اقلیت تحفظ سنگھرش سمیتی: مہاراشٹر میں آئینی حقوق کی ایک نئی عوامی تحریک - سیاسی تجزیہ - از قلم : سید فاروق احمد قادری۔
اقلیت تحفظ سنگھرش سمیتی: مہاراشٹر میں آئینی حقوق کی ایک نئی عوامی تحریک -
سیاسی تجزیہ -
از قلم : سید فاروق احمد قادری۔
مہاراشٹر میں اقلیتوں کے آئینی، تعلیمی، سماجی اور معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک نئی منظم عوامی تحریک ابھر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں 8 اگست 2026 کو بیڑ کے جی این فنکشن ہال میں اقلیت تحفظ سنگھرش سمیتی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ریاست کے مختلف اضلاع سے علماء، وکلاء، دانشور، سماجی کارکن، نوجوان اور مختلف اقلیتی طبقات کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس کی صدارت ایڈوکیٹ محمد الیاس انعامدار نے کی، جو اقلیت تحفظ سنگھرش سمیتی کے بانی اور صدر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ تحریک کسی ایک مذہب یا جماعت کی نہیں بلکہ تمام اقلیتوں کے آئینی، تعلیمی، سماجی اور معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے قائم کی گئی ہے۔ اس کا مقصد آئینِ ہند کے دائرے میں رہتے ہوئے حکومت تک اقلیتوں کی آواز پہنچانا ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ 20 جون 2026 کو ممبئی کے آزاد میدان میں اقلیتوں کے حقوق کے مطالبے پر ایک بڑا پرامن دھرنا دیا گیا، جس میں مہاراشٹر بھر سے ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ اس موقع پر حکومت کے نام ایک تفصیلی یادداشت پیش کی گئی، جس میں اقلیتوں کو درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے مطالبات شامل تھے۔
اجلاس میں تنظیم کو مہاراشٹر کے ہر ضلع، ہر تحصیل اور ہر گاؤں تک پہنچانے کا عزم ظاہر کیا گیا۔ اس موقع پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات موجود تھیں، جبکہ معروف قلم کار اور صحافی سید فاروق احمد قادری کو خصوصی مہمان کی حیثیت سے مدعو کیا گیا۔ اظہارِ خیال کی دعوت کے باوجود انہوں نے معذرت کرتے ہوئے تحریک کی کامیابی کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
2014 کے بعد ملک کے سیاسی اور سماجی حالات میں آنے والی تبدیلیوں نے اقلیتوں میں اپنے آئینی حقوق کے حوالے سے تشویش پیدا کی ہے۔ ایسے حالات میں نوجوانوں کی آئینی، جمہوری اور پرامن جدوجہد امید کی ایک نئی کرن بن کر سامنے آئی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں مسلمانوں، خصوصاً علمائے کرام نے بے مثال قربانیاں پیش کیں۔ آج بھی وقت کا تقاضا ہے کہ علماء، دینی مدارس، جماعتِ علماء، تبلیغی جماعت اور دیگر ملی و سماجی تنظیمیں نوجوانوں کی اس آئینی جدوجہد کی اخلاقی حوصلہ افزائی کریں اور اتحاد کا پیغام دیں۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ 17 ستمبر، مراٹھواڑہ مکتی سنگرام دن کے موقع پر سمبھاجی نگر (سابق اورنگ آباد) میں منعقد ہونے والی ریاستی تقریب میں اقلیت تحفظ سنگھرش سمیتی کے نمائندے وفد شرکت کریں گے۔ اسی موقع پر سمیتی کے صدر ایڈوکیٹ محمد الیاس انعامدار وزیرِ اعلیٰ، نائب وزرائے اعلیٰ اور دیگر اعلیٰ حکام کو اقلیتوں کے مسائل پر مشتمل ایک تفصیلی میمورنڈم پیش کریں گے۔
17 ستمبر 1948 کو حیدرآباد ریاست کا ہندوستانی یونین میں انضمام عمل میں آیا، جس کے بعد مراٹھواڑہ ہندوستان کا حصہ بنا۔ اسی مناسبت سے ہر سال مراٹھواڑہ میں سرکاری سطح پر مراٹھواڑہ مکتی سنگرام دن منایا جاتا ہے۔ سمبھاجی نگر میں ہونے والی مرکزی تقریب میں وزیرِ اعلیٰ، نائب وزرائے اعلیٰ، وزراء، ارکانِ پارلیمان، ارکانِ اسمبلی اور اعلیٰ حکام شریک ہوتے ہیں۔ اسی لیے سمیتی نے اس موقع کو اپنے آئینی مطالبات پیش کرنے کے لیے منتخب کیا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اقلیت تحفظ سنگھرش سمیتی کسی ایک مذہب یا برادری کی تنظیم نہیں بلکہ تمام اقلیتوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کی مشترکہ تحریک ہے۔ ہندوستان کی ترقی، قومی یکجہتی اور آئین کی بالادستی اسی وقت مضبوط ہوگی جب تمام شہریوں کو مساوی حقوق اور انصاف حاصل ہوگا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام اقلیتی طبقات، علماء، دانشور، سماجی کارکن، نوجوان اور انصاف پسند شہری اس پرامن اور آئینی جدوجہد میں اپنا اخلاقی تعاون پیش کریں۔
اللہ تعالیٰ اس تحریک کو کامیابی عطا فرمائے، اس کے ذمہ داران اور نوجوانوں کو استقامت عطا فرمائے، اور ہمارے ملک میں انصاف، اتحاد اور بھائی چارے کی فضا کو مضبوط بنائے۔
آمین یا رب العالمین
Comments
Post a Comment