موبائل کی اسکرین سے گھروں کی بربادی تک، آن لائن جوا اور برباد ہوتی نسلیں - ازقلم : اظہر ظہیر الدین کردمے، شریوردھن ضلع رایگڈھ۔


موبائل کی اسکرین سے گھروں کی بربادی تک، آن لائن جوا اور برباد ہوتی نسلیں - 
 ازقلم : اظہر ظہیر الدین کردمے، شریوردھن ضلع رایگڈھ۔

آج کے اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں جہاں انٹرنیٹ نے انسانی زندگی کو آسان بنایا ہے، وہیں اس کے منفی استعمال نے سماج میں ایک انتہائی خوفناک بحران کو بھی جنم دیا ہے۔ اس وقت 'آن لائن گیمنگ' اور 'آن لائن جوا' ایک ایسے ڈیجیٹل قاتل اور معاشی جال کے طور پر ابھرا ہے، جو خاموشی سے ہماری نئی نسل، نوجوانوں کے مستقبل اور ہزاروں خاندانوں کی خوشحالی کو برباد کر رہا ہے۔

آن لائن گیمنگ کی بھیانک وسعت: اعداد و شمار کی روشنی میں

اس ڈیجیٹل دلدل کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک میں اس وقت 1100 سے زائد آن لائن گیمنگ کمپنیاں سرگرمِ عمل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں 40 کروڑ سے زائد فعال (Active) صارفین آن لائن گیمنگ کا حصہ بن چکے ہیں۔ معاشی لحاظ سے دیکھا جائے تو ملک میں آن لائن جوئے اور سٹا بازی کا کاروبار 32 ہزار کروڑ روپے سے بھی زیادہ کی حد عبور کر چکا ہے۔ سمارٹ فونز کے بے تحاشا استعمال اور انٹرنیٹ کی آسان رسائی کی وجہ سے اس زہر میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

راتوں رات امیر بننے کا فریب اور معاشی و نفسیاتی تباہی

آن لائن گیمنگ ایپس اور ویب سائٹس پرکشش اشتہارات کے ذریعے نوجوانوں کو "شارٹ کٹ" سے تیزی سے پیسہ کمانے کا دلفریب خواب دکھاتی ہیں۔ شروعات میں کھلاڑی کو تھوڑی سی رقم جتوا کر لالچ دیا جاتا ہے، اور جیسے ہی وہ اس کا عادی ہو جاتا ہے، اس سے لاکھوں روپے ہڑپ لیے جاتے ہیں۔ لوگ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اور محنت کی کمائی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔

اس جوئے کا نتیجہ صرف معاشی نقصان تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کی وجہ سے:

خاندانی تباہی: خاندانوں کی خوشحالی اور رشتے برباد ہو رہے ہیں۔

نفسیاتی مسائل: نوجوان شدید ذہنی دباؤ، انتشار اور مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں۔

جرائم اور خودکشی: مالی نقصان پورا کرنے کے لیے لوگ مقروض ہو رہے ہیں، گھریلو جھگڑوں اور تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے، اور بعض اوقات مجبور ہو کر لوگ خودکشی جیسے تلخ قدم اٹھا رہے ہیں۔

آن لائن جوا اور سٹا بازی مخالف بل 2025: قانون کا شکنجہ

اس سنگین اور ابتر صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے "آن لائن جوا اور سٹا بازی مخالف بل 2025" منظور کر لیا گیا ہے اور صدرِ جمہوریہ کی منظوری کے بعد یہ نیا قانون نافذ العمل ہو چکا ہے۔ اس نئے قانون کے تحت انتہائی سخت سزائیں اور بھاری جرمانے عائد کیے گئے ہیں:

آن لائن جوئے کی ترغیب پر سزا: آن لائن جوئے یا سٹا بازی کی ترغیب دینے، کھلانے یا اس کے اشتہارات کی نشر و اشاعت پر 3 سال تک کی قید اور 1 کروڑ روپے تک کا بھاری جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔

غلط اشتہار بازی پر قانونی کارروائی:

 جوئے سے متعلق غلط یا گمراہ کن
 اشتہارات دینے پر 2 سال تک کی جیل اور 50 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد ہو سکتا ہے۔

عوامی بیداری اور ہماری ذمہ داری

حکومت کی جانب سے اس پیش کردہ سخت قانون کا ہر سطح پر خیرمقدم اور تعریف کی جا رہی ہے، لیکن صرف قانون سے اس وباء کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ والدین پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے موبائل استعمال کی نگرانی کریں، ان کے ساتھ مسلسل بات چیت رکھیں اور انہیں اس ڈیجیٹل دلدل سے دور رکھیں۔ آن لائن جوئے کو محض ایک تفریح سمجھنے کے بجائے ایک سماجی بیماری تسلیم کر کے اس کے خلاف اجتماعی جدوجہد وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

اظہر ظہیر الدین کردمے 
شریوردھن ضلع رایگڈھ

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔