ادب اطفال کی بہاروں کی ملکہ...... فوزیہ اختر ردا صاحبہ - تبصرہ و تجزیہ - قلم کار....... ستار فیضی کڈپوی آندھرا پردیش انڈیا


ادب اطفال کی بہاروں کی ملکہ...... فوزیہ اختر ردا صاحبہ - 
تبصرہ و تجزیہ - 
قلم کار....... ستار فیضی کڈپوی آندھرا پردیش انڈیا 

ہندوستان میں ادب اطفال کا تذکرہ جھڑتے ہی چند ایسے نام ابھرکر آتے ہیں. جن میں فوزیہ اختر ردا صاحبہ کا نام بھی شامل ہوجاتاہے. یہ کولکاتا ریاست بنگال سے تعلق رکھتی ہیں. اردو ادب کے سنجیدہ قاری آپ کو اچھی طرح جانتے ہیں. مقدس درس و تدریس کے پیشہ سے وابستہ ہیں. وہ اپنی محنت و مشقت سے اپنے فن وہنر سے ادب میں اپنا مقام اور پہچان بنانے والی شاعرہ اور ادیبہ ہیں.  اردو ادب اطفال پر خاص توجہ فرمائیں ہیں. آپ کو ادب اطفال کی بہاروں کی ملکہ کہا جائے تو بہتر ہوگا. گلشن ادب اطفال کے خوبصورت غنچوں اور گلوں کو تر تازہ اور معطر رکھنے میں لگیں ہیں. ادب اطفال کی خوشبو کو چاروں طرف پھیلاتی جارہی ہیں. 
      آج ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ بیرونی ممالک میں بھی ان کی رسائی زور و شور سے ہورہی ہیں. ردا صاحبہ کے سینے میں ایک دل ہے جو بچوں کے لیے دھڑکتا اور تڑپتا ہے. اسی لیے بےتحاشا آئے دن ان کی تخلیقات روزناموں اور ماہناموں میں فیس بک وائٹ شپ بحث مباحثوں اور انٹرویوز میں دھوم مچارہی ہیں.
حال ہی میں ردا جی کی کتاب جو بچوں کے لیے لکھی ہیں منظر عام پر آچکی ہے. ان کی کتاب "حرف کھلونے" بچون کی نظموں کا مجموعہ ہے جو  بچوں کے لئے تحفہ سے کم نہیں ہے. بڑی خوشی ومسرت کی بات ہے کہ ادب اطفال میں ایک اور مجموعہ کا اضافہ ہوا. میں ردا جی کی خدمت عالیہ میں مبارک باد پیش کرتا ہوں. جنہوں نے مسلسل لکھنے پڑھنے کی سعی کررہی ہیں. یہ کتاب 127 اوراق پر مشتمل ہے. سر ورق بھی جازب نظر ہے. اس کتاب میں تقریباً 60 نظمیں مختلف موضوعات پر طبع آزمائی کی گئ ہیں. یہ کتاب وطن کے نونہالوں کے نام منسوب کی گئی ہے. جو آگے چل کر دادوتحسن وصول کریگی.
ردا جی کو اپنی قوم کے بچوں کی فکر ہے. ان کی تعلیم و تربیت، کردار سازی. مستقبل کے بارے میں سوچھ کر ادب اطفال کے میدان کا انتخاب کیا ہے. آنے والی نئ نسل کو صحیح پیغام دیا جاسکتا ہے. واقعی اس کتاب میں دلچسپ اور مزےدار نظمیں موجود ہیں. بچوں کی فطرت، نفسیات، ضروریات ، جذبات و احساسات اور ان کی عمر کا خاص خیال کرتے ہوئے اچھے اور بہترین موضوعات کا انتخاب کیا گیا ہے. جن سے بچے مانوس ہیں. ردا صاحبہ کی نظمیں بچوں کی دلچسپی کا سامان ہی نہیں بلکہ ان کی خوشی کا باعث بھی ہیں. انہوں نے حمد، نعت سے آغاز کیا ہے. موسموں کو بچے محسوس کرتے ہوئے غور و فکر کرتے ہیں. برسات، گرمی کا گن، سردی آئی، پت جھڑ میں موسموں کی سچی اور اچھی عکاسی کی ہے. تہواروں میں رمضان، عید کا پیغام، شریں عید جیسی نظموں سے بچوں کو خوش کرنے کی اور لطف اندوز ہونے کی بھرپور کوشش کی اور ہماری تہذیب سے آشنا کرنے کی کامیاب سعی کی ہے.
ردا صاحبہ نے قریب میں پائے جانے والے مقدس رشتے ابا، ماں اور کھیل کود میں آنکھ مچولی، کرکٹ اور جانوروں میں بکرا، پرندوں میں توتا بچوں کی پسندیدہ تتلی، پھل، آم کے متعلق بھی پیاری اور آسان سہل انداز میں نظمیں کہیں ہیں. چھوٹی چھوٹی بحروں میں غنائیت،.موسیقی اور روانی سلاست  بھی موجود ہے. 
      بچپن کے زمانے کی پسندیدہ نظمیں لوری، جھولا، پتنگ. کیک. چاکلیٹ، آئیس کریم وغیرہ نظمیں قدر کی نگاہوں سے دیکھی جائیں گی.کسان اور گاؤں کے عنوان کی نظمیں بڑی دل لبھانے والی ہیں قصبوں کے ماحول کی سچی عکاسی کی ہے. قدرتی مناظر کھیت کچی سڑکیں کسانوں کی محنت کا ذکر اشعار کی صورت میں کی ہیں. ان کی نظموں سے بچے فیض ہی نہیں بلکہ لطف اندوز بھی ہوں گے. ردا جی کی نظمیں انڈو پاک کے کئی اخباروں رسالوں میں شائع ہوئیں.
فوزیہ اختر ردا صاحبہ نے بچوں کے ادب کا مقصد جاناہے. ادب اطفال کی اہمیت وافادیت سے واقف ہوکر پیاری پیاری نظمیں قلمبند کی ہیں. جو قابل ستائش ہیں. ناقدین نے ادب اطفال نے بھی اس مجموعہ "حرف کھلونے" کی تعریف و توصیف کی ہے. جن میں شمیم انجم وارثی کولکتہ، یاسرفاروق پاکستان، تنویر پھول نیویارک امریکہ، ریاض انور بلڈنوی، شفیق الدین شایاں کولکتہ کے بہترین خیالات سےاور تبصروں سے ہم سب متفق ہیں اور آخر میں رداجی کی خدمت میں ہم دلی مبارک باد پیش کرتے ہیں.
آخر میں چند تہنیتی اشعار پیش کرتا ہوں.

فوزیہ  اختر  ردا
بچے سارے ہیں فدا
بد نظر سے تو بچا
تو بلندی کر عطا
ان کی شہرت اور بھی
تو بڑھا دے اے خدا
پاس رکھتی ہیں سحر
دل لبھانے کی ادا
حمد نعتیں نظم بھی
خوب لکھو تم سدا
حق میں ان کے تم فقط
کیجئے فیضی دعا

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔