یوم آزادی پر ہندوستان کے ہر شہری کے لئے صحت مند زندگی کا پیغام : منیر عظمت۔


یوم آزادی پر ہندوستان کے ہر شہری کے لئے صحت مند زندگی کا پیغام : منیر عظمت۔ 

سر زمین ہند میں چہار سو یوم آزادی کی تقریبات عروج پر ہیں۔ 
اس سلسلہ میں انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر لودھی روڈ نئ دہلی میں 80 ویں یوم آزادی کے موقع پر ہیلتھ میلہ کا اہتمام کیا گیا ۔ جہاں یونانی ڈرگس مینوفیکچر ایسو سی ایشن تنظیم کے تحت مفت یونانی میڈیکل کیمپ میں دہلی کی معروف نیو رائل کمپنی کے روح رواں سید منیر عظمت کے ساتھ سینئر صحافی ٹی این بھارتی۔ 
کی گفتگو ملاحظہ فرمائیں :
سوال : قارئین کو اپنے بابت کچھ بتائیے؟ 
جواب : میرا نام سید منیر عظمت ہے۔نیو رائل پروڈکٹس کا مالک ہونے کے ناطے یونانی دوا سازی کا کام کر رہا ہوں ۔ فرینڈز کالونی انڈسٹریل ایریا جھلمل نئ دہلی میں مینو فیکچرر یونٹ قائم کیا گیا ہے جہاں 84 Patent اور 300 کلاسیکل دوائیں تیار کرتے ہیں۔ 

سوال : یونانی ادویات بنانے کی ترغیب کیا وراثت میں ملی ہے؟ 
جواب : جی ہاں یقینی طور پر مجھے اپنے والد سے ہی یونانی دوا بنانے کی ترغیب ملی ۔ ہمدرد دواخانہ میں والد مرحوم حکیم کے عہدہ پر فائز تھے ۔ حکمت کے ساتھ ساتھ یونانی ادویات بنانے میں بھی گہری دلچسپی تھی۔ والد کی تیار شدہ ادویات کے لئے پرانی دہلی میں فیکٹری لگائی گئی۔ ان کے انتقال کے بعد انڈسٹریل ایریا میں نیو رائل پروڈکٹس کا قیام عمل میں آیا ۔

سوال : آپ کاتعلیمی سفر کیسا رہا ؟ 
جواب : دہلی یو نائیٹڈ کرسچین اسکول سے بارہویں جماعت کے بعد ذاکر حسین کالج(دہلی یونیورسٹی ) سے گریجویشن کیا جبکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی سے ایم اے پالیٹکل سائنس اور بی ایڈ B Ed بھی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی سے مکمل کیا ۔

سوال : ایم اے پالیٹکل سائنس اور بی ایڈ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد آپ نے درس و تدریس کے فرائض انجام دیئے کے بجائے یونانی ادویات کی جانب توجہ مرکوز کیوں کی ؟ 
جواب : دراصل بچپن سے ہی مجھے دوا بنانے میں دلچسپی تھی میرے والد مرحوم سید میر عظمت علی ابتدائی دور میں گھر پر ہی دوا سازی کا کام کرتے تھے۔ میں بھی اپنے والد مرحوم کی مدد کیا کرتا تھا یونانی جڑی بوٹیوں کو ہون دستہ میں تو کبھی کھرل میں کو ٹتا تھا والد مرحوم کی تحقیق کے مطابق ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے یونانی دوائیں تیار کرنے کی جدوجہد کرتا رہا۔ طالب علمی کے زمانہ میں ہی میرا رحجان دوا سازی میں تھا ۔ علاوہ ازیں سال 2000 میں یونانی ایسو سی ایشن کی داغ بیل ڈالی گئ و رکشا پ کا انعقاد کیا گیا وہاں کی سر گرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مسلسل کتابوں کا مطالعہ کرتا رہا اور یونانی کا طالب علم بن گیا ۔

سوال : ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق کیا آپ کی دوائیں بیرونی ممالک میں بھی استعمال کی جارہی ہیں؟ 
جواب : دیسی دوائیں براہ راست تو بیرونی ممالک میں Export نہیں ہو رہی ہیں لیکن غیر ملکی شہری ہندوستان آکر ہم سے ملتے ہیں گذشتہ 30 برس سے یہ سلسلہ جار ی ہے ۔ امریکہ ، عرب امارات، 
برطانیہ میں کثیر تعداد میں یونانی دوائیں پسند کی جارہی ہیں ۔

سوال : 80 ویں یوم جشن آزادی کے موقع پر نسل نو کے لئے کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ 
جواب : نوجوان نسل کو اپنی وراثت کے انمول سرمایہ سے فائدہ اٹھا نا چاہیے ۔ خوراک پر خاص توجہ مرکوز کر نا چاہیے۔
صحت مند خوراک سے ہی صحت مند بھارت کی تعمیر کی جاسکتی ہے بھارت کے ہر شہری کو قوت و توانا صحت مند مستقبل کا پیغام پہنچانا چاہتے ہیں۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔××× ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔