تعارف - مجھ سے ملیے - ازقلم: رہبر تماپوری۔
تعارف -
مجھ سے ملیے -
ازقلم: رہبر تماپوری۔
ہر انسان اپنے اندر ایک کہانی لیے پھرتا ہے۔ کچھ کہانیاں منزلوں کی ہوتی ہیں اور کچھ مسلسل سفر کی۔ میری کہانی بھی ایک ایسے سفر کی داستان ہے جس میں راستے کئی بار بدلے، حالات نے آزمائشیں پیش کیں، مگر سیکھنے، سکھانے اور لکھنے کی جستجو کبھی ختم نہیں ہوئی۔
میرا اصل نام اطہر مبین ملا ہے اور قلمی نام رہبر تماپوری۔ میرا تعلق تماپور، تعلقہ شوراپور، ضلع یادگیر، ریاستِ کرناٹک سے ہے۔ تماپور میرے لیے صرف ایک بستی نہیں بلکہ میری شناخت، میری یادوں اور میرے فکری سفر کی پہلی سرزمین ہے۔ دکن اور حیدرآباد کرناٹک کی اس بستی میں شعر و ادب کی اپنی ایک روایت رہی ہے۔ میرے دادا جان اسماعیل پرویز، میرے چچا حامی تماپوری، میرے ماموں کے سالے معروف شاعر تنہا تماپوری اور والدِ محترم کے خاص دوست جوہر تماپوری سمیت دیگر اہلِ قلم کی صحبت نے میرے شعور میں ادب کی ابتدائی بنیادیں رکھیں۔ گھر کے ماحول میں اہلِ قلم کی آمد و رفت اور ادبی گفتگو نے میرے اندر لفظوں سے محبت پیدا کی۔ یوں قلم سے میرا رشتہ قلم ہاتھ میں آنے سے بہت پہلے قائم ہو چکا تھا۔
میری ابتدائی تعلیم الامین ہائر پرائمری اسکول، تماپور میں ہوئی۔ اس زمانے میں میں ایک اوسط درجے کا طالب علم تھا۔ ہائی اسکول میں داخل ہوا تو تعلیمی ماحول وسیع ہوا اور کئی ایسے اساتذہ ملے جنہوں نے میری سوچ کو نئی سمت دی۔ زرینہ سلطانہ، آمنہ فردوس، جلیل سر، محمد حسین سر اور بالخصوص میرے محترم استاد محمد مشتاق احمد ساقی تماپوری میرے تعلیمی سفر کے اہم کردار ہیں۔ مشتاق احمد ساقی صاحب نے مجھے ریاضی کو محض ایک مضمون نہیں بلکہ غور و فکر کا فن سمجھایا۔ ان کی رہنمائی اور میری محنت کا نتیجہ تھا کہ دسویں جماعت میں ریاضی کے مضمون میں 94 نمبر حاصل کیے۔ اسی دور میں اردو کا مختصر ڈراما ’’بچہ فیل کیوں کیا؟‘‘ پیش کرنے کا موقع ملا، جو میرے اندر موجود تخلیقی صلاحیت کے اظہار کی ابتدائی دستک تھی۔
دسویں جماعت کے بعد میرے تعلیمی سفر نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ میں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فاصلاتی تعلیم کے ذریعے PUC مکمل کیا۔ PUC کے بعد میں نے D.Ed کیا، جس نے مجھے درس و تدریس کے میدان میں آگے بڑھنے کے لیے تعلیمی بنیاد فراہم کی۔ اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے میں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فاصلاتی تعلیم کے ذریعے B.A. میں داخلہ لیا اور اس وقت B.A. فائنل ایئر میں زیرِ تعلیم ہوں۔ میرے نزدیک تعلیم کسی ایک ڈگری پر ختم ہونے والی چیز نہیں بلکہ مسلسل سیکھنے کا عمل ہے۔
والدِ محترم ظفر مبین ملا تماپوری میری زندگی میں رہنمائی اور حوصلہ افزائی کا ایک اہم ذریعہ رہے۔ ان کی نگرانی میں دینی و فکری تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ بورڈ آف اسلامک ایجوکیشن، جماعتِ اسلامی ہند سے مختلف مراحل میں دینی تعلیم حاصل کی۔ اردو، فارسی اور عربی کی تعلیم کے مختلف مراحل طے کیے۔ لوئر اور ہائر ڈرائنگ کے ڈپلومے بھی حاصل کیے اور مختلف تعلیمی و تخلیقی مقابلوں میں حصہ لیا۔ میرے لیے تعلیم صرف سند حاصل کرنے کا نام نہیں؛ یہ انسان کو زمانے کی حقیقت سمجھنے، حالات کو پرکھنے اور اپنی راہ تلاش کرنے کا شعور دیتی ہے۔
ادب کی طرف میرا سفر بھی اسی ماحول اور غور و فکر کا نتیجہ ہے۔ بچپن میں والدِ محترم سے بے شمار سوالات کرنا میری عادت تھی۔ وقت کے ساتھ سوال کم ہوئے، مگر غور و فکر بڑھتا گیا۔ والدِ محترم کے ادبی ذوق اور ان کے احباب کی گفتگو سے بھی بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ بعد میں مختلف شعرا اور اہلِ قلم سے ملاقاتیں ہوئیں۔ رفیق سوداگر یادگیری، اعظم اثر شاہ پور، ساجد حیات، اقبال راہی، شیدا رومانی رائچور، ڈاکٹر افتخار شکیل رائچور اور دیگر اہلِ قلم کی صحبت سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ میرے شاعری کے استاد فضل افضل یادگیری نے ابتدائی شعری سفر میں میری رہنمائی کی، جبکہ عرفان تماپوری سے بھی اردو کے حوالے سے وقتاً فوقتاً علمی مشورے ملتے رہے۔
سوشل میڈیا، خصوصاً فیس بک، نے بھی میرے ادبی سفر میں ایک مفید ذریعۂ سیکھنے کا کردار ادا کیا۔ فیس بک کے ذریعے ساحل تماپوری کی تحریروں اور ادبی گفتگو سے سننے، سمجھنے اور سیکھنے کا موقع ملا۔ ان کے خیالات اور اندازِ اظہار نے مجھے اپنے قلم پر مزید توجہ دینے اور اپنی بات کو بہتر انداز میں لکھنے کی تحریک دی۔ یوں کتابوں، اساتذہ، اہلِ قلم اور سوشل میڈیا، سب نے میرے ادبی ذوق کی تشکیل میں کسی نہ کسی درجے میں اپنا کردار ادا کیا۔
2016ء میں میری ایک غزل KBN کے ادبی ایڈیشن میں شائع ہوئی۔ یہ میرے لیے ایک چھوٹا سا مگر حوصلہ افزا سنگِ میل تھا۔ اس کے بعد ادبی سرگرمیاں آہستہ آہستہ بڑھتی گئیں۔ والدِ محترم کے انتقال کا صدمہ زندگی کا ایک بڑا موڑ ثابت ہوا۔ مجھے وطن چھوڑنا پڑا اور کچھ عرصے کے لیے تدریس سے دور ہونا پڑا۔
بنگلور میں روزگار کی تلاش نے مجھے زندگی کے ایک مختلف میدان سے روشناس کرایا۔ Day Fruit House، Burger King، The Lalit Mumbai، Green Park Hotel Bengaluru اور McDonald's جیسے اداروں میں کام کیا۔ ہاسپیٹلٹی مینجمنٹ کا ڈپلومہ حاصل کیا اور ہوٹل انڈسٹری کے عملی تجربات سے گزرا۔ اس مرحلے نے مجھے مختلف لوگوں، رویوں اور زندگی کے عملی مسائل کو قریب سے دیکھنے کا موقع دیا۔
بنگلور میں میری ادبی زندگی کو بھی نئی سمت ملی۔ معروف شاعر منیر احمد جامی سے ملاقات ہوئی اور مشاعروں و ادبی نشستوں میں شرکت کا سلسلہ شروع ہوا۔ بعد ازاں کرناٹک اردو اکیڈمی کی ’’نو مشقوں کی تربیت گاہِ شاعری و نثر‘‘ سے وابستہ ہوا، جہاں اہلِ ادب کی سرپرستی اور اصلاح نے میرے قلم کو فنی سمت عطا کی۔
صحافت بھی میرے ادبی سفر کا اہم حصہ ہے۔ مختلف علاقوں، ادبی محفلوں، سماجی پروگراموں اور تعلیمی سرگرمیوں کی رپورٹنگ کرتے ہوئے معاشرے کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ روزنامہ صدائے مہاراشٹر میں مستقل کالم نگاری کے علاوہ حقیقت ٹائمز بنگلور، بہمنی نیوز گلبرگہ اور انقلابِ دکن سمیت مختلف اخبارات و رسائل میں میرے مضامین، کالم، رپورٹیں اور دیگر تحریریں شائع ہوتی رہی ہیں۔ اس کے علاوہ وقتاً فوقتاً کئی دوسرے اخبارات و رسائل میں بھی میری تحریریں شائع ہوتی رہی ہیں۔ صحافت میرے لیے محض خبر یا مضمون لکھنے کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرے کے مختلف پہلوؤں کو قریب سے دیکھنے، مسائل کو سمجھنے اور انہیں قلم کے ذریعے سامنے لانے کا ایک وسیلہ ہے۔
آج میں دوبارہ درس و تدریس سے وابستہ ہوں اور جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم، تماپور میں ریاضی و سائنس پڑھا رہا ہوں۔ ساتھ ہی ادب، صحافت، تحقیق اور اپنی علمی تربیت کا سفر جاری ہے۔ ’’سب کی رہبری‘‘ کے نام سے غزلوں کا مجموعہ اور ’’تاریخِ یادگیر‘‘ زیرِ اشاعت ہیں۔ مجھے کرناٹک اردو اکیڈمی کا بہترین نثر نگار ایوارڈ 2025ء سمیت مختلف ادبی اعزازات بھی ملے ہیں، لیکن میرے نزدیک سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ سیکھنے کی خواہش آج بھی زندہ ہے۔
میں خود کو بڑا شاعر یا ادیب نہیں سمجھتا؛ میں آج بھی ایک طالب علم ہوں۔ میری خواہش ہے کہ اردو کی ضرورتوں کو سمجھتے ہوئے اردو ہی میں اپنے حصے کا کام کرتا رہوں اور میرا قلم حق، اخلاق، تعلیم اور انسانیت کی ترجمانی کرتا رہے۔
میری زندگی کا خلاصہ شاید میرے اپنے شعر میں پوشیدہ ہے:
لوگ پڑھتے تھے زر زمین زیور کے لیے
رہبر تو پڑھتا بس سیکھنے کے لیے
راستے بدلتے رہے، مگر سفر نہیں رکا؛ میں آج بھی سیکھ رہا ہوں، لکھ رہا ہوں اور سکھا رہا ہوں۔
Comments
Post a Comment