رحمتِ عالم ﷺ کے انسانیت پر عظیم احسانات — مولانا مفتی حافظ محمد جاوید احمد نظامی کا خطاب۔


بیدر، 18/ اگست (نامہ نگار) حضورِ اکرم ﷺ پوری انسانیت کے عظیم محسن ہیں۔ آپ ﷺ کی بعثتِ مبارکہ انسانیت پر اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے۔ آپ ﷺ نے انسانیت کو جہالت و گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر علم و ہدایت کی روشنی عطا فرمائی اور انسان کو توحید، انسانیت، مساوات، عدل و انصاف، محبت، اخوت اور حسنِ اخلاق کا درس دیا۔ ان خیالات کا اظہار مولانا مفتی حافظ محمد جاوید احمد نظامی، امام و خطیب موتی مسجد (کالی مسجد)، بیدر نے نبی خانہ مبارک، بیدر میں ڈاکٹر قاضی سید سراج الدین عمران قادری کی سرپرستی میں، جناب ڈاکٹر الحاج سید حسام الدین قادری عزیر، صدر قاضی دارالقضاء بیدر کی نگرانی میں منعقدہ 12 روزہ محفلِ میلاد النبی ﷺ کی دوسری مجلسِ میلاد بعنوان ’’رحمتِ عالم ﷺ اور انسانیت پر احسانات‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے قرآنِ کریم کی آیتِ مبارکہ لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کی بعثت کو اہلِ ایمان پر عظیم احسان قرار دیا ہے۔ حضورِ اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت، بعثت اور آپ ﷺ کی پوری حیاتِ مبارکہ انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور احسانات کا عظیم مظہر ہے۔ مولانا مفتی حافظ محمد جاوید احمد نظامی نے کہا کہ حضورِ اکرم ﷺ کے احسانات کا شمار انسان کے لیے ممکن نہیں۔ آپ ﷺ نے انسانیت پر سب سے بڑا احسان یہ فرمایا کہ جہالت اور گمراہی کے اندھیروں کو ختم کرکے علم و ہدایت کی روشنی عام فرمائی۔ آپ ﷺ نے انسان کو ایک اللہ کی بندگی کا درس دیا اور مخلوق کی غلامی سے نکال کر خالقِ حقیقی کے سامنے جھکنے کا سلیقہ عطا فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ رسولِ رحمت ﷺ کا انسانیت پر ایک عظیم احسان مساوات اور اخوت کا درس ہے۔ ایسے معاشرے میں جہاں رنگ، نسل، قبیلہ، مال و دولت اور سماجی حیثیت کی بنیاد پر انسانوں میں تفریق کی جاتی تھی، آپ ﷺ نے ہر انسان کو عزت و وقار عطا فرمایا۔ غلاموں، غریبوں، یتیموں، مسکینوں اور کمزوروں کے حقوق کو محفوظ فرمایا اور معاشرے کے محروم طبقات کو عزتِ انسانی سے سرفراز کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حضورِ اکرم ﷺ کا عورتوں پر بھی عظیم احسان ہے۔ آپ ﷺ نے بیٹیوں کی پرورش کو باعثِ اجر قرار دیا، ماں کے مقام کو بلند فرمایا اور بیوہ و کمزور خواتین کی کفالت اور عزت و احترام کی تعلیم دی۔ جس معاشرے میں بیٹی کی پیدائش کو باعثِ ندامت سمجھا جاتا تھا، اسی معاشرے میں آپ ﷺ نے بیٹی کو رحمت اور اس کی اچھی پرورش کو جنت کا ذریعہ قرار دیا۔ مولانا نظامی نے کہا کہ رسولِ اکرم ﷺ نے غلاموں، یتیموں، مسکینوں اور کمزوروں کے حقوق کی حفاظت فرما کر انسانیت پر عظیم احسان فرمایا۔ آپ ﷺ نے غلاموں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دی اور انہیں بھی عزت و احترام کے ساتھ انسان سمجھنے کا درس دیا۔ آپ ﷺ کی تعلیمات نے معاشرے کے کمزور طبقات کو تحفظ، عزت اور حقوق عطا کیے۔ انہوں نے کہا کہ حضورِ اکرم ﷺ نے انسانیت کے دلوں میں ایثار، قربانی، محبت، رحم اور ہمدردی کا جذبہ پیدا فرمایا۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ ﷺ کی تربیت سے ایسی بے مثال قربانیاں پیش کیں کہ تاریخِ انسانیت آج بھی ان کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ شدید پیاس کے باوجود اپنے مسلمان بھائی کو پانی پلانے کو ترجیح دینا اسی تربیتِ مصطفیٰ ﷺ کا روشن نمونہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضورِ اکرم ﷺ کے احسانات صرف کسی ایک قوم، خطے یا زمانے تک محدود نہیں بلکہ آپ ﷺ پوری انسانیت کے محسن ہیں۔ آپ ﷺ نے انسان کو اس کے رب سے ملایا، انسان کو انسان کا احترام سکھایا اور معاشرے میں عدل، رحم، اخوت اور باہمی احترام کی بنیاد رکھی۔ مولانا مفتی حافظ محمد جاوید احمد نظامی نے کہا کہ آج میلادِ مصطفیٰ ﷺ منانے کا تقاضا یہ ہے کہ ہم حضورِ اکرم ﷺ کے احسانات کو صرف بیان نہ کریں بلکہ آپ ﷺ کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں بھی نافذ کریں۔ ہم اپنے اخلاق سنواریں، والدین کی خدمت کریں، پڑوسیوں کے حقوق ادا کریں، یتیموں اور مسکینوں کا سہارا بنیں، کمزوروں کی مدد کریں اور ہر انسان کے ساتھ حسنِ سلوک کا معاملہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر امتِ مسلمہ حضورِ اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو اپنی زندگی کا دستور بنا لے تو معاشرے سے نفرت، ظلم، تعصب، ناانصافی اور خود غرضی کا خاتمہ ہوسکتا ہے اور محبت، اخوت، عدل و انصاف اور امن و سلامتی کو فروغ حاصل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضورِ اکرم ﷺ کے احسانات کا بدلہ ادا کرنا انسان کے بس میں نہیں۔ ہماری کامیابی اسی میں ہے کہ ہم آپ ﷺ سے سچی محبت کریں، آپ ﷺ کی سنتوں پر عمل کریں، آپ ﷺ کی سیرت کو اپنی زندگی میں نافذ کریں اور کثرت سے آپ ﷺ پر درود و سلام بھیجیں۔ محفل کے دوران قاضی سید معین الدین حمزہ قادری اور قاضی سید حارث الدین قادری نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہوئے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی، جبکہ محمد شفیع الدین نے محبت و عقیدت کے ساتھ سلام پیش کیا۔ نبی خانہ مبارک، بیدر میں اس موقع پر عقیدت و محبت کا روح پرور ماحول رہا۔ علماء و مشائخ، حفاظ و قراء، نعت خواں حضرات اور عاشقانِ رسول ﷺ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مجلس کے اختتام پر بارگاہِ رسالت ﷺ میں درود و سلام پیش کیا گیا اور امتِ مسلمہ، ملک و ملت اور پوری انسانیت کی سلامتی و خیر و عافیت کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔