افسانچہ - سوال - ازقلم : عزیز تسلیم نندیالی، آندھرا پردیش۔
افسانچہ - سوال -
ازقلم : عزیز تسلیم نندیالی، آندھرا پردیش۔
9059590071
بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے حسبِ معمول ماہانہ اسکول کامپلیکس کا اجلاس چل رہا تھا۔ پیریڈ پلان، منصوبہ سبق، بچوں کے داخلے جیسے نکات پر اس میں تبادلہ خیال ہو رہا تھا۔ اتنے میں ایجوکیشنل منسٹر کی آمد ہوئی۔ اسکول کامپلیکس میں موجود 67 اساتذہ خوف زدہ ہو گئے کہ منسٹر صاحب کون سا سوال پوچھیں گے۔ اگر پوچھے گئے سوال کا جواب نہ دے سکے تو شرمندہ ہونا پڑے گا۔
منسٹر صاحب اساتذہ سے مخاطب ہوئے اور کہا کہ اس شہر میں ایک پبلک میٹنگ میں شرکت کے لیے جا رہا تھا، سوچا آپ لوگوں سے ملتا چلوں۔ وقت کا تقاضا ہے، تین سوالات پوچھوں گا، جھٹ سے جواب دیں۔
پہلا سوال: "آپ 67 حضرات میں سے کتنے حضرات نے ذاتی مکانات تعمیر کر لیے ہیں؟" 58 حضرات نے ہاتھ اٹھا کر جواب دیا کہ ہم نے ذاتی مکانات تعمیر کر لیے ہیں۔
دوسرا سوال پوچھا: "آپ میں سے کتنے لوگ اپنے والدین کو اپنے ساتھ رکھے ہوئے ہیں؟" صرف 3 حضرات نے ہاتھ اٹھائے۔
تیسرا اور آخری سوال: "آپ میں سے کتنے حضرات نے اپنے گھروں میں کتے پال رکھے ہیں؟" 59 حضرات نے ہاتھ اٹھائے۔
اجازت لے کر منسٹر صاحب چلے گئے۔ سب حضرات نے آرام کا سانس لیا۔ رات میں اپنے اپنے گھروں میں سب حضرات نیند کی آغوش میں چلے گئے، لیکن عبدالرحمٰن اپنے گھر میں کروٹیں بدلتا رہا۔ رات کا ایک بج گیا، نیند نہ آئی۔ کشادہ گھر تھا، ایک بیڈ روم میں پلنگ پر کتا خراٹے مارتے ہوئے سویا ہوا تھا، لیکن رات بھر اپنے کمرے میں عبدالرحمٰن کو نیند نہ آئی۔
صبح وقت پر اسکول پہنچا۔ اسکول چھٹتے ہی سیدھا اپنے والدین کے پاس پہنچا، معافی مانگ لی اور اپنے والدین کو واپس اپنے گھر لے آیا۔
رات اپنے کمرے میں عبدالرحمٰن سکون کی نیند سویا۔ ایک کمرے میں بیوی بچے سوئے، اور ایک کمرے میں والدین رات بھر اپنا بیٹا واپس ملنے پر آپس میں خوشی کی باتیں کرتے اور دعائیں دیتے رہے۔ گھر کے باہر صحن میں کتا گھر کی حفاظت کرتے ہوئے بیٹھا رہا۔
عبدالرحمٰن کے اپنے والدین کو واپس لے آنے کی اطلاع پا کر اپنی حکمتِ عملی کامیاب ہونے پر ایجوکیشنل منسٹر کا دل خوشی سے جھوم اٹھا۔ یومِ جمہوریہ کے موقع پر پریڈ گراؤنڈ میں ایجوکیشنل منسٹر نے عبدالرحمٰن کو جوش و خروش سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے توصیفی سند سے نوازا۔
Comments
Post a Comment