اقبال فہمی - (قسط دہم) - گل رنگیں حسن فطرت اور نگاہ عشق و معرفت ہے - ازقلم : ابرارالحق مظہرؔ حسناتی، سولاپور۔


اقبال فہمی - 
(قسط دہم) - 
گل رنگیں حسن فطرت اور نگاہ عشق و معرفت ہے - 
ازقلم : ابرارالحق مظہرؔ حسناتی، سولاپور۔

گزشتہ اشعار میں علامہ اقبال نے گل رنگیں کے حسن کے مقابل انسان کے دل کی اس بے قراری کو رکھا تھا جو اسے زندگی کے مشکل سوالوں سے دوچار کرتی ہے اور اسے محض بزم ہستی کی زینت بن کر رہنے نہیں دیتی۔ اب نظم کے اس حصے میں اقبال اسی گفتگو کو ایک اور نہایت لطیف رخ دیتے ہیں۔ یہاں شاعر پھول کو توڑنے سے انکار کرتا ہے اور اس انکار کے ذریعے محض پھول کی حفاظت کا جذبہ ظاہر نہیں کرتا بلکہ حسن کو دیکھنے کے دو مختلف طریقوں کا فرق واضح کرتا ہے۔ ایک نگاہ وہ ہے جو کسی خوب صورت شے کو صرف اپنے تصرف میں لانے کی خواہش رکھتی ہے اور دوسری نگاہ وہ ہے جو حسن کو اس کے اصل مقام پر رہتے ہوئے دیکھتی ہے اور اس کے اندر پوشیدہ حکمت اور جمال کو محسوس کرتی ہے۔ اقبال کے نزدیک حقیقی حسن پر قبضہ کرنے سے اس کی حقیقت حاصل نہیں ہوتی بلکہ بعض اوقات حسن کو اپنی جگہ آزاد چھوڑ دینا ہی اس کی صحیح قدر شناسی ہوتی ہے۔ اسی لیے وہ گل سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں

توڑ لینا شاخ سے تجھ کو مرا آئین نہیں
یہ نظر غیر از نگاہِ چشمِ صورت بیں نہیں

یہاں آئین سے مراد شاعر کا وہ اصول ہے جس کے تحت وہ حسن کے ساتھ معاملہ کرتا ہے۔ وہ پھول کو دیکھتا ہے مگر اسے توڑنے کی خواہش نہیں رکھتا۔ اس کی نگاہ پھول کی ملکیت نہیں چاہتی بلکہ اس کے حسن کا مشاہدہ چاہتی ہے۔ یہی فرق اقبال کے تصور جمال کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ دنیا میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جنہیں انسان دیکھتے ہی اپنے قبضے میں لانا چاہتا ہے۔ خوب صورت پھول ہو تو توڑ لیتا ہے۔ خوب صورت منظر ہو تو اسے اپنی ملکیت سمجھنے لگتا ہے۔ کسی انسان میں حسن ہو تو اسے اپنی خواہش کا موضوع بنا لیتا ہے۔ لیکن اقبال کی نگاہ حسن کو محض تصرف کی چیز نہیں سمجھتی۔ ان کے نزدیک حسن اپنی جگہ ایک حقیقت کا مظہر ہے اور اس حقیقت کو محسوس کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ انسان اسے اپنے ہاتھ میں لے آئے۔
یہی وجہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میری یہ نگاہ محض صورت بین آنکھ کی نگاہ نہیں ہے۔ صورت بین آنکھ پھول کا رنگ دیکھتی ہے۔ اس کی بناوٹ دیکھتی ہے۔ اس کی تازگی دیکھتی ہے اور اسی ظاہری حسن سے متاثر ہوتی ہے لیکن اقبال کی نگاہ اس ظاہری حسن کے اندر ایک باطنی معنی تلاش کرتی ہے۔ وہ پھول کو صرف پھول کی حیثیت سے نہیں دیکھتے بلکہ اسے قدرت کی ایک تخلیق سمجھتے ہیں۔ اس کے رنگ میں مصور قدرت کی کاری گری دیکھتے ہیں۔ اس کی خوشبو میں ایک ایسی حکمت محسوس کرتے ہیں جس کا تعلق صرف انسانی ذوق سے نہیں بلکہ پوری کائنات کے نظام سے ہے۔ اس طرح پھول ان کے لیے محض جمالیاتی شے نہیں رہتا بلکہ وہ آیتِ قدرت بن جاتا ہے۔ یہی قرآنی طرزِ نظر ہے جس میں کائنات کی اشیا اپنی ذات میں آخری منزل نہیں ہوتیں بلکہ اپنے خالق کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔
اقبال کی یہ نگاہ اسی لیے پھول کو توڑنے کے بجائے اسے اس کے مقام پر دیکھنا چاہتی ہے۔ یہاں ان کے اسلامی تصورِ جمال کا ایک نہایت اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ اسلام میں حسن سے فرار نہیں بلکہ حسن کی صحیح معرفت مطلوب ہے۔ قرآن مجید انسان کو کائنات کے حسن اور نظم پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے لیکن ساتھ ہی اسے اس حقیقت سے بھی آگاہ کرتا ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے۔ چنانچہ اہلِ بصیرت جب فطرت کے حسن کو دیکھتے ہیں تو ان کی نگاہ حسن پر ٹھہر نہیں جاتی بلکہ حسن کے خالق تک پہنچتی ہے۔ اقبال اسی کیفیت کو اپنی شاعری میں جمالِ فطرت کے ذریعے بار بار پیش کرتے ہیں۔

پھر شاعر نہایت درد مندانہ انداز میں کہتا ہے

آہ یہ دستِ جفا جو اے گلِ رنگیں نہیں
کس طرح تجھ کو یہ سمجھاؤں کہ میں گلچیں نہیں

یہاں اقبال ایک نہایت خوب صورت شعری موڑ پیدا کرتے ہیں۔ بظاہر وہ اپنے ہاتھ کو پھول توڑنے سے روک رہے ہیں مگر حقیقت میں وہ انسان کے اس رویے پر گفتگو کر رہے ہیں جس میں حسن کو دیکھتے ہی اس پر قبضہ کرنے کی خواہش پیدا ہوجاتی ہے۔ شاعر کا ہاتھ پھول کی طرف بڑھ سکتا تھا لیکن وہ اسے توڑنے کے لیے نہیں بڑھتا۔ وہ اس لیے نہیں کہتا کہ پھول خوب صورت نہیں بلکہ اس لیے کہ وہ اس خوب صورتی کو پامال نہیں کرنا چاہتا۔ یہی وہ فرق ہے جو اقبال کی نگاہ کو عام گلچیں کی نگاہ سے ممتاز کرتا ہے۔
گلچیں پھول کو توڑتا ہے کیونکہ اس کے نزدیک پھول کی تکمیل اس وقت ہوتی ہے جب وہ شاخ سے جدا ہوکر اس کے ہاتھ میں آجائے۔ شاعر کے نزدیک پھول کی خوب صورتی اسی وقت مکمل ہے جب وہ اپنی شاخ پر کھلا ہوا ہے۔ اس کی تازگی اسی زندگی سے وابستہ ہے جس میں وہ اپنی جڑ سے متصل ہے۔ اسے توڑ لینا بظاہر حسن کو اپنے قبضے میں لے لینا ہے لیکن حقیقت میں اس کی زندگی کو ختم کرنا ہے۔ اقبال اسی لیے اپنے ہاتھ کو دستِ جفا کہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ محض حسن کو پسند کرنا کافی نہیں بلکہ حسن کے ساتھ برتاؤ بھی اس پسند کی حقیقت ظاہر کرتا ہے۔
یہاں اقبال کے تصورِ محبت کا ایک نہایت لطیف پہلو سامنے آتا ہے۔ حقیقی محبت ہمیشہ ملکیت کا مطالبہ نہیں کرتی۔ کبھی محبت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ جس چیز کو محبوب سمجھتے ہو اسے اس کی اپنی فطرت کے مطابق زندہ رہنے دو۔ پھول سے محبت کا مطلب یہ نہیں کہ اسے توڑ کر اپنے کمرے میں سجا لیا جائے بلکہ کبھی یہ بھی محبت ہے کہ اسے اسی شاخ پر کھلا رہنے دیا جائے جہاں قدرت نے اسے رکھا ہے۔ اس اعتبار سے اقبال کا شاعر محض عاشقِ جمال نہیں بلکہ جمال کا امین بن جاتا ہے۔
اور یہی بات انسانی زندگی پر بھی منطبق ہوتی ہے۔ انسان جب کسی حسن یا خوبی کو دیکھتا ہے تو اس کے اندر اسے حاصل کرنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے لیکن ہر حاصل کرنا محبت نہیں ہوتا۔ کبھی کسی چیز کی حفاظت اس کے حصول سے زیادہ بڑی محبت ہوتی ہے۔ کبھی کسی انسان کو آزادی دینا اسے اپنے اختیار میں رکھنے سے زیادہ پاکیزہ تعلق ہوتا ہے۔ کبھی کسی خوب صورتی کو دور سے دیکھ کر اس کی عظمت محسوس کرنا اس سے تصرف کرنے کی خواہش سے کہیں بلند کیفیت ہوتی ہے۔ اقبال کے یہاں عشق کی یہی روح نظر آتی ہے کہ وہ محبوب کو مٹاتا نہیں بلکہ اس کے وجود کی قدر بڑھاتا ہے۔

اس کے بعد اقبال فرماتے ہیں

کام مجھ کو دیدۂ حکمت کے الجھیڑوں سے کیا
دیدۂ بلبل سے میں کرتا ہوں نظارہ تیرا

یہاں شاعر اپنی نگاہ کے مزاج کو مزید واضح کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ مجھے محض فلسفیانہ موشگافیوں اور حکمت کے پیچیدہ الجھیڑوں سے کیا غرض۔ میں تیرے حسن کو بلبل کی آنکھ سے دیکھتا ہوں۔ یہ مصرع اقبال کے ہاں عقل اور عشق کے تعلق کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ اقبال عقل کے مخالف نہیں بلکہ وہ اس عقل پر تنقید کرتے ہیں جو زندگی کے ہر راز کو صرف تجزیے اور بحث کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کرتی ہے اور اس کے نتیجے میں حسن کی وہ کیفیت کھو دیتی ہے جسے صرف احساس اور محبت کے ذریعے محسوس کیا جاسکتا ہے۔
دیدۂ حکمت یہاں اس ذہنی نگاہ کی علامت ہے جو ہر چیز کو مسئلہ بنا کر اس کے اجزا تلاش کرتی ہے۔ وہ پھول کو دیکھے گی تو اس کی ساخت بیان کرے گی۔ اس کے رنگ کی کیمیائی بنیاد تلاش کرے گی۔ اس کی خوشبو کے اسباب دریافت کرے گی اور اس کے وجود کے طبعی مراحل کی وضاحت کرے گی۔ یہ سب اپنی جگہ علم ہے اور اقبال علم کے منکر نہیں لیکن اس علم سے پھول کی پوری حقیقت سامنے نہیں آتی۔ پھول کی ایک حقیقت وہ ہے جو عقل کے تجزیے سے معلوم ہوتی ہے اور ایک حقیقت وہ ہے جو اس کے حسن کو دیکھ کر دل پر وارد ہوتی ہے۔ اقبال دوسری حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
اسی لیے وہ دیدۂ بلبل کو سامنے لاتے ہیں۔ بلبل پھول کو کسی نباتاتی مسئلے کے طور پر نہیں دیکھتی۔ وہ اس کے رنگ میں الجھ کر یہ نہیں پوچھتی کہ اس کی ساخت کیا ہے اور اس کی خوشبو کن عناصر سے پیدا ہوئی ہے۔ وہ پھول کو دیکھتی ہے اور اس کے حسن میں ڈوب جاتی ہے۔ اس کی آواز پھول کے حسن سے ایک تعلق پیدا کرتی ہے۔ اقبال اسی کیفیت کو اپنے مشاہدے کی علامت بناتے ہیں۔ یہاں بلبل دراصل عشق کی نگاہ ہے اور پھول حسن کی علامت۔ جب حسن کو عشق کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے تو وہ صرف ایک ظاہری صورت نہیں رہتا بلکہ دل کے اندر ایک کیفیت پیدا کرتا ہے۔
یہاں اقبال کی فکر میں عقل اور عشق کا وہ توازن بھی سمجھ میں آتا ہے جو ان کی پوری شاعری میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اقبال عقل کو رد نہیں کرتے۔ وہ عقل کو ضروری سمجھتے ہیں مگر عقل کو آخری حاکم نہیں مانتے۔ عقل راستہ دکھا سکتی ہے۔ چیزوں کے ظاہری اسباب سمجھ سکتی ہے۔ کائنات کے قوانین دریافت کرسکتی ہے لیکن زندگی کے آخری معنی تک پہنچنے کے لیے محض عقل کافی نہیں۔ وہاں دل کی بصیرت۔ عشق کی حرارت اور روحانی شعور کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے اقبال کبھی عقل کو چھوڑنے کی دعوت نہیں دیتے بلکہ اسے عشق کے تابع اور اس سے ہم آہنگ دیکھنا چاہتے ہیں۔
اس شعر کا ایک اور نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ اقبال پھول کے حسن کو کسی پیچیدہ فلسفیانہ تعریف میں قید نہیں کرتے۔ وہ اس کے سامنے کھڑے ہوکر اس کی خوب صورتی کو محسوس کرتے ہیں۔ اس میں ایک ایسی سادگی ہے جو ان کے پورے فکری نظام سے ہم آہنگ ہے۔ حقیقی معرفت ہمیشہ پیچیدہ الفاظ کی محتاج نہیں ہوتی۔ کبھی ایک پھول انسان کو وہ حقیقت دکھا دیتا ہے جسے فلسفے کی پوری کتابیں بھی پوری طرح بیان نہیں کرسکتیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ دیکھنے والی آنکھ میں بصیرت اور محسوس کرنے والے دل میں زندگی موجود ہو۔
یہاں گزشتہ اشعار میں بیان ہونے والی خراشِ عقدۂ مشکل بھی ایک نئے معنی کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ وہی دل جو زندگی کے مشکل سوالوں سے بے چین ہے اب اسی دل کے اندر حسن کو دیکھنے کی ایک خاص صلاحیت بھی پیدا ہوگئی ہے۔ یعنی اقبال کے نزدیک درد اور جمال ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ جس دل میں زندگی کا احساس گہرا ہوتا ہے وہی دل حسن کے لطیف ترین اثرات کو بھی محسوس کرتا ہے۔ جو دل دوسروں کے درد سے بے خبر ہے وہ حسن کی حقیقی معنویت سے بھی محروم ہوسکتا ہے کیونکہ حسن صرف آنکھ کو خوش کرنے والی چیز نہیں بلکہ دل کو نرم کرنے والی قوت بھی ہے۔
اسی لیے گل رنگیں کے یہ اشعار اقبال کے تصور انسان میں ایک اور اضافہ کرتے ہیں۔ گزشتہ اشعار میں انسان کو آرزو رکھنے والا۔ زندگی کی شورش میں شریک ہونے والا اور مشکل سوالات سے نبرد آزما ہونے والا وجود بتایا گیا تھا۔ اب اسی انسان کو ایک ایسی نگاہ عطا کی جاتی ہے جو حسن کو پامال کیے بغیر اس کا مشاہدہ کرسکتی ہے۔ وہ پھول کو توڑتا نہیں بلکہ اس کے حسن کو اس کی اپنی جگہ رہتے ہوئے محسوس کرتا ہے۔ وہ دیدۂ حکمت کی خشک پیچیدگی میں الجھنے کے بجائے دیدۂ بلبل کی زندہ نگاہ سے اسے دیکھتا ہے۔ یوں اقبال کے انسان میں فکر بھی ہے اور ذوق بھی۔ عقل بھی ہے اور عشق بھی۔ سوال بھی ہے اور جمال کا احساس بھی۔ یہی امتزاج اسے محض حیوانی وجود سے بلند کرکے ایک صاحبِ شعور اور صاحبِ دل انسان بناتا ہے۔
اس پورے حصے میں اقبال دراصل یہ بتاتے ہیں کہ حسن کو دیکھنے کے لیے صرف آنکھ کافی نہیں ہوتی بلکہ ایک ایسا دل بھی چاہیے جو حسن کی حرمت کو سمجھ سکے۔ پھول کو توڑ لینا آسان ہے مگر اس کے حسن کو سمجھنا مشکل ہے۔ اس پر قبضہ کرلینا آسان ہے مگر اسے اس کی اپنی جگہ پر رہنے دینا اور پھر بھی اس سے محبت کرنا ایک بلند تر کیفیت ہے۔ عقل سے اس کی ساخت بیان کرنا آسان ہے مگر بلبل کی طرح اس کے حسن میں ڈوب جانا ایک دوسری نوع کی معرفت ہے۔ اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں اقبال کا گل رنگیں محض پھول نہیں رہتا بلکہ انسان کے لیے ایک آئینہ بن جاتا ہے جس میں وہ دیکھ سکتا ہے کہ وہ کائنات کی خوب صورتی کے ساتھ کیسا تعلق رکھتا ہے۔ کیا وہ ہر حسن کو اپنی ملکیت بنانا چاہتا ہے یا اسے اللہ تعالیٰ کی تخلیق سمجھ کر اس کی حرمت اور آزادی کو بھی پہچانتا ہے۔ کیا وہ ہر حقیقت کو محض تجزیے کے ذریعے سمجھنا چاہتا ہے یا اس کے اندر وہ دل بھی موجود ہے جو حسن کے سامنے خاموش ہوکر اسے محسوس کرسکے۔
اقبال کی نظر میں یہی زندہ دل انسان ہے جو فطرت کے حسن سے لطف بھی لیتا ہے اور اس حسن کے پیچھے کارفرما قدرت کو بھی پہچانتا ہے۔ وہ پھول کو دیکھتا ہے تو صرف پھول نہیں دیکھتا۔ وہ اس کے رنگ میں قدرت کی صنعت دیکھتا ہے۔ اس کی خوشبو میں رحمت کا احساس کرتا ہے۔ اس کی نزاکت میں تخلیق کی حکمت محسوس کرتا ہے اور پھر اسے توڑ کر اپنے قبضے میں لینے کے بجائے اسی شاخ پر کھلا دیکھ کر اپنے دل کو اس حسن کے مشاہدے سے معمور کرتا ہے۔ یہی وہ نگاہ ہے جو صورت سے معنی تک پہنچتی ہے اور یہی وہ دل ہے جس کے لیے اقبال کی شاعری میں حسن کبھی محض حسن نہیں رہتا بلکہ معرفت کی ایک خاموش راہ بن جاتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔