میرا گاؤں(بیودہ ۔۔ ) ازقلم ۔ سید صداقت علی ندوی۔(امام وخطیب مسجد اقصیٰ گنگانگر، آکولہ)
میرا گاؤں(بیودہ ۔۔ )
ازقلم ۔ سید صداقت علی ندوی۔
(امام وخطیب مسجد اقصیٰ گنگانگر، آکولہ)
ضلع امراوتی کے دریا پور تحصیل میں بیودہ ایک معروف وتاریخی مقام ہے جہاں قادریہ سلسلے کے کئی بزرگ مدفون ہیں جہاں کی جامع مسجد قدیم طرز تعمیر کی شاہکارو انھیں بزرگان دین کی تعمیر کردہ تھی۔
یہ مقام علاقہ برار کے زرخیز و مردم خیز مقامات میں سے ایک ہے جسکی آبادی تعلیم یافتہ ومتمول خاندانوں پر مشتمل ہے ثقافتی و تمدنی لحاظ سے بیودہ قدیم وجدید تہذیب کا سنگم ہے جو ہندو ومسلم دونوں پر مشتمل آبادی کا حسین گلدستہ ہے سماجی ہم آہنگی یہاں کاامتیازی وصف ہے جو فسادوجھگڑے سے محفوظ آپسی رواداری اور تہواروں کے موقع پر پیارو محبت کا ملاجلاگہوارہ ہے۔
جہاں کے تعلیمی مراکز ۔ ضلع پریشد اردو اسکول وکاشی بائ اگروال ودیالیہ اور سرسید احمد خان اردو ہائی اسکول وبی اے کالج جیسے بیودہ و اطراف بیودہ کے لیے ایک بہترین تعلیمی وتربیتی ادارے ہیں جہاں ابتداء سے ہائی اسکول تک اور ہائی اسکول سے گریجویشن تک تعلیم کی سہولیات مہیا ہے۔ اسی طرح یہاں کے گاندھی بازار میں ہرقسم کی ضرورت کی چیزیں بسہولت دستیاب ہے ۔۔
یہاں کی گرام پنچایت گاندھی بازار میں ایک اونچے اور آبادی سے گھرے مقام پر واقع ہے جس میں ہندو۔مسلم۔ دلت وبدھسٹ اپنی آبادی کے تناسب کے لحاظ سے ہرایک کی نمائندگی ہے۔ یہاں بس ڈپو سے قریب ایک جانب سرکاری ہسپتال ہے تو دوسری جانب ہائی اسکول ۔ عیدگاہ وبی اے کالج اورکسانوں کی فصلوں کی فروخت کے لیے دانہ مارکیٹ واقع ہے۔
یہاں کی فضاؤں میں جہاں مذہبی رواداری کاعنصر ہے وہیں ادبیت و نغمگی کے سر اور تال بھی موجود ہے کئی شعراء ایسے ہیں جو صاحب دیوان ہیں جیسے ماضی قریب کے شعراء میں مرحوم امین بیودوی رحمۃاللہ علیہ جنکا۔اساس ۔نامی شعری مجموعہ مطبوعہ شکل میں محفوظ اور علاقہ میں مشہور بھی ہے اسی طرح انھی کے ہم عصر حافظ عبدالرحمن رضوی رحمۃاللہ علیہ کہنہ مشق شاعر واچھے مغنی وقارئ قرآن تھے۔
جنکی خطاطی ودیدہ زیب طرز تحریر فن کتابت کا فن پارہ نظر آتی تھی۔اسی طرح موجود شعراء میں محب وفا۔ عبدالمتین بیکل۔ محمود علی ایاز۔ و کوکب انعامدار اپنی کہنہ مشقی وشعری ذوق کی بنیاد پر اخبارات و رسائل کی زینت بنتے رہتے ہیں بلکہ علاقے میں نامور شعراء کی فہرست میں شامل ہے یہی میرے گاؤں کا وہ حسن ہے جو علاقہ برار کے دیگر گاؤں میں اسے ممتاز کرتاہے ۔۔۔
میرے گاؤں کے چند افرادایسے بھی ہے جن کے تذکرے کے بغیر یہ مضمون ناتمام ہی رہے گا کیونکہ انکی وہ جداگانہ حیثیت جو انھیں ودیعت کی گئی تھی وہ بہت کم یاب ہے وہ ہے افراد سازی کا ہنر عموماًجسے ہر کوئی انجام نہیں دے پاتا ۔
ان سے میری مراد ہے عم محترم حافظ صابر خان صاحب رحمۃاللہ علیہ یہ میرے والد محترم ماسٹر سید لیاقت علی صاحب رحمۃاللہ علیہ کے ماموں زاد بھائی تھے اللہ ان حضرات کی بال بال مغفرت فرمائے آمین
حافظ صابر صاحب رحمۃاللہ علیہ گرچے جامعہ عربیہ مفید الاسلام میں حفظ کے استاذ تھے جنکی ربع صدی یعنی تقریباً پچیس سال تک مفید الاسلام کھام گاؤں میں عظیم خدمات رہی ہے لیکن آپ نے اپنی خداداد صلاحیت سے جہاں مفید الاسلام کو علاقہ برار کا معیاری تعلیمی ادارہ بناۓ رکھا وہیں انجمن ہائ اسکول میں تعلیم کے لیے آنے والے طلباء کی جو بیودہ و اطراف کے علاوہ علاقہ برار کے مختلف شھروں و گاؤں سے آیا کرتے تھے سرپرستی فرمائ آپ بڑے علم دوست نرم خو ملنسار وخلیق تھے طلباء کو بڑی عاجزی ملاطفت وخلوص کے ساتھ سمجھاتے اور کبھی کبھی اپنے جیب خاص سے انکی ضروریات بھی پوری فرمایا کرتے تھے۔ جہاں آپ کے شاگردوں میں علماء وحفاظ کی کثیر تعداد ہے وہیں آپ کے خوشہ چینوں میں عصری درسگاہوں سے فارغ ڈاکٹر ٹیچر و انجینئرس حضرات بھی ہیں جو انکے خلوص و شفقت و احسانات کے آج بھی معترف ہیں
گویا آپ رحمۃاللہ علیہ نے بڑی دل سوزی وذمہ داری کے احساس کے ساتھ نونہالان قوم کی تربیت کے فرائض انجام دۓ ہیں اور آج بھی انکے فرزندان ضیاء اللہ خان وذکاء اللہ خان وغیرہ علماء کرام کی خدمات ودیگر دینی وسماجی کاموں میں پیش پیش رہتے ہیں
الحمدللہ گاؤں ہمارے خانوادے پر خدا کی خاص عنایات کرم نوازیاں ہے کہ دادا جان جناب حاجی شمشیر علی صاحب رحمۃاللہ علیہ سے لیکر آج تک دینی وملی خدمات میں آگے آگے ہیں چاہے وہ عیدگاہ و مساجد کی تعمیر ہویا غرباء ومساکین کی دادرسی ہر کام میں بفضل خدا علی بردران بصد احترام وخلوص اپنے عطیات پیش کرتے رہتے ہیں اگر نام لکھوں تو ایک طویل فہرست اسی کے لیے درکار ہوگی فقط اسی پر اکتفاء کرتا ہوں دعاگو ہوں کہ اللہ ہمارے گاؤں کو شاد و آباد رکھے آمین
Comments
Post a Comment