استعمال ضروری کاموں، تعلیم اور محدود تفریح تک رکھا گیا۔ روزانہ کچھ وقت کتاب پڑھنے، لکھنے، کھیلنے اور گھر والوں کے ساتھ بات کرنے کے لیے مقرر ہوا۔
کچھ ہفتوں بعد اسکول میں دوبارہ تقریری مقابلہ ہوا۔ اس بار مدثر نے کتابوں سے موضوع سمجھا، اہم نکات کاپی میں لکھے اور دادا جان کے سامنے اپنی زبان میں مشق کی۔
اسٹیج پر پہنچ کر وہ پُرسکون تھا۔ ایک جگہ اسے جملہ بھول گیا، مگر اس نے اپنے الفاظ میں بات آگے بڑھا دی۔ تقریر مکمل ہوتے ہی ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔
گھر آکر اس نے خوشی سے کہا، “دادا جان! اب سمجھ گیا ہوں کہ موبائل معلومات دیتا ہے، لیکن کتاب سوچنا، سمجھنا اور اپنے ذہن سے مسئلے حل کرنا سکھاتی ہے۔”
دادا جان نے محبت سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“بیٹا! موبائل کو اپنا مددگار بناؤ، اپنی عادت نہیں؛ اور کتاب کو بوجھ نہیں، اپنا دوست سمجھو۔”
پری نے اپنی کتاب کھولی اور بولی، “میں بھی آج سے پہلے تھوڑا پڑھوں گی، پھر کارٹون دیکھوں گی!”
صحن میں سب کی ہنسی گونج اٹھی۔ دادا جان نے اخبار کا ایک صفحہ مدثر کو دیا۔
“آؤ، آج کی ایک خبر مل کر سمجھتے ہیں۔”
مدثر نے اخبار ہاتھ میں لیا۔ اس دن اس نے صرف الفاظ نہیں پڑھے، بلکہ ان کے معنی بھی سمجھے۔
Comments
Post a Comment