سید نعیم الدین خطیب — رشتوں کا امین، محبت کا سفیر - پٹن، ضلع اورنگ آباد - ازقلم: سید فاروق احمد قادری۔


سید نعیم الدین خطیب — رشتوں کا امین، محبت کا سفیر - 
پٹن، ضلع اورنگ آباد - 
ازقلم: سید فاروق احمد قادری۔

بعض رشتے صرف خون کے رشتے نہیں ہوتے بلکہ وقت، محبت، قربانی، خوشی اور آزمائشوں سے گزر کر ایسے مضبوط ہوجاتے ہیں کہ انسان انہیں اپنی زندگی کا لازمی حصہ سمجھنے لگتا ہے۔ میرے لیے میرے خالہ زاد بھائی اور سالے، سید نعیم الدین خطیب انعامدار، بھی ایسی ہی شخصیت ہیں۔
نعیم بھائی میرے لیے صرف ایک رشتہ دار نہیں بلکہ بچپن کے ساتھی، خوشیوں کے شریک، دکھ کے ساتھی اور زندگی کے کئی نشیب و فراز میں میرے ہم قدم رہے ہیں۔ بچپن سے لے کر آج تک ہماری رفاقت کا ایک طویل سفر ہے۔ ہم نے ایک ساتھ خوشیاں منائیں، ایک دوسرے کے گھر کے حالات دیکھے، کھیتوں میں محنت کی، کاروباری معاملات میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹایا اور زندگی کے مشکل ادوار میں ایک دوسرے کا سہارا بنے۔ اسی لیے ان کے بارے میں لکھتے ہوئے مجھے کسی سے معلومات لینے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ میں نے خود ان کے ساتھ رہ کر اور اپنی آنکھوں سے دیکھ کر گزارا ہے۔
یہ تحریر محض کسی شخصیت کا تعارف نہیں بلکہ میرے لیے ماضی کی ایک ایسی امانت ہے جس میں بچپن کی خوشیاں، بھائیوں کی محبت، پٹن کے کھیت، دکان کی محفلیں اور زندگی کی تلخ و شیریں یادیں سب شامل ہیں۔
ایک باوقار اور علمی خاندان
سید نعیم الدین خطیب کا تعلق ایک معزز، علمی، دینی اور روحانی خاندان سے ہے۔ ان کے بزرگ حضرت سید معیز الدین المعروف مولانا صاحب پٹن کی معروف درگاہ سے وابستہ بزرگ گزرے ہیں۔ ان کے دادا سید حفیظ الدین اپنے زمانے میں ضلع بیڑ کے معروف وکیل تھے، خصوصاً فوجداری مقدمات میں ان کی بڑی شہرت تھی۔ سید حفیظ الدین صاحب کے والد کا نام سید نظام الدین تھا۔
سید حفیظ الدین صاحب کے تین صاحبزادے تھے: سب سے بڑے سید یوسف الدین خطیب، ان کے بعد سید شفیع الدین خطیب اور ان سے چھوٹے ڈاکٹر مختار صاحب۔ ان کی دو صاحبزادیاں بھی تھیں۔ وقت کا سفر سب کو اپنے ساتھ لے گیا اور آج یہ تمام بزرگ اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں، مگر ان کی یادیں آج بھی خاندان کے دلوں میں زندہ ہیں۔
سید شفیع الدین خطیب انعامدار کو مطالعے کا غیر معمولی شوق تھا۔ خاص طور پر اردو کے معروف جاسوسی ناول نگار ابنِ صفی کی "جاسوسی دنیا" کے ناول بڑے شوق سے خریدتے اور پڑھتے تھے۔ انہیں مہمان نوازی کا بہت شوق تھا۔ جب بھی مہمان آتا، مچھلی ضرور کھلاتے تھے کیونکہ مچھلی ان کی پسندیدہ غذا تھی۔
اس کے ساتھ دینی معلومات سے بھی انہیں خاص دلچسپی تھی۔ وہ پنج وقتہ نماز کی امامت فرماتے، جمعہ کا خطبہ دیتے اور عیدین کی نماز بھی پڑھاتے تھے۔ انہیں ویران مساجد کو آباد کرنے کا خاص شوق تھا۔ گھر کے سامنے کی مسجد اور اعلیٰ قلی و سادات محلے کی مسجد کو بھی انہوں نے آباد کیا۔ حضرت سید معیز الدین المعروف مولانا صاحب کی درگاہ کے خادم ہونے کی وجہ سے ان پر دینی اور روحانی ذمہ داریاں بھی تھیں، اسی لیے پٹن کے لوگ ان کا بہت احترام کرتے تھے۔
17 فروری 1997ء کو وہ اپنے حقیقی خالق سے جاملے۔ ان کی وفات کا اثر غیر معمولی تھا۔ پورا پٹن ان کے انتقال پر سوگوار ہوگیا اور دن بھر کاروبار بند رہے۔
نعیم بھائی کی پیدائش اور بچپن
اسی باوقار گھرانے میں 10 جنوری 1945ء کو ضلع بیڑ کے جونا بازار میں، اپنے دادا کی رہائش گاہ پر، سید نعیم الدین خطیب کی پیدائش ہوئی۔
وہ پانچ بہنوں کے درمیان اکلوتے بھائی اور سب سے بڑے تھے۔ ایک طرف پانچ بہنیں اور دوسری طرف گھر کا واحد بیٹا، جس کے کندھوں پر وقت کے ساتھ پورے خاندان کی ذمہ داریاں آنی تھیں۔ انہوں نے ان ذمہ داریوں کو کبھی بوجھ نہیں سمجھا بلکہ بڑے بھائی ہونے کا حق ادا کیا۔
بچپن کا زمانہ آج کے زمانے سے بہت مختلف تھا۔ سہولتیں کم تھیں، مگر دلوں میں محبت زیادہ تھی۔ خاندان کے بچے ایک دوسرے کے ساتھ پلتے بڑھتے تھے۔ خوشیاں مشترک ہوتیں اور غم بھی سب مل کر برداشت کرتے تھے۔ یہی وہ ماحول تھا جس نے نعیم بھائی کی شخصیت میں محبت، صلہ رحمی اور دوسروں کے کام آنے کا جذبہ پیدا کیا۔
تعلیم کا سفر
سید نعیم الدین خطیب کی ابتدائی تعلیم پیٹھ بیڑ اسکول سے ہوئی، جہاں انہوں نے درجہ اول سے چہارم تک تعلیم حاصل کی۔ اس دوران ان کے اساتذہ میں خادر علی مولوی صاحب، منیر خان صاحب اور گرام صاحب شامل تھے۔
اس کے بعد انہوں نے ڈھونڈاپور اسکول میں پنجم سے ہفتم تک تعلیم حاصل کی۔ وہاں محمد علی صاحب، یعقوب علی صاحب اور حفیظ الدین صاحب جیسے اساتذہ سے تعلیم حاصل کی۔
بعد ازاں انہوں نے ملٹی پرپز ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کی، جہاں غلام محمد صاحب، موسیٰ صاحب، سلطان سلیم صاحب، سائنس کے قابل اساتذہ اور محمد حسین صاحب سے ریاضی کی تعلیم حاصل کی۔ خورشید صاحب کرافٹ ٹیچر تھے اور ڈرائنگ و دستکاری میں مہارت رکھتے تھے۔
1961-62ء کے زمانے میں انہوں نے ملٹی پرپز ہائی اسکول میں امتیازی کامیابی حاصل کی اور ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کالج، اورنگ آباد میں داخلہ لیا۔ اس زمانے میں بیڑ میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع بہت محدود تھے، اس لیے یہ ان کی زندگی کا ایک اہم تعلیمی مرحلہ تھا۔
لیکن خاندان کے حالات آسان نہیں تھے۔ پٹن میں ان کے والد اور خاندان کی کچھ زمینیں تھیں اور گزارا زیادہ تر کھیتی باڑی سے ہوتا تھا۔ بارش ہمیشہ ساتھ نہیں دیتی تھی، فصل کا کوئی بھروسہ نہیں تھا اور آمدنی کے ذرائع محدود تھے۔
ہم جماعتوں کی دنیا اور نعیم بھائی کا مختلف راستہ
اس زمانے میں نعیم بھائی کے ساتھ پڑھنے والے کئی ساتھی اپنی اپنی زندگی میں آگے بڑھتے گئے۔ میرے بڑے بھائی سید سمیع قادری، ان سے چھوٹے سید ظفر قادری، ان سے چھوٹے سید صدیق قادری، ہمارے ماموں ظہور الدین خطیب اور ان کے دوستوں میں سکندر صاحب، اسلم چاوس غلام مصطفی مسیح الدین فاروقی سامعین دین شیخ، محمود یونس عالم صدیقی، جو ریٹائرڈ پبلک سٹی افسر ہیں اور روشن گیٹ، اورنگ آباد کے ساکن آج بھی کبھی کبھار ملاقات کے لیے پٹن آیا کرتے ہیں۔
ان کے کئی ساتھی بعد میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے۔ میرے بڑے بھائی سید سمیع قادری ملازمت میں آئے تو ریزرو بینک آف انڈیا میں مینیجر کے عہدے تک پہنچے۔
لیکن نعیم بھائی کی زندگی کا راستہ کچھ مختلف تھا۔ ان کے سامنے شروع ہی سے خاندان کی ذمہ داریاں تھیں چھ بہنوں میں اکلوتے بھائی ہونے کی وجہ سے انہیں اپنی تعلیم کے ساتھ گھر اور خاندان کی فکر بھی کرنا پڑتی تھی۔ معاشی حالات بھی ایسے نہیں تھے کہ وہ اپنی تعلیم اس طرح جاری رکھ سکتے جس طرح بعض ہم جماعتوں نے کی۔
نتیجتاً انہیں عملی زندگی میں قدم رکھ کر خاندان کی ذمہ داریاں سنبھالنی پڑیں۔ تعلیم ایک خاص مرحلے کے بعد مکمل نہ ہوسکی، لیکن زندگی نے انہیں جو تجربہ، بصیرت، دوراندیشی اور انسانوں کو سمجھنے کا شعور دیا، وہ کسی بھی رسمی تعلیم سے کم نہیں تھا۔
ملازمت اور پٹن واپسی
جنوری 1965ء میں انہوں نے ملازمت شروع کی اور اکتوبر 1972ء میں تعلقہ پٹن کے ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ ہوگئے۔
یہی وہ زمانہ تھا جب ہماری قربت مزید بڑھی۔ میں خود بھی اس زمانے میں پٹن کے مولانا آزاد اسکول میں تدریس سے وابستہ تھا۔ نعیم بھائی کے ساتھ میری رفاقت صرف رشتہ داری تک محدود نہیں تھی بلکہ ہم نے زندگی کی محنت بھی ایک ساتھ کی۔
ناریلا کے کھیتوں کی بچپن کی یادیں
پٹن سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر ناریلا نام کی ایک جگہ ہے، جہاں ہمارے خاندان کے کھیت تھے۔ سردیوں کی چھٹیوں میں ہم اپنی والدہ کے ساتھ خالو کے اور نانی کے یہاں جایا کرتے تھے۔ چونکہ ہمارے والدین دونوں استاد تھے، اس لیے چھٹیوں کے دن ہمارے لیے بھی بہت خوشی کے دن ہوتے تھے۔ ہم سب بھائی اور خاندان کے دوسرے بچے بھی ساتھ ہوتے اور ناریلا کے کھیتوں کا رخ کرتے۔
کھیتوں کا وہ زمانہ آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے کبھی ہم رام جی کا ٹکڑا کبھی مورنڈی کبھی کویٹ کا ٹکڑے میں بھاگ دوڑ کرتے تھے دور دور تک لہلہاتی فصلیں، سبزہ، کھلی فضا اور ٹھنڈی ہوا—ہم بچوں کے لیے یہی ہماری دنیا تھی۔ ہم کھیتوں کے اندر گھومتے، دوڑتے، ایک دوسرے کے ساتھ کھیلتے اور لہلہاتی فصلوں کے درمیان کبھی اِدھر جاتے، کبھی اُدھر بھاگتے۔ جب کسی درخت پر بیر نظر آتے تو فوراً وہاں پہنچ جاتے، بیر توڑتے اور وہیں بیٹھ کر انہیں کھاتے۔ کبھی جیبیں بیر سے بھر لیتے اور پھر کھیل کود میں لگ جاتے۔
شام کے وقت جب کھیتوں سے کام کرکے ہمارے بھائی تھک کر واپس آتے تو گھر کے سامنے موجود املی کے بڑے درخت کے پاس بیل گاڑی باندھ دیتے اور بیلوں کو بھی وہیں باندھا جاتا۔ بیلوں کے گلے میں بندھی گھنٹیوں کی آواز شام کی خاموش فضا میں ایک عجیب سی مٹھاس پیدا کرتی تھی۔ ہم بچے بھی دن بھر کی کھیل کود کے بعد اسی آس پاس موجود ہوتے۔ خالو کے نانا بچے بھی ہمارے ساتھ ہوتے تھے، اس لیے وہ شامیں بھی ہماری بچپن کی خوشیوں کا حصہ تھیں۔
آج وہ کھیت، وہ املی کا درخت، وہ بیل گاڑی، بیلوں کے گلے کی گھنٹیوں کی آواز اور وہ بے فکری کے دن سب ماضی کا حصہ بن چکے ہیں، لیکن یادوں میں وہ منظر آج بھی بالکل زندہ ہے۔
وہ بچپن کے دن، وہ جوانی کی یادیں بھلا کہاں بھولی جاتی ہیں! ہم نے اپنی زندگی کے وہ سارے دن اپنوں کے ساتھ گزارے ہیں۔ وقت گزر گیا، عمر کے کئی موسم بدل گئے، مگر وہ سادہ خوشیاں اور اپنوں کے ساتھ گزارے ہوئے وہ لمحات آج بھی دل میں محفوظ ہیں۔
پٹن کے کھیتوں میں محنت
پٹن کے کھیتوں کی ایک دوسری یاد بھی آج تک میرے ذہن میں تازہ ہے۔ اس زمانے میں ان کے خاندان کی زمینوں پر کاشت ہوتی تھی، مگر آبپاشی کے وسائل آج جیسے آسان نہیں تھے۔ کھیتوں کو پانی دینے کے لیے لوہے کے پائپ ایک خاص فاصلے تک بچھائے جاتے اور آگے پلاسٹک کے پائپ لگائے جاتے تھے۔
ہم دونوں بڑے بڑے پائپ اٹھاتے، انہیں کھیت کی ضرورت کے مطابق آگے لے جاتے اور فصل کو پانی دیتے۔ آج کی نسل شاید تصور بھی نہ کرسکے کہ اس دور میں ایک فصل کو پانی دینے کے لیے کتنی جسمانی محنت کرنا پڑتی تھی۔
لیکن ہمیں اس محنت میں بھی خوشی ملتی تھی۔ ساتھ کام کرنا، ایک دوسرے سے باتیں کرنا اور تھکن کے باوجود ہنستے رہنا، یہ سب ہماری زندگی کی خوبصورت یادیں بن گئیں۔
سائیکل کی دکان اور شام کی محفلیں
ہمارے خالو کی سائیکلوں کی دکان تھی۔ وہاں سائیکلیں، ٹیوب، ٹائر اور دوسرے پرزے وغیرہ ملتے تھے۔ ملازمت ملنے سے پہلے میں اس دکان پر بیٹھ کر خالو کے کام میں ہاتھ بٹایا کرتا تھا۔
بعد میں جب نعیم بھائی پٹن آئے تو دفتر سے تقریباً پانچ بجے فارغ ہونے کے بعد کبھی اپنے دوستوں کے ساتھ دکان پر آجاتے۔ پھر رات تقریباً نو بجے تک کام کے ساتھ چائے پانی اور گفتگو کی محفل بھی چلتی رہتی۔
وہ زمانہ سہولتوں کے اعتبار سے آج سے بہت پیچھے تھا، مگر دلوں کی قربت آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ محسوس ہوتی تھی۔ کام زیادہ تھا، وسائل کم تھے، مگر محبت، خلوص اور ایک دوسرے کا ساتھ دینے کا جذبہ بہت تھا۔
نعیم بھائی کی دوراندیشی
نعیم بھائی کی شخصیت کا ایک بہت اہم پہلو ان کی دوراندیشی تھی۔
اس زمانے میں میں مولانا آزاد اسکول میں ٹیچر تھا۔ اساتذہ کی تنخواہیں کم تھیں اور بعض دوسری ملازمتوں میں تنخواہ نسبتاً زیادہ ملتی تھی۔ مجھے عثمان آباد کے ایک دشوار علاقے میں کلرک کی ملازمت کا آرڈر ملا تو میں اسے حاصل کرنے کے لیے تیار ہوگیا۔
نعیم بھائی نے مجھے بہت سمجھایا۔ انہوں نے کہا:
"فاروق، دیکھو، یہ نوکری عارضی ہے، دشوار علاقے کی نوکری ہے، کبھی بھی ختم ہوسکتی ہے۔"
لیکن میں نے اس وقت ان کی بات نہیں مانی اور عثمان آباد چلا گیا۔ 1973ء میں میں نے وہاں ملازمت اختیار کرلی، مگر 1975ء میں مجھے ملازمت سے فارغ کردیا گیا۔
آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ نعیم بھائی اس وقت بھی مجھ سے آگے کی سوچ رہے تھے۔ بعد میں 1978ء میں مجھے دوبارہ ملازمت ملی، مگر اس دوران جو ٹھوکریں کھائیں، ان سے مجھے نعیم بھائی کی دوراندیشی کا اندازہ ہوا۔
مشکل وقت میں نعیم بھائی کا ساتھ
میری اپنی زندگی کے مشکل ادوار میں نعیم بھائی نے جس طرح میرا ساتھ دیا، اسے میں کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔
جب میں عثمان آباد میں تھا اور حالات تنگ تھے، اس وقت بھی وہ ہماری مدد کرتے رہے۔ گھر کے لیے اناج بھیجتے، ضرورت کے وقت مالی مدد کرتے اور یہ احساس نہیں ہونے دیتے تھے کہ ہم کسی پر بوجھ ہیں۔
اس وقت ہماری تنخواہیں بھی بہت کم تھیں، مگر نعیم بھائی اپنے محدود وسائل میں بھی ہمارا خیال رکھتے تھے۔ ان کی یہی عادت بعد کی زندگی میں بھی قائم رہی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جو دیا، اس میں دوسروں کا حصہ بھی نکالتے رہے۔
بیماری کے دور میں بھائی کا ساتھ
میرے لیے ان کی محبت کا سب سے بڑا ثبوت وہ وقت ہے جب میری اہلیہ علیل تھیں اور میں اورنگ آباد میں تقریباً آٹھ سال رہا۔
بیماری کے اس مشکل دور میں نعیم بھائی نے میری اور میرے گھر کی جس طرح خدمت کی، اسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ مالی مدد ہو، عملی مدد ہو یا صرف حوصلہ دینے کی ضرورت، وہ ہر وقت ساتھ کھڑے رہے۔
اس وقت مجھے شدت سے محسوس ہوا کہ نعیم بھائی صرف میرے خالہ زاد بھائی اور سالے نہیں، بلکہ وہ میرے ایسے بھائی ہیں جن پر مشکل وقت میں بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔
رشتوں کو جوڑنے والا انسان
سید نعیم الدین خطیب نے صرف اپنی بہنوں کی ذمہ داریاں نہیں اٹھائیں بلکہ خاندان کے دوسرے افراد کی خوشیوں اور مشکلات میں بھی شریک رہے۔
چھ بہنوں کے اکلوتے بھائی ہونے کی وجہ سے ان پر بہت سی ذمہ داریاں تھیں۔ انہوں نے اپنی بہنوں کی شادیوں میں اپنا کردار ادا کیا اور بعد میں بہنوں کی بیٹیوں اور خاندان کے دوسرے ضرورت مند افراد کی شادیوں میں بھی مدد کرتے رہے۔
وہ کسی کے دکھ کو صرف سن کر آگے نہیں بڑھ جاتے تھے بلکہ جہاں ممکن ہوتا، عملی طور پر مدد کرتے تھے۔
ہم آٹھ بھائی تھے۔ وقت کے ساتھ پانچ اس دنیا سے رخصت ہوگئے اور اب ہم میں سے صرف تین باقی ہیں۔ بیڑ میں خاندان کے اعتبار سے میں سب سے بڑا ہوں، جبکہ پٹن میں سید نعیم الدین خطیب خاندان میں سب سے بڑے ہیں۔ اسی وجہ سے پٹن میں ان کا مقام صرف ایک بڑے بھائی کا نہیں بلکہ خاندان کے بزرگ اور ذمہ دار فرد کا بھی رہا ہے۔
اولاد اور خاندان کی ذمہ داریاں
اللہ تعالیٰ نے انہیں چھ صاحبزادوں اور تین صاحبزادیوں سے نوازا۔ انہوں نے اپنی اولاد کی پرورش، تعلیم و تربیت اور شادیوں کی ذمہ داریاں پوری کیں۔
اپنی بہنوں کے بچوں اور خاندان کے دوسرے ضرورت مند افراد کی شادیوں میں بھی مدد کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں جو دیا، وہ دوسروں میں بانٹتے رہے۔
کورونا کو شکست دے کر زندگی کی طرف واپسی
کورونا کے مشکل دور میں جب سید نعیم الدین خطیب زندگی اور موت کی آزمائش سے گزر رہے تھے، اس وقت خاندان، عزیز و اقارب اور بہت سے چاہنے والوں نے ان کی صحت یابی کے لیے دل سے دعائیں کیں۔ حالات انتہائی نازک تھے اور بہت سے لوگ اس وبا کے ہاتھوں دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر اللہ تعالیٰ نے نعیم بھائی پر اپنا خاص فضل فرمایا۔
ان دعاؤں اور اللہ کے کرم سے انہوں نے کورونا کا مقابلہ کیا اور صحت یاب ہوکر دوبارہ زندگی کی طرف لوٹے۔ آج ان کا ہمارے درمیان موجود ہونا ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت اور شکر کا مقام ہے۔
ایک زندگی، کئی آزمائشیں
سید نعیم الدین خطیب کی زندگی دراصل ایک مسلسل کشمکش، محنت اور ذمہ داری کی زندگی رہی ہے۔
انہوں نے آسان حالات میں کامیابی حاصل نہیں کی۔ محدود وسائل، کھیتی باڑی کے مسائل، خاندان کی ذمہ داریاں، بہنوں کے معاملات، اپنی اولاد کی تربیت اور رشتہ داروں کی مدد، یہ سب ان کی زندگی کا حصہ رہے۔
لیکن انہوں نے مشکلات کو کبھی بہانہ نہیں بنایا۔ محنت کرتے رہے، رشتے نبھاتے رہے اور جس طرح ممکن ہوا دوسروں کے کام آتے رہے۔
یہ میری اپنی آنکھوں دیکھی داستان ہے
میں ایک بات واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
میں نے سید نعیم الدین خطیب اور اپنے خاندان کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے، وہ کسی سنی سنائی بات یا مبالغے پر مبنی نہیں ہے۔ میں نے ان لوگوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، ان کے ساتھ وقت گزارا، ان کی خوشیوں میں شریک ہوا، ان کے دکھ دیکھے اور ان کی زندگی کے بہت سے حالات کا خود مشاہدہ کیا ہے۔
عمر کے اس مرحلے پر جب میں اپنے سسرال کے خاندان میں سب سے بڑا ہوں، ماضی کی بہت سی یادیں، نام اور واقعات آج بھی میرے ذہن میں محفوظ ہیں۔
اس لیے یہ تحریر میرے لیے صرف ایک مضمون نہیں بلکہ اپنی زندگی کی یادوں اور رشتوں کی ایک امانت ہے۔
ہمارے والد کی تربیت اور وہ زمانہ
ہمارے والد صاحب نے بھی ہمیں ہمیشہ محنت، تعلیم، عزت اور اچھے اخلاق کی تربیت دی۔ وہ زمانہ آج سے بہت مختلف تھا۔
اساتذہ کی تنخواہیں محدود تھیں، روزگار کے مواقع کم تھے اور خاندان کی ضروریات زیادہ تھیں۔ انہی محدود وسائل اور مشکل حالات کے باوجود ہم بھائیوں نے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق تعلیم حاصل کی اور زندگی میں آگے بڑھنے کی کوشش کی۔
آج جب ماضی کی طرف دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ان مشکل حالات نے ہی ہمیں محنت، صبر، قناعت اور رشتوں کی قدر کرنا سکھایا۔
شاید یہی وجہ ہے کہ ہماری نسل کے لوگوں کے لیے رشتے صرف نام کے رشتے نہیں تھے۔ بھائی کا دکھ اپنا دکھ ہوتا تھا، بہن کی خوشی اپنی خوشی ہوتی تھی اور خاندان کی ضرورت پوری کرنا اپنی ذمہ داری سمجھی جاتی تھی۔
ایک یاد جو آنے والی نسلوں کے نام ہے
یہ تحریر اسی ماضی کی ایک امانت ہے جسے میں آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کرنا چاہتا ہوں۔
ایسے لوگ زندگی سے رخصت نہیں ہوتے بلکہ اپنے کردار میں زندہ رہتے ہیں۔ ان کی باتیں، ان کی نصیحتیں، ان کی ہنسی، ان کی محنت، ان کی محبت اور ان کے ساتھ گزارے ہوئے لمحے آنے والی نسلوں کے لیے سرمایہ بن جاتے ہیں۔
سید نعیم الدین خطیب بھی میرے لیے ایسی ہی ایک شخصیت ہیں۔
وہ میرے خالہ زاد بھائی ہیں، میرے سالے ہیں، مگر ان سب رشتوں سے بڑھ کر میرے بچپن کے ساتھی، میرے دکھ سکھ کے شریک اور زندگی کے ایک طویل سفر کے رفیق ہیں۔
جب میں اپنے گزرے ہوئے زمانے کو یاد کرتا ہوں تو پٹن کے کھیت، ناریلا کی لہلہاتی فصلیں، املی کا وہ بڑا درخت، بیلوں کے گلے کی گھنٹیوں کی آواز، وہ سائیکل کی دکان، شام کی محفلیں، بچپن کی شرارتیں اور نعیم بھائی کا مسکراتا ہوا چہرہ سب ایک ساتھ آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔
وقت بہت کچھ چھین لیتا ہے، مگر سچی محبت اور خلوص سے جڑی یادیں کبھی نہیں چھین سکتا۔
دعا
میں اللہ تعالیٰ کے حضور دل کی گہرائیوں سے دعا کرتا ہوں کہ وہ سید نعیم الدین خطیب کو صحت و عافیت، سکونِ قلب، درازیٔ عمر اور اپنی بے شمار رحمتوں سے نوازے۔
ان کی اولاد کو ہمیشہ ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے، ان کے گھر میں محبت اور برکت قائم رکھے، ان کی اولاد اور خاندان کو باہم محبت سے جوڑے رکھے اور ان کی زندگی بھر کی محنت، خدمت، صلہ رحمی اور ایثار کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔
اللہ تعالیٰ انہیں ہمیشہ سلامت رکھے اور ان کا سایہ ان کی اولاد اور خاندان پر قائم رکھے۔
آمین یا رب العالمین۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔