اِقراء اکیڈمی شولاپور اور اِقراء بِلا سودی انجمن شولاپور کا جلسہ تقسیمِ انعامات کامیابی سے ہم کنار۔
اِقراء اکیڈمی شولاپور اور اِقراء بِلا سودی انجمن شولاپور کا جلسہ تقسیمِ انعامات کامیابی سے ہم کنار۔
شولاپور : اِقراء اکیڈمی شولاپور اور اِقراء بِلا سودی انجمنِ امداد باہمی برائے اساتذہ و غیر تدریسی اسٹاف شولاپور کی جانب سے بین المدارس سیرت النبی ص آبجیکٹيو ٹیسٹ کے جلسہ تقسیمِ کے انعامات کا انعقاد عمل میں آیا۔ مورخہ 2، اگست 2026 کو اُردُو گھر شولاپور میں منعقد کیا گیا۔ اس جلسے کی صدارت ڈاکٹر عائشہ رنگریز صاحبہ نے کی، جب کہ مُحمّد صادق چکولے صاحب اور ساحر نداف صاحب بطور مہمان شریک تھے۔
اِقراء اکیڈمی اور اِقراء بِلا سودی انجمن امداد باہمی برائے اساتذہ و غیر تدریسی اسٹاف شولاپور کی جانب سے اس سے قبل مولانا سلطان احمد اصلاحی صاحب کی مرتب کردہ دو کتابوں "سیرتِ مصطفیٰ ﷺ" اور "امہات المؤمنین" پرمبنی ایک بین المدارس آبجیکٹيو ٹیسٹ لیا گیاتھا۔ اس ٹیسٹ میں ضلع کے تیرہ مدارس کے تقریباً سات سو طالب علموں نے حصہ لیا تھا۔ اس ٹیسٹ کے انعامات کی تقسیم مورخہ 2، اگست کو ایک شاندار پروگرام میں عمل میں آئی۔
اس جلسے کا آغاز عبداللہ منگلگری کے ذریعے تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوئی۔ بعد از آں، اِقراء انجمن کے خازن مزمل شیخ نے تمہید پیش کی، انجمن کی معتمد شمشاد شاملک نے تحریک صدارت پیش کی، جس کی تائید ادارہ ہذا کے نائب صدر یوسف عالم صدیقی نے کی۔ اس کا بعد اِقراء اکیڈمی کے معتمد مُحمّد ذوالکفل باغبان نے استقبالیہ پیش کیا ساتھ ہی اِقراء اکیڈمی اور انجمن کے اغراض و مقاصد پیش کیے۔ اس کے بعد انجمن کی رکن شبنم باغبان نے مہمانوں کا تعارف پیش کیا۔ اس دوران انجمن کی رکن شہناز باٹگھر نے صدرِ جلسہ ڈاکٹر عائشہ رنگریز صاحبہ کو گل پيش کیے، جب کہ اِقراء اکیڈمی اور انجمن کے صدر ڈاکٹر ہارون رشید باغبان نے مہمانِ خصوصی مُحمّد صادق چکولے صاحب کو گُل پیش کیے، ساتھ ہی اکیڈمی کے خازن مُحمّد اسحٰق باٹگھر نے ساحر نداف صاحب کی گلپوشي کی۔ اس کے بعد جلسے میں شریک جملہ مہمانوں کے دستِ مبارک سے "ایم اے پانگل اینگلو اُردُو ہائی اسکول شولاپور" کے نہم جماعت کے طالب علم "عبداللہ عمران منگلگری کو *"ایمرجنگ سائنٹسٹ آف د سٹی"* کے اعزاز سے نوازا گیا۔ واضح ہو کہ عبداللہ نے ایک مقابلے میں انعام کی شکل میں ملی اپنی سائیکل کو سولر پینل، چارجیبل بیٹری اور ریموٹ کنٹرول کے ذریعے "خود کار سولر سائیکل" بنائی اور اپنی خُدا داد صلاحیتوں کا لوہا منوالیا۔فالحال عبداللہ کچھ نئے تجربوں اور انوکھے پروجیکٹس پر کام کر رہا ہے۔ عبداللہ کے اسی قابلِ ذکر کارنامے کی بنیاد پر اِقراء اکیڈمی اور اِقراء انجمن کی جانب سے "*"ایمرجنگ سائنٹسٹ آف د سٹی"* کے اعزاز سے نوازا گیا.
اس بین المدارس آبجیکٹیو ٹیسٹ میں درج ذیل طالب علموں نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور انعامات کے حقدار قرار دیے گئے۔
* **جماعت پنجم:** عائشہ داؤد ہادی منی (القرآن اردو اسکول - اول)، خدیجہ قادر دکنی (عائشہ سرور اردو اسکول - دوم)، ائتیشہ سیفن گاڑیوان (ضلع پریشد اردو اسکول گھرکل - سوم)۔
* **جماعت ششم:** ہاجرہ بی مرتضیٰ مجید(ضلع پریشد اردو اسکول گھرکل - اول)، مسکان سلیم شیخ (القرآن اردو اسکول - دوم)، دروز یوسف شیخ (عائشہ سرور اردو اسکول - دوم)، شیخ نازنین عارف (سر سید احمد خان اردو ہائی اسکول - سوم)۔
* **جماعت ہفتم:** محمد خضر شیخ (سوشل اردو ہائی اسکول - اول)، آدم رفیق مجاور (عائشہ سرور اردو اسکول - دوم)، ضحیٰ فرید شیخ (بیگم قمر النساء ہائی اسکول - سوم)۔
* **جماعت ہشتم:** اِرم سِراج بھانگیرے (ایم اے پانگل اینگلو اردو ہائی اسکول - اول)، طوبیٰ عارف انعامدار (بیگم قمر النساء اردو ہائی اسکول - دوم)، شیخ فرحین محبوب (سر سید احمد خان اردو ہائی اسکول - دوم)، ایمن عبدالقدوس نداف (بیگم قمر النساء ہائی اسکول - سوم)۔
ان کے علاوہ گلناز سمیع اللہ خان، مدیحہ احمد شیخ، تسلیم عرفان شیخ، فائقہ محمد مسلم خان، عالیہ اقبال مومن، ادیبہ الطاف شیخ، روبیہ محمد علی پٹیل، پٹیل عائشہ سمیر، عطار الفیہ یاسین، نداف الفیہ فیروز، صالحہ آصف پٹویگر، عمیرہ مہتاب شیخ، تسلیم محمد عارف مرشد، کہکشاں کلیم باغبان، پٹھان اُم سُلیم محسن، شیخ تسنیم معین، ہزیر عمران نداف، حمیرا انور شیخ، عافیہ معین علی قاضی، اور شیخ رخسار نظیر کو بھی ٹرافی اور سرٹیفکیٹ کی شکل میں اول، دوم، سوم اور ترغیبی انعامات سے نوازا گیا۔
یہی نہیں، اس ٹیسٹ میں سب سے زیادہ طالب علموں کی رہبری کرنے اور اس مقابلے میں شریک کرانے کی بنیاد پر " ایم اے پانگل اینگلو اُردُو ہائی اسکول شولاپور" کو " حُسنِ کارکردگی ایوارڈ" سے نوازا گیا۔
اس آبجیکٹیو ٹیسٹ کے لیے اپنے اپنے مدرسے کے طلباء و طالبات کی رہبری کرنے والے اساتذہ کرام کو خصوصی اعزازات سے نوازا گیا جن میں زیل اساتذہ کرام شامل ہیں۔
خصوصی اعزازت پانے والے اساتذہ :
شاہین سلطانہ شیخ - ضلع پریشد اردو پرائمری اسکول گھرکول شولاپور، باٹگھر مُحمّد اسحاق -مُحمّد یونس ماڈل ہایی اسکول، مُحمّد اسماعیل ڈونگاؤں کر - راجے بھائی اسکول، نکہت چاندہ - بیگم قمر النساء ہایی اسکول، مُحمّد ذوالکفل باغبان - سوشل ہایی اسکول، عظمیٰ استاد - ایم اے پانگل ہایی اسکول، روبینہ نعلبند - القرآن اُردُو اسکول، مُحمّد کلیم باٹگھر - عائشہ سرور اسکول، جاوید چاندہ - سٹی ژن ہایی اسکول، شمشاد شاملک - سر سیّد ہایی اسکول، مجید کلادگی - بیگم فرخندہ اسکول، مزمل شیخ - خواجہ بندہ نواز ہائی اسکول، انیسہ شیخ-اردو مادھیمک ودیالیہ شولاپور یہ اساتذہ شامل ہیں۔
اس موقع پر مہمان صدر جلسہ ڈاکٹر عائشہ رنگریز صاحبہ نے اپنے خطبہ صدارت میں اس مقابلے اور اس میں شریک طالب علموں کی کوششوں کو سراہا۔ مہمانِ خصوصی مُحمّد صادق چکولے نے مقابلہ جاتی امتحانات کو اہمیت پر اپنے خیالات پیش کیے۔ اس کے بعد ادارہ ہذا کے صدر ڈاکٹر ہارون رشید باغبان نے بھی شرکاء، اساتذہ اور والدین کو مبارک باد پیش کی اور مختلف مقابلہ جاتی امتحانات میں شرکت کی ترغیب دلائی۔
اِقراء اکیڈمی اور انجمن کے منعقد کردہ اس جلسے میں کُل پچاس انعامات تقسیم کیے گئے، جس میں تیرا اسکولوں کے طالب علم، اُن کی رہبری کرنے والے اساتذہ کرام کے ساتھ ساتھ اس مقابلے میں سب سے زیادہ طالب علموں کو شریک کرانے والے مدرسہ ایم اے پانگل اینگلو اُردُو ہائی اسکول کو "حُسنِ کارکردگی ٹرافی" سے نوازا گیا۔اس جلسے کی نظامت طارق شیخ نے کی اور انجمن کی معتمد، شمشاد شاملک نے اظہار تشکر کیا۔
اس جلسے میں صادق باغبان (رُکن اقراء اکیڈمی)، سِراج بھانگیرے، وسیم نلّامندو، ریاض سیّد، ذاکر شاہپورے، عرفان لالکوٹ، مبین بیجاپورے، عمران منگلگری، چاندہ سر، نلامندو سر، عبد الشکور شعور، خلیل پیرمپلّی، عبدالغفور سوداگر، صلاح الدین شیخ، خضر صدیقی، فوزیہ شیخ، فرحت شیخ، نغمہ مجاور، اُم زما پٹھان، نغمہ صدیقی، رفعت شیخ، صبیحہ باٹگھر اور دیگر معززین موجود تھے۔
اس جلسے کو کامیاب بنانے میں ریحان سیّد، ثناء مُلّا، منہا شیخ، معاذ شیخ، سریندر یمول وغیرہ نے اہم کردار ادا کیا۔
Comments
Post a Comment