حقیقت_ "یادوں کا کارواں: وہ محلہ، وہ بچپن" - تحریر: محمد فیضان طالب - (بی-پی-ٹی سالِ اول، بنگلور) - مقام: گلبرگہ، کرناٹک۔
حقیقت_
"یادوں کا کارواں: وہ محلہ، وہ بچپن" -
تحریر: محمد فیضان طالب -
(بی-پی-ٹی سالِ اول، بنگلور) -
مقام: گلبرگہ، کرناٹک۔
رابطہ:8722853661
آج کے دور کے بچے جب موبائل کی اسکرینوں پر انگلیاں چلاتے ہیں، تو مجھے اپنے بچپن کا وہ دور یاد آتا ہے جب ہمارے پاس کوئی گیجٹ نہیں تھا، لیکن پورا محلہ ہماری جاگیر ہوا کرتا تھا۔
ہم سب دوست، جو ایک ہی محلے کے الگ الگ گھروں میں رہتے تھے، دن بھر کے بچھڑے ہوتے تھے۔ کسی کا اسکول صبح کا ہوتا، کسی کا دوپہر کا۔ کوئی انگریزی میڈیم میں پڑھتا تو کوئی سرکاری اسکول کی ٹاٹ پٹی پر بیٹھتا۔ اسکولوں کے اس فرق نے کبھی ہماری دوستی کے درمیان کوئی دیوار کھڑی نہیں کی۔ جیسے ہی سورج ڈھلنے لگتا، پرندے اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹتے اور مسجد سے عصر کی اذان کی آواز گونجتی، ہمارے دلوں کی دھڑکنیں تیز ہو جاتیں۔ وہ وقت گھروں میں قید رہنے کا نہیں، بلکہ آزادی کے پروانے پر دستخط کرنے کا ہوتا تھا۔
ہم سب اپنے اپنے گھروں سے یوں نکلتے جیسے کسی قید خانے سے پرندے آزاد ہوئے ہوں۔ کوئی چپل الٹی پہنے بھاگ رہا ہوتا، تو کسی کے ہاتھ میں آدھی کھائی ہوئی روٹی ہوتی۔ محلے کا وہ چوک، وہ پرانا نیم کا درخت، اور وہ کھلا میدان ہمارا منتظر ہوتا تھا۔
شام کے اس دھندلکے میں کھیل کے رنگ کچھ اور ہی ہوتے تھے۔
* بھاگم بھاگ کے کھیل: کبھی ہم 'پکڑم پکڑائی' کھیلتے، جہاں سانس پھولنے تک ایک دوسرے کے پیچھے بھاگنا ہی زندگی کا اصل مقصد ہوتا تھا۔ پیروں میں چپلیں ہوں یا نہ ہوں، سڑک پر بچھے کنکر چبھتے تھے نہ دھول سے کوئی الرجی ہوتی تھی۔
* سکون کے لمحے: جب بھاگ بھاگ کر ٹانگیں جواب دے جاتیں، تو ہم سب کسی کے گھر کے باہر بنے سیمنٹ کے چبوترے پر ایک ساتھ بیٹھ جاتے۔ وہاں بیٹھ کر کی جانے والی باتیں دنیا کی سب سے اہم باتیں ہوا کرتی تھیں—کون سا ٹیچراچھا ہے، کس کی پنسل چوری ہو گئی، یا کل کس کو ہوم ورک نہ کرنے پر سزا ملی۔
جب محلے کے سارے بچے جمع ہو جاتے اور تعداد بیس پچیس تک پہنچ جاتی، تو متفقہ طور پر ایک ہی کھیل کا فیصلہ ہوتا—'ہائڈ اینڈ سیک' یعنی چھپن چھپائی۔
اس کھیل کے شروع ہوتے ہی پورے محلے میں ایک عجیب سی سنسنی پھیل جاتی۔ ایک بچہ کسی دیوار یا درخت سے منہ لگا کر آنکھیں بند کرتا اور گنتی شروع کرتا: "ایک، دو، تین۔۔۔ بیس۔۔۔ پچاس۔۔۔ سو! میں آ رہا ہوں!"
باقی سب بچے اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر چور راستوں، جھاڑیوں، اوٹ پٹانگ جگہوں اور پڑوسیوں کے برآمدوں میں چھپ جاتے۔ اس کھیل کے اپنے ہی غیر تحریری قوانین تھے، جن میں بچوں کی معصوم سیاست اور محبتیں صاف جھلکتی تھیں۔
> کھیل کے دوران اکثر ایسا ہوتا کہ جو بچہ ڈھونڈ رہا ہوتا، وہ گھومتے گھومتے اچانک کسی ایسی جگہ پہنچ جاتا جہاں اس کا کوئی 'خاص دوست' یا 'سب سے پیارا ساتھی' چھپا ہوتا۔ دونوں کی نظریں ملتیں، تو چھپنے والے کے چہرے پر خوف آ جاتا کہ اب وہ 'آؤٹ' ہو جائے گا۔ لیکن ڈھونڈنے والا اپنے اس خاص دوست کو دیکھ کر بھی انجان بن جاتا۔ وہ مسکرا کر اپنی نظریں پھیر لیتا اور وہاں سے ایسے گزر جاتا جیسے اس نے کچھ دیکھا ہی نہ ہو۔ پھر وہ جان بوجھ کر کسی دوسرے بچے کی طرف لپکتا، اسے 'آؤٹ' کرتا اور اپنے اس خاص دوست کو بچا لیتا۔ وہ معصوم جانبداری دنیا کی تمام تر سیاست سے پاک اور سچی ہوتی تھی۔
اور جب محلے میں بچے کم ہوتے، تو ہم 'چار چٹھی' کا کھیل کھیلتے۔ کاغذ کے چار ٹکڑوں پر راجہ، وزیر، چور اور سپاہی لکھ کر اچھالا جاتا۔ اس کھیل میں اصل مزہ تب آتا جب سب مل کر 'چور' بننے والے کو ستاتے۔ وزیر، راجہ سے پوچھتا: "گناہ گار کو کیا سزا دی جائے؟" اور راجہ صاحب (جو اکثر محلے کا سب سے شریر بچہ ہوتا) ایسی سزائیں سناتا کہ ہنس ہنس کر سب کے پیٹ میں بل پڑ جاتے۔ کبھی کسی کو ایک ٹانگ پر کھڑے ہونا پڑتا، تو کبھی کسی کو کان پکڑ کر اٹھک بیٹھک کرنی پڑتی۔ ستا نے کا وہ عمل بھی اتنا پیارا تھا کہ جس کو سزا ملتی، وہ بھی ہنس رہا ہوتا تھا۔
ہر پرانے محلے کی طرح ہمارے محلے کی بھی ایک پہچان تھی—وہ تھیں ہماری 'نانی'۔ وہ پورے محلے کے بچوں کی نانی تھیں، ایک ضعیف، جھریوں بھرے چہرے اور سفید بالوں والی بوڑھی خاتون، جن کی زندگی کی کل کائنات ان کا چھوٹا سا گھر اور ان کا مٹی کا چولہا تھا۔
نانی کا معمول تھا کہ وہ صبح سویرے اٹھتیں اور دور کھیتوں کی طرف نکل جاتیں۔ وہاں سے وہ دن بھر محنت کر کے، اپنی کمزور کمر پر لاد کر، تووَر کے پودوں کی سوکھی لکڑیاں چن کر لاتیں، جنہیں ہم اپنی مقامی زبان میں 'توراٹی' کہتے تھے۔ توراٹی کی یہ لکڑیاں نانی کے لیے کسی خزانے سے کم نہیں تھیں، کیونکہ انہی سے ان کا چولہا جلتا تھا، انہی پر ان کی چائے بنتی تھی اور انہی کی آنچ پر ان کا کھانا پکتا تھا۔ انہوں نے اپنے صحن کے ایک کونے میں ان لکڑیوں کا ایک بہت بڑا، سلیقے سے سجا ہوا ڈھیر لگا رکھا تھا۔
لیکن ہم بچوں کے لیے نانی کسی 'ولن' سے کم نہیں تھیں۔ ہماری کھیل کود کی سب سے بڑی دشمن وہی نانی تھیں۔ ہم جیسے ہی ان کے گھر کے پاس پہنچتے، ان کی کڑک دار لیکن کانپتی ہوئی آواز گونجتی:
> "اے بچوں! یہاں مت کھیلو! دور ہٹو وہاں سے! اس چبوترے پر مت چڑھو! میری لکڑیوں کے پاس مت جاؤ، ڈھیر گر جائے گا!"
ہم بچوں کو لگتا تھا کہ نانی جان بوجھ کر ہمارا کھیل خراب کرتی ہیں۔ ہمیں ان کی یہ روک ٹوک اپنی آزادی پر ایک پابندی محسوس ہوتی تھی۔ جب روز روز نانی کی ڈانٹ حد سے بڑھ گئی، تو ہم شریر بچوں کے دماغ میں ایک خبیث سا خاکہ ابھرا۔ ہم نے سوچا کہ نانی کو سبق سکھانا چاہیے تاکہ وہ ہمیں روز روز ٹوکنا بند کر دیں۔ ہم نے نانی سے بدلہ لینے کی ٹھان لی—ایک ایسی بغاوت، جس کے انجام سے ہم بالکل بے خبر تھے۔
پھر وہ ایک شام آئی، جس کی یاد آج بھی میرے رونگٹے کھڑے کر دیتی ہے۔
حسبِ معمول نانی کسی کام سے محلے کے دوسرے کونے کی طرف گئی ہوئی تھیں۔ ان کا صحن خالی تھا اور توراٹی کی لکڑیوں کا وہ بڑا سا ڈھیر وہاں موجود تھا۔ ہم چند بچے وہاں کھیل رہے تھے۔ کھیل ہی کھیل میں، غصے اور سنسنی کے جوش میں، کسی ایک بچے نے ماچس کی ایک تیلی جلائی اور نانی کی ان پیاری لکڑیوں کے ڈھیر کے نیچے رکھ دی۔
ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ ہم کتنی بڑی آفت کو دعوت دے رہے ہیں۔ توراٹی کی سوکھی لکڑیوں کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ وہ بارود کی طرح آگ پکڑتی ہیں۔ ان کے اندر ایک خاص قسم کا کھوکھلا پن ہوتا ہے جو آگ کی لپٹوں کو سیکنڈوں میں پھیلنے میں مدد دیتا ہے۔
ماچس کی وہ ایک چھوٹی سی تیلی لکڑیوں کو چھوتے ہی ایک بھیانک شعلے میں بدل گئی۔
قبل اس کے کہ ہم کچھ سمجھ پاتے یا پانی ڈالنے کا سوچتے، آگ نے پورے ڈھیر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
'دھوں دھوں' کرتی ہوئی آگ کی بلند لپٹیں آسمان کی طرف اٹھنے لگیں۔ لکڑیوں کے جلنے کی چٹاخ پٹاخ کی آوازیں پورے محلے میں گونجنے لگیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے فضا میں سیاہ دھوئیں کے بادل چھا گئے اور آگ کی تپش دور دور تک محسوس ہونے لگی۔
پورے محلے میں ہاہاکار مچ گئی۔ پڑوسی اپنے گھروں سے بالٹیوں میں پانی لے کر بھاگے۔ خواتین اپنے بچوں کو ڈھونڈنے لگیں، مرد چلانے لگے۔ منظر اتنا خوفناک تھا کہ ہمارے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے۔ ہم سب شریر بچے، جو کچھ دیر پہلے خود کو بہت بڑا سورما سمجھ رہے تھے، خوف کے مارے ایک دیوار کے پیچھے سہم کر کھڑے ہو گئے۔
ہماری جان نکل رہی تھی، دل دھک دھک کر رہا تھا کہ اب جیسے ہی یہ آگ بجھے گی، ہمارے گھر والے ہمیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ محلے کے لوگ غصے میں چیخ رہے تھے: "یہ کس بدتمیز بچے کی شرارت ہے؟ سامنے آئے وہ!" موت کا سا سناٹا ہمارے اردگرد چھایا ہوا تھا اور ہم اپنی زندگی کی سب سے بڑی سزا کے منتظر تھے۔
اسی افراتفری، دھوئیں اور چیخ و پکار کے بیچ، ہجوم کو چیرتی ہوئی ایک آواز آئی۔ وہ آواز کسی غصے سے بھرے مرد کی نہیں تھی، نہ ہی کسی پڑوسی کی گالی تھی۔ وہ ایک کمزور، تھکی ہوئی اور کانپتی ہوئی آواز تھی—وہ نانی کی آواز تھی۔
ہم نے ڈرتے ڈرتے دیوار کے پیچھے سے جھانک کر دیکھا۔ نانی ہچکیاں لیتی ہوئی بھاگتی چلی آ رہی تھیں، ان کی چادر سر سے ڈھلک چکی تھی، لیکن ان کی نظریں اپنی جلتی ہوئی لکڑیوں پر نہیں تھیں، بلکہ وہ ہجوم میں کسی کو ڈھونڈ رہی تھیں۔
انہوں نے اونچی اور روتی ہوئی آواز میں کہا:
> "ارے، میری لکڑیاں چھوڑو! پہلے یہ بتاؤ کہ بچے تو ٹھیک ہیں نا؟ کسی بچے کو کچھ ہوا تو نہیں؟ کوئی جھلس تو نہیں گیا؟"
جب نانی کے یہ الفاظ ہمارے کانوں میں پڑے، تو جیسے وقت وہیں تھم گیا۔
ہم نے نانی کے چہرے کو دیکھا۔ ان کی بوڑھی آنکھوں میں ایک عجیب اور دلدوز منظر تھا۔ ان کی آنکھوں میں ایک گہرا غم تھا—وہ غم اس محنت کا تھا جو انہوں نے چلچلاتی دھوپ میں، کوسوں دور پیدل چل کر، ایک ایک لکڑی چن کر جمع کی تھی۔ ان کی مہینوں کی جمع پونجی، ان کے چولہے کا آسرا، ان کے جاڑے کی گرمی، سب کچھ چند منٹوں میں راکھ کا ڈھیر بن چکا تھا۔ لیکن اس غم کے اوپر، ایک بہت بڑی خوشی اور اطمینان چمک رہا تھا—یہ خوشی اس بات کی تھی کہ ان کے محلے کے بچے، وہی بچے جو انہیں دن بھر ستاتے تھے، بالکل محفوظ تھے اور کسی کو ایک خراش تک نہیں آئی تھی۔
اس لمحے ہمیں جو احساسِ جرم ہوا، اسے الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے۔ کاش اس وقت زمین پھٹ جاتی اور ہم اس میں سما جاتے۔ نانی کا وہ جملہ ہمارے دلوں پر تیر کی طرح لگا۔
تھوڑی ہی دیر میں محلے والوں نے آگ پر قابو پا لیا، لیکن لکڑیوں کا وہ خوبصورت ڈھیر اب صرف کالے کوئلے اور سفید راکھ کی صورت میں زمین پر بکھرا ہوا تھا۔
جیسا کہ توقع تھی، اس کے بعد محلے میں ایک دربار لگا۔ ہمارے والدین کو پتہ چل گیا کہ یہ کارنامہ ہمارا ہی ہے۔ اس شام ہمارے گھر والوں نے ہماری وہ پٹائی کی کہ ہماری پیٹھیں لال ہو گئیں، کان سوج گئے اور ہم رات بھر روتے رہے۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ اس رات ہمیں اس مار کا درد نہیں ہو رہا تھا، بلکہ ہمارے انسو اس پشیمانی کے تھے جو نانی کی اس محبت نے ہمارے دلوں میں پیدا کر دی تھی۔
جس عورت کو ہم اپنی کھیل کا دشمن سمجھتے تھے، وہ تو ہماری محافظ نکلیں۔ تب ہمیں سمجھ آیا کہ وہ جو ہمیں ٹوکتی تھیں کہ "وہاں مت جاؤ، یہاں مت کھیلو"، وہ ان کا غصہ نہیں تھا، بلکہ ان کا خوف تھا کہ کہیں ان کے ان معصوم بچوں کو کوئی چوٹ نہ لگ جائے۔ وہ روک ٹوک نفرت سے نہیں، بلکہ حد سے زیادہ محبت اور فکر سے پیدا ہوتی تھی۔
اس واقعے کو گزرے برسوں بیت گئے۔ وقت اپنی تیز رفتاری سے چلتا رہا اور ہم آہستہ آہستہ بڑے ہوتے گئے۔
آج جب میں اپنے اسی پرانے محلے کی گلیوں سے گزرتا ہوں، تو دل کے اندر ایک ہوک سی اٹھتی ہے۔ وقت نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔
اب اس محلے کا پورا نقشہ ہی بدل چکا ہے:
اب وہ کھلا میدان کہیں نہیں ہے جہاں ہم دھول اڑاتے ہوئے بھاگا کرتے تھے۔ وہاں اب اونچی اونچی کنکریٹ کی عمارتیں کھڑی ہو چکی ہیں، جن کے سائے میں بچپن دم توڑ چکا ہے۔ اب کسی گھر کے باہر مٹی کا وہ چولہا نظر نہیں آتا، جس کے لیے غریب مائیں اور بوڑھی نانیاں صبح سویرے نکل کر لکڑیاں جمع کرتی تھیں۔ اب ہر گھر میں گیس کے چولہے ہیں، جن میں آگ تو جلتی ہے، لیکن وہ اپنانیت اور وہ لکڑی کے دھوئیں کی سوندھی خوشبو غائب ہو چکی ہے۔ وہ سارے بچے، جو کبھی 'چھپن چھپائی' میں ایک دوسرے کو بچانے کے لیے جھوٹ بولا کرتے تھے، اب زندگی کی سچی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ کوئی دوسرے شہر چلا گیا، کوئی پردیس جا بسا۔ اب اگر کبھی وہ آمنے سامنے آ بھی جائیں، تو صرف ایک سرسری سی مسکراہٹ کا تبادلہ ہوتا ہے—وہ پرانی گرمجوشی اب کہیں نہیں ملتی۔
اور نانی؟ نانی تو بہت پہلے ہی اس دنیا کو چھوڑ کر جا چکی ہیں۔ وہ اپنے ساتھ وہ مٹی کا چولہا، وہ توراٹی کی لکڑیاں اور وہ بے لوث ممتا بھی لے گئیں جو خطاکار بچوں کو بھی گلے سے لگا لیتی تھی۔
آج اس بدلے ہوئے محلے کی پکی سڑک پر کھڑے ہو کر جب میں آنکھیں بند کرتا ہوں، تو مجھے اب بھی توراٹی کی لکڑیوں کے جلنے کی وہ چٹاخ پٹاخ سنائی دیتی ہے۔ مجھے اب بھی دھوئیں کے اس بادل کے پیچھے سے نانی کا وہ جھریوں والا چہرہ نظر آتا ہے اور کانوں میں وہی شفق سے بھری آواز گونجتی ہے: "بچے تو ٹھیک ہیں نا؟"
دل تڑپ اٹھتا ہے اور روح پکار اٹھتی ہے کہ کاش… کاش کوئی مجھے میری وہ شامیں لوٹا دے، وہ دوست لوٹا دے، اور نانی کی وہ پیاری سی ڈانٹ لوٹا دے۔ مگر وقت کے دھارے کبھی پیچھے نہیں مڑتے، صرف یادیں رہ جاتی ہیں—توراٹی کے دھوئیں کی طرح دھندلی، لیکن دل کے چولہے کو ہمیشہ گرم رکھنے والی۔
_____________________
Comments
Post a Comment