آخر امام صاحب تجارت کرنے پر کیوں مجبور ہوئے؟ - محمد آصف گڈاوی (امام و خطیب)
آخر امام صاحب تجارت کرنے پر کیوں مجبور ہوئے؟ -
محمد آصف گڈاوی (امام و خطیب)
کچھ عرصہ پہلے میری ایک تصویر سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وائرل ہوئی تھی۔ تصویر میں میں امامت کے ساتھ تجارت کرتا ہوا نظر آ رہا تھا۔ لوگوں نے محبت دی، تعریف کی اور کہا کہ ہر امام کو امامت کے ساتھ کوئی حلال کام بھی کرنا چاہیے۔ یہ بات اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ حلال روزی کمانا عزت کی بات ہے، لیکن میرے ذہن میں اس وقت سے ایک سوال ہے کہ کسی نے یہ سوال کیوں نہیں پوچھا کہ آخر ایک امام کو امامت کے ساتھ تجارت کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ہم نے تصویر دیکھی، تعریف کی، پوسٹ شیئر کی، لیکن تصویر کے پیچھے چھپی ہوئی حقیقت جاننے کی کوشش کم ہی لوگوں نے کی۔
ایک امام صرف نماز پڑھانے والا شخص نہیں ہوتا۔ وہ فجر سے پہلے اٹھتا ہے، پانچ وقت نماز کی ذمہ داری نبھاتا ہے، بچوں کو قرآن پڑھاتا ہے، لوگوں کے دینی مسائل سنتا ہے، جنازوں میں جاتا ہے، نکاح پڑھاتا ہے، خوشی اور غمی میں لوگوں کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس کی محنت اور ذمہ داری کے حساب سے اسے مناسب معاوضہ بھی ملتا ہے؟
بہت سی جگہوں پر ائمہ کی تنخواہیں اتنی کم ہوتی ہیں کہ گھر کے بنیادی اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ مہنگائی بڑھتی رہتی ہے، بچوں کی تعلیم، گھر کا کرایہ، علاج اور روزمرہ کی ضروریات بڑھتی رہتی ہیں، لیکن امام کی آمدنی کئی مرتبہ وہیں کی وہیں رہ جاتی ہے۔
ایسے میں اگر کوئی امام عزت کے ساتھ حلال تجارت یا کوئی دوسرا کام شروع کرتا ہے تو ہمیں صرف یہ نہیں کہنا چاہیے کہ "ماشاءاللہ امام صاحب تجارت کر رہے ہیں"، بلکہ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہم نے اپنے امام کے لیے ایسا نظام کیوں نہیں بنایا کہ وہ اپنی ضروریات کے لیے مجبور نہ ہوں؟
میں تجارت کو امامت کے خلاف نہیں سمجھتا، بلکہ حلال تجارت عزت کی چیز ہے۔ لیکن میری خواہش صرف اتنی ہے کہ ائمہ کو بھی عزت کے ساتھ جینے کا حق ملے، ان کی محنت کو سمجھا جائے، ان کی ضروریات کا خیال رکھا جائے اور مسجد کے ذمہ دار حضرات امام کی تنخواہ اور حالات پر سنجیدگی سے غور کریں۔
کیونکہ امام صاحب بھی انسان ہیں، ان کا بھی گھر ہے، بچے ہیں، ذمہ داریاں ہیں اور ضروریات ہیں۔
تصویر وائرل ہوئی تو بہت لوگوں نے کہا: "امام صاحب کو تجارت کرنی چاہیے۔"
لیکن شاید اصل سوال یہ ہونا چاہیے تھا:
"آخر امام صاحب کو تجارت کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟"
یہ سوال صرف ایک امام کا نہیں، بلکہ ان تمام ائمہ کے بارے میں سوچنے کا سوال ہے جو دین کی خدمت بھی کر رہے ہیں اور اپنے گھر کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اضافی محنت بھی کر رہے ہیں۔
حلال روزی کمانے والے امام کی عزت کیجیے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی سوچیے کہ مسجد کے امام کو ایسی تنخواہ کیوں نہ دی جائے جس سے وہ اپنے گھر کو سکون کے ساتھ چلا سکے۔
امام کی عزت صرف محراب میں نہیں، اس کی زندگی میں بھی ہونی چاہیے۔
محمد آصف گڈاوی (امام و خطیب)
Comments
Post a Comment