دہلی میں حسینہ، ڈھاکہ میں بے چینی. ازقلم : جمیل احمد ملنسار، بنگلور۔
دہلی میں حسینہ، ڈھاکہ میں بے چینی.
ازقلم : جمیل احمد ملنسار، بنگلور۔
موبائل 9845498354
بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی دہلی سے ہونے والی حالیہ ورچوئل پریس بریفنگ نے ایک بار پھر جنوبی ایشیا کی سیاست میں کئی سوالات کو زندہ کر دیا ہے۔ یہ سوال صرف شیخ حسینہ کی سیاسی واپسی کا نہیں، بلکہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے باہمی تعلقات، سفارتی مصلحتوں اور خطے میں بدلتے ہوئے سیاسی توازن کا بھی ہے۔
شیخ حسینہ نے اپنی گفتگو میں نہایت واضح الفاظ میں کہا کہ وہ اپنے عوام سے دور نہیں رہ سکتیں اور رواں سال دسمبر میں بنگلہ دیش واپس جانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ ان کے الفاظ میں ایک سابق حکمراں کی سیاسی خواہش بھی تھی اور اپنے ملک کے موجودہ حالات سے متعلق تشویش بھی۔ مگر ان کے اس بیان کے فوراً بعد اصل توجہ ایک دوسرے سوال پر مرکوز ہوگئی: آخر یہ پریس کانفرنس ہندوستان کی سرزمین سے کیوں ہوئی اور کیا اسے نئی دہلی کی سیاسی حمایت حاصل تھی؟
ہندوستانی وزارت خارجہ نے جمعہ کو اس معاملے پر غیر معمولی وضاحت پیش کی۔ ترجمان رندھیر جیسوال نے صاف کہا کہ حکومتِ ہند کا اس پروگرام سے کوئی تعلق نہیں تھا اور یہ ایک نجی میڈیا ادارے کی جانب سے منعقد کیا گیا پروگرام تھا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ہندوستان اس فورم پر کہی گئی کسی بات کی توثیق نہیں کرتا، خصوصاً بنگلہ دیش کی باقاعدہ اور موجودہ حکومت کے بارے میں کیے گئے تبصروں کی۔
یہ وضاحت محض ایک رسمی سفارتی بیان نہیں سمجھی جانی چاہیے۔ اس کے پیچھے ہندوستان کی وہ محتاط پالیسی دکھائی دیتی ہے جس کے تحت وہ ایک طرف شیخ حسینہ کو ہندوستان میں موجود رہنے کی اجازت دیتا ہے، مگر دوسری طرف بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت کے ساتھ اپنے سرکاری تعلقات کو بھی متاثر نہیں ہونے دینا چاہتا۔
جنوبی ایشیا کی سیاست میں شخصیات اہم ضرور ہوتی ہیں، لیکن ریاستیں صرف شخصیات کے سہارے نہیں چل سکتیں۔ ہندوستان کے لیے بنگلہ دیش ایک پڑوسی ملک ہونے کے ساتھ ساتھ تجارت، سرحدی سلامتی، علاقائی رابطے اور شمال مشرقی ہندوستان کی جغرافیائی سیاست کے اعتبار سے انتہائی اہم ہے۔ اسی لیے دہلی کے لیے ہر قدم کو ایک سے زیادہ زاویوں سے دیکھنا ضروری ہے۔
شیخ حسینہ کا سیاسی مستقبل ابھی غیر یقینی ہے۔ ان کی واپسی کا اعلان ایک سیاسی ارادے کا اظہار ہے، لیکن واپسی اور اقتدار میں واپسی دو مختلف چیزیں ہیں۔ بنگلہ دیش کے داخلی سیاسی حالات، قانونی معاملات اور عوامی جذبات اس سفر کی سمت طے کریں گے۔
اصل امتحان ہندوستان کا بھی ہے۔ اسے انسانی ہمدردی، سفارتی ذمہ داری اور پڑوسی ملک کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت کے اصولوں کے درمیان توازن قائم رکھنا ہوگا۔ بنگلہ دیش کے لیے بھی وقت کا تقاضا یہی ہے کہ سیاسی اختلافات کو انتقام کے بجائے مکالمے، قانون اور جمہوری عمل کے ذریعے حل کیا جائے۔
خطے کی تاریخ بتاتی ہے کہ پڑوسی ممالک کی سیاست میں ایک ملک کی بے چینی دوسرے ملک کے لیے بھی مسئلہ بن جاتی ہے۔ اس لیے آج ضرورت کسی ایک شخصیت کی حمایت یا مخالفت سے زیادہ، بنگلہ دیش میں ایک ایسے سیاسی مستقبل کی ہے جہاں اقتدار کی تبدیلی سڑکوں کی کشمکش نہیں بلکہ آئینی اور جمہوری عمل کا نتیجہ بنے۔
شیخ حسینہ کی دہلی سے واپسی کی خواہش شاید آنے والے دنوں میں بنگلہ دیش کی سیاست کا ایک اہم باب بنے۔ مگر اس باب کا اختتام کہاں ہوگا، اس کا فیصلہ نہ دہلی کرے گا، نہ ڈھاکہ کا کوئی ایک سیاسی مرکز؛ بالآخر فیصلہ بنگلہ دیش کے عوام، اس کے ادارے اور وقت کریں گے۔
Comments
Post a Comment