اردو ہماری زبان، ہماری تہذیب اور ہمارے دینی ورثے کی امین - از قلم: عالمہ مبین پالیگار بیلگام کرناٹک - (پرنسپل ماؤنٹ سینائی پی یو کالج)
اردو ہماری زبان، ہماری تہذیب اور ہمارے دینی ورثے کی امین -
از قلم: عالمہ مبین پالیگار بیلگام کرناٹک -
(پرنسپل ماؤنٹ سینائی پی یو کالج)
M A M ED
8904317986
آج کے دور میں زبانِ اردو کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اردو صرف ایک زبان نہیں، بلکہ ہمارے لیے ایک عظیم علمی، ادبی، تہذیبی اور دینی ورثے تک پہنچنے کا اہم ذریعہ ہے۔ خصوصاً برصغیر کے مسلمانوں کے لیے اردو نے قرآن و حدیث، فقہ، سیرت، اسلامی تاریخ، اخلاقیات اور دینی ادب کے بے شمار خزانے کو عام کرنے میں ایک تاریخی کردار ادا کیا ہے۔
آج ہم اپنے بچوں کو انگریزی سکھانے پر بہت زور دیتے ہیں اور یقیناً انگریزی سیکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جدید سائنس، ٹیکنالوجی، اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور دنیا کے وسیع علمی ذخیرے تک رسائی کے لیے انگریزی کا علم فائدہ مند ہے۔ ہمارے بچوں کو انگریزی ضرور سیکھنی چاہیے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا انگریزی سیکھنے کے لیے اردو کو چھوڑ دینا ضروری ہے؟ ہرگز نہیں!
بلکہ ایک مسلمان بچے کے لیے بہترین صورت یہ ہے کہ وہ انگریزی بھی جانے، اردو بھی جانے اور اپنے دین سے بھی مضبوطی کے ساتھ وابستہ رہے۔
اردو پڑھنے والا بچہ انگریزی سے بھی واقف ہو سکتا ہے
ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ اردو پڑھنے والا بچہ عموماً انگریزی سے بھی کسی نہ کسی حد تک واقف ہو جاتا ہے، لیکن صرف انگریزی پڑھنے والا بچہ ضروری نہیں کہ اردو سے بھی واقف ہو۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کے تعلیمی، سائنسی اور ٹیکنالوجی کے ماحول میں انگریزی کے الفاظ اور اصطلاحات ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ اردو جاننے والا بچہ انگریزی کے بہت سے الفاظ اور مفاہیم سے رفتہ رفتہ واقف ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر کسی بچے کو اردو پڑھنے ہی نہ دی جائے تو وہ اردو کے وسیع ادبی، تہذیبی اور دینی ذخیرے سے محروم ہو سکتا ہے۔
لہٰذا ہمیں زبانوں کو ایک دوسرے کا دشمن سمجھنے کے بجائے ایک دوسرے کا معاون سمجھنا چاہیے۔
اردو اور دین کا گہرا تعلق
ہمارے لیے یہ بہت بڑی خوش قسمتی ہے کہ اردو زبان میں دین کا ایک وسیع اور قیمتی سرمایہ موجود ہے۔ قرآنِ کریم کے تراجم و تفاسیر، احادیث کی شروحات، فقہ کی کتابیں، سیرت النبی ﷺ، صحابۂ کرامؓ کے واقعات، اسلامی تاریخ، اخلاقی و اصلاحی کتابیں اور علماء کی بے شمار تصانیف اردو میں موجود ہیں۔
ایک بچہ جب اردو پڑھنا سیکھتا ہے تو وہ صرف ایک زبان نہیں سیکھتا، بلکہ اپنے دین کے ایک بہت بڑے علمی خزانے کا دروازہ کھولتا ہے۔
جب وہ اردو میں سیرت النبی ﷺ پڑھتا ہے، رسول اللہ ﷺ کی محبت و شفقت کے واقعات پڑھتا ہے، صحابۂ کرامؓ کی قربانیوں سے واقف ہوتا ہے، والدین کے حقوق، پڑوسیوں کے حقوق، حسنِ اخلاق، تقویٰ اور آخرت کی فکر کے بارے میں پڑھتا ہے تو ان الفاظ کا اس کے دل پر ایک خاص اثر پڑتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے لیے دین کو اردو میں پڑھنے میں ایک خاص شیرینی محسوس ہوتی ہے۔
انگریزی میں بھی قرآن و حدیث اور اسلامی علوم کا بہت سا مواد موجود ہے اور یقیناً اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے، لیکن اردو میں دینی کتابیں پڑھنے کا اپنا ایک الگ ذوق، تاثیر اور شیرینی ہے۔ عربی اور فارسی سے ماخوذ دینی اصطلاحات اور اردو کا شائستہ و نرم انداز مل کر دینی تحریر کو ایک خاص تاثیر عطا کرتے ہیں۔
اردو صرف زبان نہیں، احساس بھی ہے
اردو کے الفاظ میں ہماری تہذیب اور ہمارے جذبات کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔
ہم کہتے ہیں:
اللہ تعالیٰ، رسولِ اکرم ﷺ، نبی کریم ﷺ، صحابۂ کرامؓ، رحمۃ اللہ علیہ، رضی اللہ عنہ، سبحان اللہ، الحمدللہ، جزاک اللہ خیراً، ان شاء اللہ، ما شاء اللہ۔
یہ محض الفاظ نہیں، بلکہ ہمارے عقیدے، محبت، ادب، تہذیب اور دینی نسبت کے مظہر ہیں۔
اردو میں جب ہم والدین کے احترام، استاد کے مقام، بڑوں کی عزت، چھوٹوں پر شفقت، پڑوسی کے حقوق اور حسنِ معاشرت کی بات کرتے ہیں تو اس میں ایک مخصوص تہذیبی اور اخلاقی رنگ محسوس ہوتا ہے۔
اسی لیے اردو کو صرف ایک مضمون یا ایک زبان سمجھنا مناسب نہیں۔ یہ ہماری تہذیبی یادداشت اور ہمارے دینی و ادبی ورثے کا ایک اہم حصہ ہے۔
مسئلہ انگریزی نہیں، ہماری ترجیحات ہیں
ہمیں انگریزی سے کوئی شکایت نہیں ہونی چاہیے۔ شکایت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہم انگریزی کو ترقی کی واحد علامت سمجھ لیتے ہیں اور اردو، دینی تعلیم اور اپنی تہذیب کو کم تر سمجھنے لگتے ہیں۔
آج بعض والدین چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ بہترین انگریزی بولے، بڑے اسکول میں پڑھے، اچھی ڈگری حاصل کرے اور اچھی ملازمت حاصل کرے۔ یہ خواہش اپنی جگہ بالکل درست ہے۔ لیکن کیا ہماری ذمہ داری صرف اتنی ہے؟
کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ ہمارا بچہ بڑا ہو کر اپنے دین کو کس زبان میں پڑھے گا؟
کیا وہ سیرت النبی ﷺ سمجھ سکے گا؟
کیا وہ اپنے دینی اور تہذیبی ورثے کی کتابوں سے واقف ہوگا؟
کیا وہ اپنے بزرگوں کی علمی خدمات کو پڑھ سکے گا؟
اگر ہم نے اسے اردو سے ہی محروم کر دیا تو ممکن ہے کہ وہ دنیا کے علوم میں بہت آگے نکل جائے، لیکن اپنے ہی علمی اور دینی ورثے کے ایک بڑے حصے سے ناواقف رہ جائے۔
تعلیم کا مقصد صرف روزگار حاصل کرنا نہیں؛ تعلیم کا مقصد انسان کی شخصیت، کردار اور شعور کی تعمیر بھی ہے۔
اردو اسکولوں کی بقا بھی ہماری ذمہ داری ہے
آج اردو اسکولوں اور اردو زبان کے مستقبل کے بارے میں ہمیں سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ اگر والدین اپنے بچوں کو اردو اسکولوں سے دور کرتے جائیں گے تو ایک وقت ایسا بھی آ سکتا ہے کہ اردو کے بہت سے تعلیمی ادارے طلبہ کی کمی کا شکار ہو جائیں۔
اس لیے اردو اسکولوں کی بقا صرف حکومت، اساتذہ یا اردو اداروں کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
والدین اپنے بچوں کو اردو صرف اس لیے نہ سکھائیں کہ انہیں کسی امتحان میں اردو کا مضمون پاس کرنا ہے، اور نہ صرف اس لیے کہ مستقبل میں کوئی مخصوص نوکری مل سکے؛ بلکہ اس لیے بھی سکھائیں کہ یہ ان کی زبان، ان کی تہذیب اور ان کے دینی و علمی ورثے تک پہنچنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
ہم اپنے بچوں کو انگریزی ضرور پڑھائیں، جدید تعلیم ضرور دیں، سائنس اور ٹیکنالوجی میں آگے بڑھائیں، لیکن ساتھ ہی انہیں اردو پڑھنے کی عادت بھی ڈالیں۔
گھر میں اردو کتابیں رکھیں، بچوں کو سیرت النبی ﷺ اور اسلامی تاریخ کی آسان کتابیں پڑھائیں، اردو اخبارات اور رسائل سے متعارف کرائیں، اردو میں گفتگو کریں اور انہیں اردو لکھنے پڑھنے پر فخر محسوس کرنا سکھائیں۔
تین زبانیں، علم کی تین دنیائیں
اگر ہم اپنے بچوں کے لیے ایک خوبصورت اور متوازن تعلیمی مستقبل چاہتے ہیں تو ہمیں زبانوں کو مقابلے کے بجائے تعاون کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
انگریزی انہیں جدید دنیا، سائنس، ٹیکنالوجی اور عالمی علوم سے جوڑے۔
اردو انہیں اپنی تہذیب، ادب، دینی کتب اور علمی ورثے سے جوڑے۔
عربی انہیں قرآن و حدیث کی اصل زبان سے قریب کرے۔
یہ تینوں زبانیں ایک دوسرے کی دشمن نہیں بلکہ ایک دوسرے کی معاون بن سکتی ہیں۔
ایک مسلمان بچہ اگر اپنی استطاعت کے مطابق ان تینوں زبانوں سے واقف ہو جائے تو اس کے سامنے علم کی ایک بہت وسیع دنیا کھل سکتی ہے۔
والدین سے ایک گزارش
والدین سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں کے ہاتھ میں صرف انگریزی کی کتابیں نہ دیں۔ انہیں اردو کی اچھی کتابیں بھی دیں۔ انہیں یہ احساس نہ ہونے دیں کہ اردو کم تر زبان ہے اور انگریزی ہی کامیابی کی علامت ہے۔
اپنے بچوں کو سمجھائیں کہ:
انگریزی سیکھنا ترقی ہے، لیکن اردو بھول جانا ترقی نہیں۔
دنیا کے علوم سیکھنا ضروری ہے، لیکن اپنے دین سے بے خبر ہونا کامیابی نہیں۔
اچھی ملازمت حاصل کرنا ضروری ہے، لیکن اچھا انسان بننا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔
اور دنیا میں کامیاب ہونا اہم ہے، لیکن آخرت کی کامیابی کو بھول جانا سب سے بڑا نقصان ہے۔
اردو کو نسلوں تک پہنچائیں
ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ آج ہم اپنے بچوں کو جو زبان دیں گے، کل وہی زبان ہماری آنے والی نسلوں تک پہنچے گی۔
اگر آج ہم نے اپنے گھروں میں اردو کو ختم کر دیا، بچوں کو اردو کتابوں سے دور کر دیا اور اردو اسکولوں کی اہمیت کو نظر انداز کر دیا تو آنے والی نسل شاید اپنے ہی دینی و تہذیبی سرمایہ کو پڑھنے اور سمجھنے سے محروم ہو جائے۔
اس لیے اردو کو صرف نوکری کی زبان نہ سمجھیں، اسے اپنی نسلوں تک علم، ادب، تہذیب اور دین کی شیرینی پہنچانے کا ذریعہ بنائیں۔
ہمیں اپنے بچوں سے کہنا چاہیے:
انگریزی سیکھو، دنیا کو سمجھو؛
اردو سیکھو، اپنے ورثے کو سمجھو؛
عربی سیکھو، قرآن و حدیث سے جڑو؛
اور دین سیکھو، تاکہ علم تمہیں صرف کامیاب انسان نہیں بلکہ باکردار انسان بھی بنائے۔
آخر میں بات صرف اتنی ہے کہ ہمیں انگریزی سے اردو کو بچانے کی نہیں، بلکہ اپنی زندگی میں اردو کو اس کا جائز مقام دینے کی ضرورت ہے۔
ہم انگریزی کے بھی قائل ہوں، اردو کے بھی محافظ ہوں، عربی سے بھی محبت کریں اور دین سے بھی مضبوطی سے وابستہ رہیں۔
کیونکہ ہماری حقیقی کامیابی یہ نہیں کہ ہماری اولاد صرف یہ کہہ سکے:
“I know English.”
بلکہ کامیابی یہ ہے کہ وہ یہ بھی کہہ سکے:
“میں اپنے دین کو سمجھتا ہوں، اپنے نبی ﷺ سے محبت کرتا ہوں، اپنی زبان و تہذیب سے واقف ہوں، اپنے بزرگوں کے علمی ورثے کی قدر کرتا ہوں، اور دنیا کے علم کے ساتھ اپنی آخرت کی بھی فکر رکھتا ہوں۔”
اردو کو زندہ رکھیں، اردو اسکولوں کو آباد رکھیں، اپنے بچوں کو اردو ضرور سکھائیں؛ کیونکہ زبان صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی، زبان نسلوں کے درمیان علم، تہذیب، احساس اور ورثے کا پل ہوتی ہے۔
Comments
Post a Comment