کہانی - غربت سے بغاوت - ازقلم : رہبر تماپوری۔
کہانی - غربت سے بغاوت -
ازقلم: رہبر تماپوری۔
مہمان معلم، جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم
جامعہ نگر، تماپور، تعلقہ شوراپور، ضلع یادگیر، ریاستِ کرناٹک
رابطہ: 8431012141
گاؤں کے کنارے ایک چھوٹا سا چائے کا ہوٹل تھا۔ صبح ہوتے ہی چولہے سے دھواں اٹھتا اور حامی حسین کے والد دن بھر کی مشقت میں لگ جاتے۔ معمولی آمدنی سے گھر کے افراد کا پیٹ پالنا آسان نہ تھا، مگر انہوں نے کبھی بچوں کے خوابوں کو غربت کے آگے جھکنے نہیں دیا۔
حامی حسین اور اس کے بھائی پڑھنے میں محنتی تھے۔ دسویں جماعت تک تعلیم گاؤں میں ہوئی، مگر اعلیٰ تعلیم کے لیے انہیں سو میل دور شہر جانا پڑا۔ کرایہ، کتابیں اور کھانے کے اخراجات والد کی محدود آمدنی کے لیے بڑا بوجھ تھے۔ ایک شام حامی نے جھجھکتے ہوئے کہا، ”اب شاید پڑھائی چھوڑ دینی چاہیے۔“
والد نے خاموشی سے اسے دیکھا اور بولے، ”بیٹا! غربت ہمارے گھر میں ہے، تمہارے حوصلے میں نہیں۔ پڑھائی مت چھوڑنا۔“
ماں نے بھی اپنے عمل سے یہی حوصلہ دیا۔ وہ فجر سے پہلے اٹھتیں، کھانا پکاتیں اور ایک ڈبے میں بند کرکے صبح کی بس سے بیٹوں تک بھجواتیں۔ کبھی کھانا کم پڑتا تو وہ خود کم کھا لیتیں، مگر بچوں کے حصے میں کمی نہ آنے دیتیں۔
شہر میں حامی اور اس کے بھائی سادہ زندگی گزارتے۔ کبھی پرانی کتابیں خریدتے، کبھی دوستوں سے نوٹس مانگتے اور رات گئے تک پڑھتے۔ مستقبل کا خواب انہیں دوبارہ کتاب کھولنے پر مجبور کر دیتا۔
ایک رات بجلی چلی گئی۔ حامی نے کتاب بند کی تو بھائی نے کہا، ”آج بس کرتے ہیں۔“
حامی نے ماں کے بھیجے ہوئے کھانے کا خالی ڈبہ دیکھا اور مسکرا کر بولا، ”نہیں، آج نہیں۔ یہ ڈبہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارے گھر والے ہماری تعلیم کے لیے کتنی قربانی دے رہے ہیں۔“
سال گزرتے گئے۔ مشکلات ختم نہ ہوئیں، مگر محنت جاری رہی۔ بالآخر مسابقتی امتحان کا نتیجہ آیا۔ حامی حسین کامیاب ہو چکا تھا۔ اسے کلاس ون افسر کی حیثیت سے تقرری مل گئی۔ اس کے بھائی نے بھی اپنی منزل حاصل کر لی۔
گھر واپس پہنچ کر حامی نے سب سے پہلے والد کے ہاتھ چومے اور ماں کے سامنے خاموش کھڑا رہا۔ ماں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ حامی نے کہا، ”امّی! آپ کے اس چھوٹے سے ڈبے نے ہماری بڑی زندگی بدل دی۔“
والد نے چائے کے ہوٹل کی طرف دیکھا اور کہا، ”یہ کامیابی غربت کی شکست نہیں، ہمت کی فتح ہے۔“
حامی نے سمجھ لیا کہ غربت سے بغاوت دولت سے نہیں، تعلیم اور ثابت قدمی سے ہوتی ہے۔ حالات انسان کی رفتار کم کر سکتے ہیں، منزل نہیں چھین سکتے۔
اس دن حامی نے فیصلہ کیا کہ وہ ضرورت مند بچوں کی تعلیم میں مدد کرے گا، تاکہ کسی اور بچے کو صرف غربت کی وجہ سے خواب ادھورا نہ چھوڑنا پڑے۔ ایک چراغ پوری نسل کی راہ روشن کر سکتا ہے۔
Comments
Post a Comment