کہانی - خاموش آنگن۔ - از قلم: رہبر تماپوری۔


کہانی - 
 خاموش آنگن
از قلم: رہبر تماپوری۔
مہمان معلم، جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم
جامعہ نگر، تماپور، تعلقہ شوراپور، ضلع یادگیر، ریاستِ کرناٹک
رابطہ: 8431012141

فجر کی نماز، تلاوت اور تسبیح سے فارغ ہو کر عبدالحمید نیم کے درخت کے نیچے آ بیٹھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وقت جیسے وہیں ٹھہر گیا تھا۔ کبھی قرآن کھولتا، کبھی تسبیح کے دانے گنتا۔

نیم کی ٹھنڈی چھاؤں نے اسے ماضی میں پہنچا دیا۔ پلکیں بوجھل ہوئیں تو اسے وہی آنگن آباد دکھائی دیا۔ عائشہ گڑیا لیے کھیل رہی تھی۔ فہد ہاتھ میں بلا لیے شور مچا رہا تھا، ’’ابا! گیند ادھر پھینکیے!‘‘ چھوٹا بیٹا ماں کے پیچھے چھپ کر ہنس رہا تھا۔ زینب بچوں کو دیکھ کر کہہ رہی تھی، ’’آہستہ کھیلو، آنگن نہ اجاڑ دینا!‘‘

اچانک آنکھ کھل گئی۔

سامنے وہی آنگن تھا، مگر خاموش۔ نیم کی پتیاں ہوا کے ساتھ سرسرا رہی تھیں۔ دیوار پر بچوں کے قد ناپنے کی لکیریں اب بھی محفوظ تھیں۔ اس نے ایک لکیر پر انگلی پھیری اور زیر لب بولا، ’’وقت نشان تو چھوڑ جاتا ہے، لوگ نہیں۔‘‘

کبھی یہی آنگن بچوں کی ہنسی، چڑیوں کے چہچہانے اور گفتگو سے گونجتا تھا۔ شام ہوتے ہی سب ایک جگہ بیٹھتے، کھانا بانٹتے اور دن بھر کی باتیں کرتے۔ وسائل کم تھے، مگر دل قریب تھے۔

پھر وقت بدل گیا۔ عائشہ شادی کے بعد دوسرے شہر چلی گئی۔ فہد ملازمت کے لیے شہر منتقل ہوگیا۔ چھوٹا بیٹا اعلیٰ تعلیم میں مصروف ہوگیا۔ گھر میں ٹی وی اور موبائل آگئے۔ کمرے آباد ہوگئے، مگر آنگن ویران ہوتا گیا۔

اب عبدالحمید کو گھر کے بیشتر کام خود کرنے پڑتے تھے۔ زینب چائے بناتی، پودوں کو پانی دیتی اور شوہر کی تھکن سمجھ لیتی۔ دونوں ایک دوسرے کا سہارا تھے۔

شام کو عائشہ کا فون آتا۔ وہ ماں کا حال پوچھتی، پھر کہتی، ’’امی! ابا کو کہنا، دوا بھولیں تو نہیں؟‘‘ عبدالحمید مسکرا دیتا۔ عائشہ کہتی، ’’ابا، آپ کی خاموشی بھی جواب دے دیتی ہے۔‘‘

فہد بھی کبھی فون کرکے کہتا، ’’ابا! ہمارے پاس آکر رہیں۔‘‘ عبدالحمید کہتا، ’’بیٹا، شہر کی بھیڑ ہمیں کہاں راس آئے گی؟ یہاں تمہاری ماں ہے، نیم کی چھاؤں ہے، اور تمہاری بچپن کی آوازیں بھی۔‘‘

ایک شام زینب نے پوچھا، ’’آپ بچوں سے ناراض تو نہیں؟‘‘

عبدالحمید نے آنگن کی طرف دیکھا، ’’نہیں زینب! وہ دور ضرور ہیں، بے وفا نہیں۔ زمانہ انہیں اپنے ساتھ بہا لے گیا ہے۔‘‘

اسی وقت موبائل بجا۔ چھوٹا بیٹا تھا۔

’’ابا! آج امتحان ختم ہوا تو آپ یاد آئے۔‘‘

عبدالحمید کی آواز بھرّا گئی، ’’بیٹا، ہمیں تو ہر روز تم یاد آتے ہیں، بس تمہاری آواز کبھی کبھی آتی ہے۔‘‘

بیٹے نے کہا، ’’پڑھائی ختم ہونے دیں، میں سب سے پہلے اسی آنگن میں آکر بیٹھوں گا۔‘‘

فون بند ہوا تو عائشہ کا پیغام آیا اور فہد نے اگلے ہفتے آنے کا وعدہ کیا۔

زینب نے نیم کے پتوں کی طرف دیکھ کر کہا، ’’دیکھا! بچے دور ہیں، مگر یہ آنگن اب بھی سب کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔‘‘

عبدالحمید نے اس کا ہاتھ تھام لیا، ’’ہاں، گھر دیواروں سے نہیں، انتظار سے آباد رہتا ہے۔‘‘

نیم کے پتے سرسرائے۔ آنگن خاموش تھا، مگر اس خاموشی میں تینوں بچوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔