افسانہ - آخری آدمی - سعید پٹیل جلگاؤں۔
افسانہ -
آخری آدمی -
سعید پٹیل جلگاؤں۔
میں حسب معمول ہوٹل میں اپنی پسند کی لگی میز کرسی پرجا بیٹھا۔ ویٹر نے آکر پوچھا:
"بولیے صاحب! کیا لاؤں؟"
میں اپنا چہرہ اٹھا کر سامنے راجو کو دیکھ کر اپنی آنکھیں ملنے لگا۔ لمحہ بھر کے لیے مجھے اپنے آپ پر بھی یقین نہیں ہوا کہ یہ راجو ہی ہے یا نہیں؟ لیکن ہمت کرکے کہا:
"تم۔۔۔ راجو؟ یہاں کیسے؟"
"میں یہاں گزشتہ تین مہینے سے روزانہ رات کا کھانا کھانے آتا ہوں۔"
وہ مجھے دیکھ کر تھوڑا شرما سا گیا۔ پھر اس نے بتایا:
"صاحب! دو روز ہوئے، اس ہوٹل میں ویٹر کے طور پر کام کرنے لگا ہوں۔"
اس کی آواز بیٹھی ہوئی تھی۔ میں نے اسے اپنے سامنے والی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ اس نے ہاتھ سے انکار کرتے ہوئے کہا:
"میں بیٹھ نہیں سکتا۔۔۔ سامنے کاؤنٹر سے منیجر صاحب دیکھ رہے ہیں۔"
میں نے بھی اس کی نوکری کی مجبوری کو سمجھتے ہوئے اپنے کھانے کا آرڈر دیا اور اس سے کہا:
" کھانے کے بعد منیجر سے دس منٹ کی اجازت لے کر ہوٹل سے باہر ملاقات کرنا۔"
میری نظروں کے سامنے راجو کا معصوم چہرہ بار بار میرے اندر خیالات بن کر ابھر رہا تھا۔ وہ میرا اسکول کا ہم جماعت دوست تھا۔ ہم نے انٹر تک کی تعلیم ساتھ ہی مکمل کی تھی۔ پھر وہ آرٹس کی فیکولیٹی میں چلا گیا تھا۔
اس کے گھر کے حالات دو وقت کے کھانے کے نظم تک ہی کچھ ٹھیک تھے، اس لیے اسے آمدنی کے لیے کام کرنا ضروری تھا۔
میں خیالات سے اس وقت باہر آیا جب راجو ویٹر کی صورت میری میز سے کھانے کی پلیٹیں سمیٹنے کے لیے آ کھڑا ہوا۔ میں نے ہاتھ دھوکر کاؤنٹر پر بل ادا کیا اور ہوٹل کے داخلی دروازے پر اس کا انتظار کرنے لگا۔
کچھ دیر بعد راجو بھی ملنے آگیا۔
میں نے راجو سے پوچھا:
"تم یہ نوکری کر پاؤ گے؟ یا صرف وقت گزارنا چاہتے ہو؟"
"نہیں، ایسا نہیں ہے۔ میں نے اپنے والدین کے حالات دیکھے ہیں۔ میں خواب نہیں دیکھتا۔۔۔ بڑا بننے کے خواب دیکھ کر ماں باپ کو پریشانی میں نہیں ڈال سکتا۔"
اس نے بڑے اطمینان سے جواب دیتے ہوئے کہا:
"ہاں، کر لوں گا۔ میں بچپن سے والدین کو مزدوری کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ ان کے درد کو سمجھتا ہوں۔"
میں نے کہا:
"میرے روم پارٹنر بنو گے؟ مجھے یہاں کمپنی میں سپروائزر کی جاب ہے۔ ابھی فی الحال اجنبی دوستوں کے ساتھ رہائش شیئر کر رہا ہوں۔"
"نہیں۔"
راجو نے اپنی پریشانیوں سے بھری کہانی شروع کی:
"میں ایک سادہ ڈگری یافتہ نوجوان ہوں۔ نظام کی بے حسی اور مسلسل ناکامی ، دفتروں کے چکر ، ہر اسکیم اور ہر مقام پر لمبی لمبی قطاریں۔۔۔ میں ہجوم میں اکیلاپن محسوس کر رہا تھا۔ مجھے ذہنی تناؤ اور نفسیاتی کشمکش کا شکار ہونے کا ڈر ستا رہا تھا۔
میں ایک چھوٹے بھائی اور ایک چھوٹی بہن کا بڑا بھائی ہوں۔ کاروبار یا تجارت نہیں کرسکتا، کیونکہ میرے پاس سرمایہ نہیں ہے۔ کوئی سامان خرید کر فروخت کروں گا تو ہاکرس کو کہاں مستقل جگہ ملتی ہے؟ نصف کمائی تو ہفتہ دینے میں چلی جائے گی۔
اس لیے شہر آگیا۔
شہر میں مزدوری تو ہے، لیکن کسی بات کی ضمانت نہیں ہے۔ ہر جگہ مزدور کا استحصال ہے۔ اور کوئی نوکری کروں گا تو کھانے اور رہنے کا مسئلہ آئے گا۔
اس لیے ہوٹل میں کام کرنا پسند کیا ، جہاں زندگی جینے کے لیے رہنا ، اور کھانا مل جاتا ہے۔ تنخواہ کے پیسوں کی بچت ہوجائے گی تو گھر بھیج سکوں گا۔"
پھر راجو بات کرتے کرتے تھوڑا رک گیا تھا۔ اس کی آنکھیں نم ہوگئی تھیں۔
میں نے دلاسہ دیتے ہوئے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا اور حوصلہ دینے کی کوشش کی۔
میں سمجھ گیا تھا کہ وہ کھلی کھڑکی کا حصہ نہیں ہے۔ ہر دفتر کی بند کھڑکی کے سامنے لگی قطار میں کھڑا وہ نوجوان ہے ، جو واقعی ضرورت مند ہے اور صرف امیدیں بر آنے کے انتظار میں کب تک جی سکتا ہے؟ ہم دونوں ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ لیے کھڑے تھک چکے تھے۔ دونوں کے درمیان خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
میرے دل و دماغ پر پھر ایک مرتبہ خیالات کا قبضہ ہوگیا تھا۔
وہ جو سیاست اور سسٹم بار بار کہتا ہے کہ:
"ہر فلاحی اسکیم کا فائدہ آخری آدمی تک پہنچاؤ۔"
لیکن راجو جیسے حقیقی ضرورت مند آخری آدمی تک ترقی کیوں نہیں پہنچی؟
میں خیالات کی کھلی کھڑکی سے اس وقت نکل سکا جب راجو نے میرے ہاتھوں سے اپنے ہاتھ چھڑا لیے تھے۔
مجھے اپنے سوالوں کے جواب تو راجو سے مل چکے تھے۔۔۔ لیکن راجو، اس "آخری آدمی" کو اس کے سوالوں کے جواب کب ملیں گے؟
"راجو۔۔۔!"
"چلو، آجاؤ!"
ہوٹل کے کاؤنٹر سے منیجر کی آواز سنائی دی۔
راجو دوڑ کر اندر چلا گیا۔
اور میں اس آخری آدمی کا درد لیے اپنی منزل کو چل پڑا۔
رات کا اندھیرا گہرا ہوچکا تھا۔ اسٹریٹ لائٹوں سے سڑک پر روشنی کی چمک دمک کا قبضہ تھا ، جسے ضرورتمندوں کے گھروں کے اندھیروں کی خبر تھی ہی نہیں۔
میں چند قدم ہی آگے بڑھا تھا کہ اچانک میری نظر سڑک کے کنارے لگے ایک بڑے سرکاری ہورڈنگ پر پڑی۔
اس پر روشن حروف میں لکھا تھا:
"ترقی کی روشنی اب آخری آدمی تک پہنچ چکی ہے۔"
میں کچھ دیر تک اس بورڈ کو دیکھتا رہا۔
پھر بے اختیار مسکرا دیا۔
کیونکہ اسی بورڈ کے عین نیچے ، اندھیرے میں ، ایک نوجوان اخبار کا پرانا ٹکڑا بچھا کر سو رہا تھا۔
میں نے قریب جا کر دیکھا۔۔۔ وہ راجو نہیں تھا۔
لیکن اس کا چہرہ راجو جیسا ہی تھا۔
میں آگے بڑھ گیا۔
کچھ دور۔۔۔میری نظروں کے سامنے اس طرح بورڈز گھومنے لگے :
"روزگار سب کا حق ہے۔"
اس کے نیچے چند مزدور کام کی تلاش میں خاموش بیٹھے تھے۔
ایک ہورڈنگ پر لکھا ہوا لگا:
"کوئی بھی شہری بھوکا نہیں سوئے گا۔"
اور عین اس کے نیچے ایک بوڑھی عورت اپنے خالی برتن کو سینے سے لگائے بیٹھی تھی۔
میں ٹھٹھک گیا۔
مجھے اچانک محسوس ہوا کہ شاید راجو صرف ایک آدمی نہیں ۔
وہ ہر اس قطار میں کھڑا تھا جہاں درخواست دینے والے بہت سے تھے اور جواب دینے والا کوئی نہیں تھا۔
وہ ہر اس دفتر کے باہر بیٹھا تھا جہاں دروازے پر لکھا تھا:
"عوام کی خدمت میں ہمہ وقت حاضر۔"
اور شاید وہ ہر اس تقریر میں بھی موجود تھا جس میں بار بار کہا جاتا تھا:
"ہماری ترجیح آخری آدمی ہے۔"
میں نے آسمان کی طرف دیکھا۔
پھر دل ہی دل میں سوچا:
"اگر واقعی آخری آدمی تک ترقی پہنچ چکی ہے۔۔۔ تو پھر راجو اب بھی آخری آدمی کیوں ہے؟"
اچانک میری جیب میں رکھا موبائل فون بج اٹھا۔
ایک سرکاری پیغام تھا:
"مبارک ہو! آپ کے علاقے کو ترقیاتی منصوبے کے لیے منتخب کرلیا گیا ہے۔"
میں نے موبائل بند کیا۔
مجھے پہلی مرتبہ لگا کہ شاید اس ملک میں مسئلہ یہ نہیں کہ ترقی آخری آدمی تک نہیں پہنچتی۔۔۔
مسئلہ شاید یہ ہے کہ
"آخری آدمی" ہی ہر بار ترقی کے نقشے سے غائب کر دیا جاتا ہے۔
میں نے پیچھے مڑ کر ہوٹل کی طرف دیکھا۔
راجو پلیٹیں اٹھا رہا تھا۔
منیجر کاؤنٹر پر بیٹھا حساب لکھ رہا تھا۔
اور باہر سڑک پر روشنیاں جگمگا رہی تھیں۔
صرف ایک چیز اندھیرے میں تھی۔۔۔
وہ آدمی ، جسے سرکاری کاغذوں میں "آخری آدمی" لکھ کر برسوں سے تلاش کیا جا رہا تھا۔
میں نے قدم آگے بڑھائے۔
شاید کل پھر راجو سے ملاقات ہو۔
لیکن اس بار میں اس سے یہ نہیں پوچھوں گا کہ
"تمہاری نوکری کیسی چل رہی ہے؟"
صرف یہ پوچھوں گا:
"راجو! تمہیں اپنا مکیں کب ملے گا؟"
Comments
Post a Comment