نبی کریم ﷺ کا بچپن اور فیضانِ رحمت کا ظہور - ازقلم : کلیم اللہ امداد تیمی، (مسجد یعقوبیہ اہلحدیث، چینئی)
نبی کریم ﷺ کا بچپن اور فیضانِ رحمت کا ظہور -
ازقلم : کلیم اللہ امداد تیمی،
(مسجد یعقوبیہ اہلحدیث، چینئی)
انسانی تاریخ میں بہت سی عظیم شخصیات گزری ہیں، لیکن رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس وہ بے مثال ہستی ہے جس کی زندگی کا ہر گوشہ اپنے اندر ہدایت، حکمت اور رحمت کا ایک مستقل باب رکھتا ہے۔ آپ ﷺ کی بعثت پوری انسانیت کے لیے رحمت بن کر آئی، لیکن اس رحمت کے آثار آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے ابتدائی دور ہی سے نمایاں ہونے لگے تھے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ آپ کا بچپنہ سخت اتار چڑھاؤ کا شکار رہا لیکن آپ ﷺ کے بچپن کے مختلف مراحل میں پیش آنے والے بعض مستند واقعات کا اگر مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بظاہر مشکلات کے اس دور میں بھی اللہ تعالیٰ کی خصوصی حفاظت، کفالت اور رحمت کے آثار نمایاں تھے۔
ذیل میں آپ ﷺ کے بچپن کے انہی اہم مراحل اور فیضانِ رحمت کے چند نمایاں مظاہر بالترتیب پیش کیے جارہے ہیں ۔
ولادتِ باسعادت
رسول اللہ ﷺ کی ولادت باسعادت مکہ مکرمہ میں عام الفیل کے سال پیر کے دن ہوئی، جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پیر کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
«ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ»
’’یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی۔‘‘
(صحیح مسلم، کتاب الصیام، حدیث: 1162)
یہ بات قابل ذکر ہے کہ آپ ﷺ کے والد محترم حضرت عبداللہ آپ ﷺ کی ولادت سے پہلے ہی وفات پا چکے تھے، اس لیے آپ ﷺ نے دنیا میں آنکھ کھولی تو یتیم تھے۔ سیرت کے قدیم ماخذوں میں یہی بات بیان ہوئی ہے اور قرآن کریم نے بھی بعد میں آپ ﷺ کی یتیمی اور اللہ تعالیٰ کی کفالت کو یاد دلایا: ﴿أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَىٰ﴾۔ (سورۃ الضحیٰ: 6)
ولادت کے وقت نور کا ظہور
آپ ﷺ کی ولادت سے متعلق ایک روایت حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا:
«يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا كَانَ أَوَّلُ بَدْءِ أَمْرِكَ؟»
’’اے اللہ کے نبی! آپ کے امرِ نبوت کی ابتدا کیسے ہوئی؟‘‘
آپ ﷺ نے فرمایا:
«دَعْوَةُ أَبِي إِبْرَاهِيمَ، وَبُشْرَى عِيسَى، وَرَأَتْ أُمِّي أَنَّهُ يَخْرُجُ مِنْهَا نُورٌ أَضَاءَتْ مِنْهَا قُصُورُ الشَّامِ»
’’میرے امر کی ابتدا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت سے ہوئی، اور میری والدہ نے دیکھا کہ ان سے ایک نور نکلا، جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے۔‘‘ (حوالہ: مسند احمد، 5/262، حدیث: 22261؛ مجمع الزوائد، 8/222؛ السلسلة الصحيحة، 4/62، حدیث 1446)
عبدالمطلب کی خوشی اور نام کا انتخاب
ولادتِ باسعادت کی خبر جب آپ ﷺ کے دادا عبدالمطلب تک پہنچی تو ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ وہ فوراً اپنے نومولود پوتے کو دیکھنے آئے، آپ ﷺ کو محبت سے اٹھایا اور کعبہ کے پاس لے گئے۔ وہاں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور شکر ادا کیا، پھر آپ ﷺ کا نام محمد رکھا، اور ساتویں روز عقیقہ کیا۔
’’محمد‘‘ نام رکھے جانے کی وجہ کے بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک روایت منقول ہے کہ عبدالمطلب سے پوچھا گیا کہ انہوں نے آپ ﷺ کا یہ نام کیوں رکھا، جبکہ ان کے آباء و اجداد میں یہ نام معروف نہ تھا؟ انہوں نے جواب دیا:
«أَرَدْتُ أَنْ يَحْمَدَهُ اللَّهُ فِي السَّمَاءِ، وَيَحْمَدَهُ النَّاسُ فِي الْأَرْضِ»
’’میں چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آسمان میں اس کی حمد کرے اور لوگ زمین میں اس کی حمد کریں۔‘‘
(دلائل النبوۃ از بیہقی : ج 1، ص 113، تاریخ دمشق از ابن عساکرج 80، ص 3)
یہ نام محض ایک نام نہ تھا بلکہ ’’محمد‘‘ کے معنی ہی بہت زیادہ حمد کیے جانے والے کے ہیں۔ بعد کے واقعات نے اس نام کی معنویت کو اس طرح نمایاں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو وہ مقامِ محمود عطا فرمایا جس کی طرف قرآن و حدیث میں اشارہ ملتا ہے، اور آج بھی دنیا کے گوشے گوشے میں ہر اذان، ہر نماز اور ہر درود کے ساتھ آپ ﷺ کا ذکرِ خیر جاری ہے۔
حلیمہ سعدیہ کی مکہ آمد
اس دور میں اہلِ مکہ کا معمول تھا کہ وہ اپنے نومولود بچوں کو دیہاتی خاندانوں کے سپرد کرتے تاکہ بچے کھلی اور صحت مند فضا میں پرورش پائیں اور خالص عربی زبان سیکھیں۔ اس کے لیے دیہات سے لوگ بچے لینے کے لیے مکہ آتے رہتے تھے۔
رسول اللہ ﷺ کی ولادت کے وقت حضرت حلیمہ سعدیہ بنو سعد بن بکر کی خواتین کے ساتھ مکہ مکرمہ آئیں۔ اس وقت سخت قحط اور تنگ دستی تھی۔ ان کی سواری کمزور تھی، ان کے سینے میں اپنے بچے کے لیے مناسب دودھ نہ تھا اور ان کا بچہ بھوک کی شدت سے رات بھر روتا تھا۔
مکہ پہنچنے کے بعد بنو سعد کی خواتین نے ایک ایک کرکے بچوں کو اپنے ساتھ لینا شروع کیا، ادھر رسول کو بھی لینے کے لیے ساری عورتیں آمنہ کے پاس آئیں مگر رسول اللہ ﷺ کو یتیم جان کر کسی بھی خاتون نے آپ ﷺ کو لینے کی رغبت ظاہر نہ کی۔
حضرت حلیمہ بھی پہلے تردد کرتی رہیں، لیکن جب واپسی کا وقت آیا اور ان کے پاس کوئی بچہ نہ تھا تو انہوں نے آپ ﷺ کو لے لینے کا فیصلہ کیا۔ ان کے شوہر نے بھی کہا کہ شاید اللہ تعالیٰ اسی بچے کے ذریعے ہمارے لیے خیر پیدا فرمائے۔
فیضانِ رحمت کا ظہور
حضرت حلیمہ سعدیہ جب رسول اللہ ﷺ کو اپنی گود میں لے کر واپس روانہ ہوئیں تو ان کی روایت کے مطابق حالات کا رخ بدلنے لگا۔ ان کے سینے میں دودھ آگیا، آپ ﷺ نے سیر ہوکر دودھ پیا اور آپ ﷺ کے رضاعی بھائی نے بھی پیٹ بھر کر دودھ پیا۔ پھر ان کے شوہر نے اونٹنی کو دیکھا تو اس کے تھن بھی دودھ سے بھرے ہوئے تھے۔ ان کی وہی کمزور سواری، جو مکہ آتے ہوئے قافلے سے پیچھے رہ جاتی تھی، واپسی میں سب سے آگے آگے چلنے لگی۔ بنو سعد کے علاقے میں پہنچنے کے بعد بھی ان کی بکریاں بھرے ہوئے تھنوں کے ساتھ واپس آتیں، جبکہ دوسروں کی بکریاں بھوکی اور بے دودھ لوٹتیں۔ یہاں تک کہ لوگ اپنے چرواہوں سے کہتے کہ تم بھی وہاں جاؤ جہاں حلیمہ کی بکریاں جاتی ہیں۔ (الرحیق المختوم از صفی الرحمن مبارکپوری:85)
عبدالمطلب کی غیر
معمولی شفقت
حلیمہ سعدیہ کے پاس ابتدائی پرورش کے بعد رسول اللہ ﷺ چار سال کی عمر میں اپنی والدہ حضرت آمنہ کے پاس واپس مکہ آگئے۔ لیکن ماں کی ممتا کا خوبصورت آنچل بھی آپ کے سر مبارک پر زیادہ دیر نہ رہ سکا۔ محض چھ برس کی عمر میں حضرت آمنہ بھی چل بسیں اور آپ ﷺ دُرِّ یتیم ہوگئے ۔
ماں کے چلے جانے کے بعد آپ ﷺ کی مکمل کفالت آپ کے دادا عبدالمطلب نے سنبھالی، اور انہوں نے اپنی اولاد سے بڑھ کر اپنے اس ننھے یتیم پوتے محمد ﷺ کو محبت و شفقت سے پالا پوسا ۔
ابن ہشام کی روایت کے مطابق کعبہ کے سائے میں عبدالمطلب کے لیے ایک خاص فرش بچھایا جاتا تھا۔ ان کے بیٹے احتراماً اس پر نہیں بیٹھتے تھے، لیکن رسول اللہ ﷺ کم سنی میں وہاں آکر بیٹھ جاتے۔ جب آپ ﷺ کے چچا آپ ﷺ کو وہاں سے ہٹانے کی کوشش کرتے تو عبدالمطلب انہیں روک دیتے اور فرماتے:
«دَعُوا ابْنِي، فَوَاللَّهِ إِنَّ لَهُ لَشَأْنًا»
’’میرے بیٹے کو رہنے دو، اللہ کی قسم! اس کا ایک خاص مقام ہوگا۔‘‘
پھر وہ آپ ﷺ کو اپنے پاس بٹھاتے، آپ ﷺ کی پشت پر ہاتھ پھیرتے اور آپ ﷺ کو دیکھ کر خوش ہوتے۔ (ابن ہشام 1/168، الرحیق المختوم:87)
باران رحمت کا نزول
رسول اللہ ﷺ کے بچپن سے متعلق ایک اور مشہور روایت میں بارش کے نزول کا ذکر آتا ہے۔ ہوا یوں کہ دادا کے انتقال کے بعد جب آپ اپنے چچا حضرت ابو طالب کی زیر نگرانی آگئے تو ایک مرتبہ مکہ مکرمہ میں شدید قحط پڑا۔ قریش نے حضرت ابو طالب سے بارش کی دعا کرنے کی درخواست کی۔ حضرت ابو طالب رسول اللہ ﷺ کو اپنے ساتھ لے گئے اور آپ ﷺ کی موجودگی میں بارش کے لیے دعا کی۔ کعبہ کے سایے میں اپنے چچا کے ساتھ آپ کھڑے تھے ۔تبھی بادل مختلف سمتوں سے جمع ہونے لگا اور زوردار باران رحمت نازل ہوئی، یہاں تک کہ زمین سرسبز و شاداب ہوگئی۔( الرحیق المختوم از صفی الرحمن مبارکپوری: 88)
بچپن سے رحمت عالم تک
یہی وہ ہمارے نبی محمد کا بچپن تھا جس کے افق سے آگے چل کر رحمتِ عالم ﷺ کا آفتاب طلوع ہونا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی بعثت کے مقصد کو ان الفاظ میں بیان فرمایا:
﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾
’’اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت ہی بنا کر بھیجا ہے۔‘‘
(سورۃ الانبیاء: 107)
آپ ﷺ کی ولادت انسانیت کے لیے عظیم نعمت تھی اور آپ ﷺ کی بعثت اس نعمت کی تکمیل۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کا ذکر بلند فرمایا، آپ ﷺ کو مقامِ محمود عطا کیا اور قیامت تک آپ ﷺ کے ذکرِ خیر کو باقی رکھا۔
اس لیے سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ محض ماضی کی ایک عظیم شخصیت کو جاننے کا ذریعہ نہیں، بلکہ اپنی زندگی کو اسوۂ رسول ﷺ کے سانچے میں ڈھالنے کی دعوت بھی ہے۔ ہم لوگ آپ ﷺ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی حتی المقدور کوشش کریں۔ یہی محبتِ رسول ﷺ کا عملی تقاضا اور فیضانِ رحمت سے حقیقی وابستگی ہے۔
Comments
Post a Comment