ضد کی کھائی - از قلم : عارف محمد خان جلگاؤں۔


ضد کی کھائی - 
از قلم : عارف محمد خان جلگاؤں۔ 

ارسلان اٹھارہ برس کا ایک ذہین مگر جذباتی نوجوان تھا۔ کئی دنوں سے اس کی ایک ہی خواہش تھی نیا آئی فون۔ اس کے دوستوں کے ہاتھوں میں چمکتے ہوئے مہنگے فون اسے اپنی طرف کھینچتے تھے اور اسے محسوس ہوتا تھا کہ اس کے بغیر اس کی زندگی ادھوری ہے۔
ایک شام اس نے والد سے کہا،
“ابو! مجھے آئی فون چاہیے، آپ آج ہی لے دیں۔”
والد نے شفقت سے سمجھایا، “بیٹا! ابھی کچھ ضروری اخراجات ہیں، چند ماہ انتظار کر لو۔”
ماں نے بھی پیار سے کہا، “تمہاری ہر جائز خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر ضد اچھی بات نہیں۔”
یہ بات ارسلان کو ناگوار گزری۔ اس نے غصے میں گھر سے نکلتے ہوئے کہا، “اگر مجھے فون نہیں ملا تو آپ دونوں مجھے ہمیشہ کے لیے کھو دیں گے!”
والدین کے دل دہل گئے۔ وہ اس کے پیچھے دوڑے۔ ارسلان شہر سے باہر ایک خطرناک کھائی کے کنارے جا کھڑا ہوا۔ نیچے گہری تاریکی تھی اور ہوا خوفناک آوازوں کے ساتھ چل رہی تھی۔
ماں روتے ہوئے بولی، “بیٹا، خدا کے لیے واپس آ جاؤ! فون کیا، ہم اپنی جان بھی تم پر قربان کر دیں گے۔”
والد نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا، “ارسلان! ایک چیز کے لیے اپنی زندگی برباد نہ کرو۔ تم ہماری زندگی ہو۔”
مگر غصے اور ضد نے اس کی عقل پر پردہ ڈال دیا تھا۔ وہ ایک قدم پیچھے ہٹنے کے بجائے مزید کنارے کی طرف بڑھا۔ اچانک اس کا پاؤں پھسلا اور وہ چیختا ہوا کھائی کی طرف گرنے لگا۔
“ارسلان!” باپ کی دل خراش چیخ فضا میں گونجی۔
باپ نے ایک لمحہ سوچے بغیر اسے بچانے کے لیے چھلانگ لگا دی۔ ماں نے اپنے شوہر اور بیٹے کو گرتے دیکھا تو بے اختیار ان کی طرف دوڑی، مگر زمین نے اس کے قدموں کا ساتھ چھوڑ دیا اور وہ بھی اسی کھائی میں جا گری۔
کچھ دیر بعد وہاں صرف خاموشی تھی ،ایسی خاموشی، جس میں تین زندگیوں کی کہانی دفن ہو چکی تھی۔
اگلی صبح لوگوں نے کھائی کے کنارے ایک ٹوٹا ہوا موبائل دیکھا، مگر تین قیمتی جانیں واپس نہ آسکیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔