مختلف مذاہب کے شعراء نے نعتیہ کلام کے ذریعے محبت اور مذہبی ہم آہنگی کا پیغام دیا - پرافٹ فار آل کا پانچواں سالانہ نعتیہ مشاعرہ؛ برادرانِ وطن شعراء کی خصوصی شرکت۔
مختلف مذاہب کے شعراء نے نعتیہ کلام کے ذریعے محبت اور مذہبی ہم آہنگی کا پیغام دیا -
پرافٹ فار آل کا پانچواں سالانہ نعتیہ مشاعرہ؛ برادرانِ وطن شعراء کی خصوصی شرکت۔
ممبئی، 22 اگست: مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے برادرانِ وطن شعراء کی خصوصی شرکت سے پرافٹ فار آل (PROPHET FOR ALL) مہم کے تحت پانچواں سالانہ نعتیہ مشاعرہ اسلام جمخانہ کے سیلیبریشن ہال میں منعقد ہوا، جس میں شعراء نے حضورِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بارگاہ میں منظوم خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے محبت، امن، رواداری، باہمی احترام اور قومی یکجہتی کا پیغام دیا۔
مشاعرے میں مختلف مذاہب کے شعراء کی جانب سے نعتیہ کلام کی پیشکش نے محفل کو منفرد رنگ عطا کیا۔ شرکاء نے اس امر کا اظہار کیا کہ حضورِ اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ اور آپ ﷺ کی تعلیمات پوری انسانیت کے لیے رحمت، محبت، امن اور خیر خواہی کا عالمگیر پیغام رکھتی ہیں۔
پروگرام کے انچارج اور پرافٹ فار آل کور کمیٹی کے رکن فرید احمد خان نے کہا کہ یہ نعتیہ مشاعرہ اپنی نوعیت کا منفرد پروگرام ہے، جس کا محبانِ رسول ﷺ پورے سال انتظار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سال مشاعرے کا پانچواں سال ہے اور ممبئی کے ساتھ ساتھ مہاراشٹر کے مختلف شہروں سے برادرانِ وطن شعراء کی شرکت نے پروگرام کی اہمیت اور کشش میں مزید اضافہ کیا ہے۔
فرید احمد خان کے مطابق مختلف مذاہب کے شعراء کا حضورِ اکرم ﷺ کی بارگاہ میں عقیدت کے پھول پیش کرنا ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب، مشترکہ روایات اور مذہبی ہم آہنگی کی ایک روشن مثال ہے۔
اسلام جمخانہ کے صدر اور پرافٹ فار آل مہم کے سرپرستِ اعلیٰ ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی نے شعرائے کرام کا خیرمقدم کیا اور انہیں تحائف و ٹرافیاں پیش کرکے تہنیت پیش کی۔ انہوں نے پرافٹ فار آل مہم کے تحت جاری سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کور کمیٹی کے اراکین نے رواں سال مہاراشٹر کے متعدد اہم شہروں اور اضلاع کا دورہ کرکے محبت، امن، رواداری اور انسانیت کا پیغام عام کیا، جسے عوام کی جانب سے محبت اور عقیدت کے ساتھ قبول کیا گیا۔
مشاعرے کے پہلے حصے کی نظامت معروف شاعر عرفان جعفری نے کی۔ اس موقع پر مقامی اور میزبان شعراء نے اپنا نعتیہ کلام پیش کیا، جبکہ اس حصے کی صدارت معروف شاعر اور متعدد نعتیہ مجموعوں کے خالق ڈاکٹر ساگر ترپاٹھی نے کی۔
ابتدائی مرحلے میں عرشیہ صدیقی نے حمد و نعت کا نذرانہ پیش کیا، جبکہ انوشکا نکم نے اپنی دلکش نعت سے سامعین کو متاثر کیا۔
مشاعرے کے دوسرے حصے کی نظامت معروف شاعر مادھو بی نور نے کی اور آل انڈیا خلافت کمیٹی کے چیئرمین سرفراز آرزو نے صدارت کی۔ اس حصے میں برادرانِ وطن شعراء نے نعتیہ کلام پیش کیا، جسے حاضرین نے بھرپور داد و تحسین سے نوازا۔
برادرانِ وطن شعراء میں ڈاکٹر لکشمن شرما، واحد اننت نندورکر، خلش حکم چند کوٹھاری، ڈاکٹر گنیش گائیکواڑ، ڈاکٹر سونل چودھری، روی کےڈیا، سندیپ یادو اور ہیرا لال ہیرا شامل تھے۔
مقامی شعراء میں عبید اعظم اعظمی، ڈاکٹر قمر صدیقی، پروفیسر جمیل کامل، ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر، اعجاز ہندی، سیدہ تبسم ناڈکر اور محسن ساحل نے شرکت کی۔
مشاعرے میں معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات کے علاوہ برادرانِ وطن، محبانِ اردو، شعراء، اسلام جمخانہ کے اراکین اور مختلف تعلیمی اداروں کے طلبہ و اساتذہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مہاراشٹر کالج، اکبر پیر بھائی کالج اور برہانی کالج کے طلبہ و اساتذہ کی خصوصی شرکت نے پروگرام کی سماجی اور تعلیمی اہمیت کو مزید نمایاں کیا۔
اس موقع پر پرافٹ فار آل کی کور کمیٹی کے اراکین سعید خان، عامر ادریسی، ڈاکٹر قاسم امام، ڈاکٹر عابد، پروفیسر زیبہ ملک، فاروق کلاڈیہ، عمران علوی اور محمد علی بھی موجود تھے۔
مشاعرے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ حضورِ اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ اور آپ ﷺ کا پیغام کسی ایک طبقے یا قوم تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے رحمت، محبت، امن اور خیر خواہی کا پیغام ہے۔ مختلف مذاہب کے شعراء کی جانب سے نعتیہ کلام پیش کرنا اسی عالمگیر پیغامِ محبت اور مذہبی ہم آہنگی کی عملی ترجمانی ہے۔
پروگرام کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی رہی کہ دوردرشن کی ٹیم نے مشاعرے کی خصوصی ریکارڈنگ کی، جسے بعد ازاں دوردرشن کے ذریعے نشر کیا جائے گا۔
منتظمین کے مطابق پرافٹ فار آل کے زیر اہتمام منعقد ہونے والا یہ نعتیہ مشاعرہ محض ایک شعری نشست نہیں بلکہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی روایات، مذہبی ہم آہنگی، باہمی احترام، امن، قومی یکجہتی اور انسانیت کے آفاقی پیغام کو فروغ دینے کی ایک سنجیدہ ادبی و سماجی کوشش ہے۔
از جانب:
فرید احمد خان
صدر، اردو کارواں
پروگرام انچارج
Comments
Post a Comment