مکالمہ - ’’ہندوستان اور اس کا شہری‘‘ - از قلم: رہبر تماپوری۔


مکالمہ - 
عنوان: ’’ہندوستان اور اس کا شہری‘‘ - 
از قلم: رہبر تماپوری۔
مہمان معلم، جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم
جامعہ نگر، تماپور، تعلقہ شوراپور، ضلع یادگیر، ریاستِ کرناٹک
رابطہ: 8431012141

(فہد اور مدثر پارک کی ایک بینچ پر بیٹھے ہیں۔)

فہد: مدثر! خبریں پڑھ کر سوچتا ہوں، اچھا شہری کسے کہتے ہیں؟ مگر عمل کتنا ہے؟

مدثر: (مسکراتے ہوئے) اچھا شہری وہ ہے جو اپنے فرائض سمجھتا ہو۔ صفائی رکھنا، پانی کی بچت، قومی املاک کی حفاظت اور حقوق کا احترام وطن سے وفاداری ہے۔

فہد: یعنی وطن سے محبت جھنڈا لہرانے اور نعرے لگانے تک محدود نہیں؟

مدثر: ہرگز نہیں۔ سچی محبت کردار سے ظاہر ہوتی ہے۔ اگر ہم قانون توڑیں، رشوت دیں یا کسی کا حق ماریں تو ہمارے دعوے بے معنی ہیں۔

فہد: (فکر مندی سے) قانون بنتا کیسے ہے؟ کیا صرف قانون بنا دینا کافی ہے؟

مدثر: نہیں۔ عوامی ضرورت کو سامنے رکھ کر قانون سازی کی جاتی ہے۔ نمائندے قانون بناتے، ادارے نافذ کرتے اور شہری پابندی کرتے ہیں۔ کامیابی تب ہے جب قانون سب پر یکساں لاگو ہو۔

فہد: ایمانداری کا اس نظام سے کیا تعلق ہے؟

مدثر: گہرا تعلق ہے۔ ایمانداری کا مطلب حق کو حق اور ناحق کو ناحق کہنا، رشوت اور دھوکے سے بچنا اور ذمہ داری پوری کرنا ہے، چاہے کوئی دیکھ رہا ہو یا نہیں۔

فہد: (اخبار کی طرف دیکھتے ہوئے) شہریوں کے حقوق بھی اہم ہیں۔ تعلیم، صحت، روزگار، انصاف اور تحفظ ضروری ہیں۔

مدثر: بالکل! معیاری تعلیم، قابلِ رسائی علاج، مناسب روزگار اور بروقت انصاف ضروری ہیں۔ روزگار کی کمی بھی بڑا مسئلہ ہے۔ حکومت کو ہنرمندی کے مواقع بڑھانے چاہئیں۔

فہد: عدالتیں تو موجود ہیں، مگر مقدمات برسوں چلتے ہیں۔ تو انصاف کیسے ملے؟

مدثر: انصاف کا ادارہ قائم ہونا کافی نہیں؛ انصاف بروقت اور مساوی بھی ہونا چاہیے۔ تاخیر عوام کا اعتماد کمزور کرتی ہے۔

فہد: پھر حکومت اور شہری کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟

مدثر: حکومت کا فرض ہے کہ امن قائم کرے، قانون نافذ کرے، سہولتیں دے اور حقوق کا تحفظ کرے۔ شہری کا فرض ہے کہ قانون کی پابندی کرے، ووٹ کا استعمال کرے، واجبات ادا کرے اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھے۔

فہد: اگر حکومت سے غلطی ہو تو کیا شہری خاموش رہے؟

مدثر: نہیں، اصلاح کے لیے تعمیری تنقید ضروری ہے۔ مگر تنقید کے ساتھ تعاون بھی ضروری ہے۔ حکومت اور شہری ملک کی ترقی کے شریک ہیں۔

فہد: (اطمینان سے) اب سمجھ آیا، شہریت صرف شناخت نہیں، ایک ذمہ داری بھی ہے۔

مدثر: بالکل! جب حکومت اور شہری اپنی ذمہ داریاں نبھائیں تو ہندوستان مضبوط ہوتا ہے۔

(دونوں مسکراتے ہوئے اٹھتے ہیں اور پُرعزم قدموں کے ساتھ پارک سے باہر نکل جاتے ہیں۔)

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔