اردو ادب اب صرف عشق و محبت اور ہجر و وصال کا اسیر نہیں رہا، خواتین قلم کاروں نے ڈیجیٹل دنیا اور مصنوعی ذہانت کے نئے محاذ فتح کر لیے! - ویرا ناری چاکلی ایلما ویمنس یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے زیر اہتمام "دورِ حاضر کی خواتین اور اردو ادب" پر ایک اہم توسیعی لیکچر کا انعقاد۔


حیدرآباد، 12 اگست: ویرا ناری چاکلی ایلما ویمنس یونیورسٹی، کوٹھی، حیدرآباد کے شعبۂ اردو کے زیر اہتمام "دورِ حاضر کی خواتین اور اردو ادب" کے عنوان کے تحت ایک خصوصی توسیعی لیکچر کا انعقاد عمل میں آیا۔ یہ تقریب یونیورسٹی کے پی جی بلاک کے پروفیسر پی۔ پرامدا دیوی سیمینار ہال میں شعبۂ اردو کی صدر محترمہ ڈاکٹر نوری خاتون کی سرپرستی میں منعقد ہوئی۔
برجستہ ادیبہ، شاعرہ اور سماجی کارکن ڈاکٹر رفعیہ نوشین نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے اپنے فکر انگیز خطاب میں عصرِ حاضر کے ادبی منظرنامے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ادبی اصطلاح میں معاصر دور سے مراد وہ گزشتہ چند دہائیاں ہیں جن میں دنیا نے گلوبلائزیشن، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل میڈیا، مصنوعی ذہانت (AI) اور تیزی سے بدلتی ہوئی سماجی قدروں کا سامنا کیا ہے۔ ڈاکٹر رفعیہ نوشین نے واشگاف لفظوں میں کہا کہ موجودہ دور کا ادب صرف روایتی موضوعات جیسے محبت اور ہجر و وصال تک محدود نہیں رہا۔ اب شناخت، ہجرت، جنگ و امن، خواتین کے مسائل، ماحولیات، انسانی حقوق اور ڈیجیٹل زندگی جیسے اہم موضوعات بھی اس کا باقاعدہ حصہ بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عصرِ حاضر کی خواتین قلم کاروں نے نہ صرف عورت کے جذبات کو پیش کیا بلکہ پورے معاشرے کی پیچیدگیوں کو اپنی تخلیقات میں سمویا ہے۔
مہمانِ خصوصی نے اپنے خطاب کے دوران معاصر اردو ادب کی ممتاز خواتین ادبا، شاعرات اور ناقدین کی خدمات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے صادقہ نواب سحر کو نسائی احساسات کی ترجمان، ذکیہ مشہدی کو متوسط طبقے کی زندگی کی معتبر آواز، ثروت خان کی تخلیقی جہات اور ترنم ریاض کی تحریروں میں کشمیر کی تہذیب و ثقافت کے حسین امتزاج پر روشنی ڈالی۔ اس کے علاوہ نگار عظیم، نعیمہ جعفری پاشا، جیلانی بانو، رفیعہ منظورالامین اور قمر جمالی کی ادبی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان شاعرات و ادبا نے اردو ادب کو نئے اسلوب اور جدید فکری جہتوں سے روشناس کرایا ہے۔ انہوں نے طالبات پر زور دیا کہ وہ معاصر تقاضوں کو سمجھتے ہوئے مطالعہ اور تخلیقی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ خطاب کے بعد ایک سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا جس میں طالبات کی فکری کشمکش کو دور کیا گیا۔
شعبۂ اردو کی صدر ڈاکٹر نوری خاتون نے اپنے صدارتی کلمات میں اس لکچر کو طالبات کے لیے ایک سنہری موقع قرار دیا اور کہا کہ اس نوعیت کے تعلیمی پروگرام طالبات کی فکری و تحقیقی صلاحیتوں کو جِلا بخشنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ شعبۂ اردو مستقبل میں بھی ایسی علمی نشستوں کا انعقاد جاری رکھے گا۔
پروگرام کا آغاز شعبۂ اردو کے استاد ڈاکٹر محمد احتشام الحسن کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ بعد ازاں، ایم اے اردو سالِ دوم کی طالبہ جبین سلطانہ اور سالِ اول کی طالبات رحیم النساء، نازیہ اور ساجدہ نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں نعت و سلام کا ہدیہ پیش کیا۔ پروگرام کی نظامت شعبۂ اردو کی فیکلٹی ڈاکٹر غوثیہ بانو نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی اور مہمانِ خصوصی کا تعارف پیش کیا۔ ڈاکٹر محمد احتشام الحسن نے مہمانِ خصوصی، صدرِ شعبہ اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر شعبۂ فارسی کی صدر ڈاکٹر اسماء، شعبۂ اردو کی فیکلٹی ڈاکٹر ثمینہ بیگم اور طالبات کی ایک کثیر تعداد موجود تھی۔
------------------------------

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔