میٹھے بول میں جادو ہے"آزما کر دیکھ لیجیے ! - ازقلم - فردوس انجم (بلڈانہ مہاراشٹر)
میٹھے بول میں جادو ہے"آزما کر دیکھ لیجیے ! -
ازقلم - فردوس انجم (بلڈانہ مہاراشٹر)
گفتگو ایک فن ہے۔ دلوں کو مسخر کرنے کا ذریعہ ہے۔ نرم لہجہ اور شائستہ الفاظ انسان کی اعلیٰ تربیت، اخلاق اور اعلیٰ ظرفی کی واضح دلیل ہوتے ہیں۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ "زبان کا زخم تلوار کے زخم سے زیادہ گہرا ہوتا ہے"، لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ میٹھا بول وہ مرہم ہے جو برسوں پرانا زخم کو بھر دیتا ہے۔ اردو کی مشہور کہاوت "میٹھے بول میں جادو ہے" محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک کامل ضابطۂ حیات ہے۔ خاص طور پر خواتین کے لیے جو خاندان کی اکائی اور معاشرے کی معمار ہیں۔شیریں کلامی ایک ایسی طاقت ہے جس کے ذریعے وہ ناممکن کو ممکن بنا سکتی ہیں۔
*نرم گفتگو کی نفسیاتی اور معاشرتی اہمیت:
ماہر نفسیات کا ماننا ہے کہ نرم گفتگو سننے والے کے دماغ میں سکون پیدا کرتی ہے اور اس کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
خواتین کے لیے نرم گفتگو کرنااس لیے بھی ضروری ہے کہ وہ مختلف کرداروں میں نظر آتی ہیں۔ کبھی ماں، کبھی بیٹی، کبھی بیوی اور کبھی ایک ملازمت پیشہ خاتون۔ ان تمام کرداروں میں کامیابی کی کنجی صرف محنت نہیں بلکہ حسنِ کلام بھی ہے۔
*گھریلو زندگی میں میٹھے بول کی تاثیر:
خواتین گھر کی ملکہ ہوتی ہیں ۔اس لیے ان کا لہجہ پورے گھر کے ماحول کا تعین کرتا ہے۔
بحیثیت بیوی: میاں بیوی کے رشتے میں نوک جھونک فطری ہے۔ اس تلخی کو اچھی گفتگو سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ ایک محبت بھرا جملہ شوہر کی دن بھر کی تھکن اتار سکتا ہے۔ جہاں بحث و تکرار سے دوریاں بڑھتی ہیں، وہاں نرمی سے کہی گئی بات مرد کے دل میں عورت کی عزت اور محبت بڑھا دیتی ہے۔
بطور ماں: بچوں کی تربیت میں ماں کی زبان کا اثر سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ ڈانٹ ڈپٹ اور سختی بچوں کو باغی بنا دیتی ہے۔جبکہ پیار سے سمجھائے گئے دو جملے ان کی شخصیت کو نکھارتے ہیں۔ وہیں نرمی سے کی گئی گفتگو بچوں میں خود اعتمادی پیدا کرتی ہے۔
بطور بہو:"سسرالی رشتوں میں اکثر غلط فہمیوں کی وجہ سے تنازعات جنم لیتے ہیں۔ یہاں میٹھی زبان ، اچھے الفاظ ایک ڈھال کا کام کرتے ہیں۔ بڑوں کو عزت دینا اور چھوٹوں سے شفقت سے بات کرنا تلخیوں کو دورکر کے گھر کے ماحول کو پرسکون و خوشگوار بناتا ہے۔
*پیشہ ورانہ زندگی پر اثرات:
آج کی خاتون گھر سے باہر نکل کرمخلتف شعبوں میں کام کر رہی ہے۔ جیسے ڈاکٹر ، ٹیچر، ادیب، انجینئر یا کسی بھی شعبہ میں ملازم۔ اس کی کامیابی کا انحصار اس کے اخلاق پرہوتاہے۔
ایک بااخلاق اور خوش گفتار خاتون اپنے ساتھیوں اور ماتحتوں سے بہتر کام لینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ کام کی جگہ پر تلخ لہجہ ماحول کو بوجھل بنا دیتا ہے۔جبکہ مسکراہٹ اور نرم زبانی ٹیم ورک کو فروغ دیتی ہے۔ لوگ ایسی خواتین کی عزت کرتے ہیں جو دباؤ کی صورتحال میں بھی اپنے لہجے کی مٹھاس برقرار رکھتی ہیں۔
*شیریں کلامی کے دیگر فوائد:
آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ کچھ لوگ اپنی بات منوانے کے ماہر ہوتے ہیں۔ ابراہم لنکن انہی میں سے ایک تھے جو دشمنوں کو سخت و تند الفاظ سے نوازے جانے پر لوگوں کو روکتے تھے۔ یہ کوئی جادوئی چھڑی نہیں بلکہ ہماری شائستہ گفتگو اور اچھےالفاظ کا جادو ہوتا ہے۔
دلوں کو جیتنا: سخت دل انسان بھی نرم زبان کے سامنے جھک جاتا ہے۔اس کی عمدہ مثالیں ہمارے اردگرد موجود ہیں۔
اختلافات کا حل: جب دو لوگوں میں جھگڑا ہو تو ایک فریق کا خاموش رہنا یا نرمی سے جواب دینا آگ پر پانی ڈالنے کا کام کرتا ہے۔
خود اعتمادی میں اضافہ: جب آپ دوسروں سے اچھے طریقے سے بات کرتے ہیں تو بدلے میں آپ کو بھی عزت ملتی ہےجو آپ کے اندرونی اطمینان اور اعتماد کو بڑھاتی ہے۔
*نرم گفتگو کے عملی طریقے:
سوچ سمجھ کر بولیں:"آپ کے الفاظ کسی کی دل آزاری کا سبب نہ بنیں۔لہٰذا پہلے تولو پھر منہ سےبولو پر عمل کرنا چاہئے۔
لہجے میں نرمی: بات کرتے وقت اپنی آواز کو دھیما رکھیں۔چیخ کر بات کرنے سے بات کا اثر ضائع ہوتارہتاہے۔
مسکراہٹ: گفتگو کے دوران ہلکی سی مسکراہٹ آپ کے الفاظ میں تاثیر پیدا کر دیتی ہے۔
شکر گزاری: دوسروں کا شکریہ ادا کرنے کی عادت اپنالیں۔یہ چھوٹے چھوٹے لفظ بڑی جادوگری کا کام کرتے ہیں۔
خواتین معاشرے کا وہ ستون ہیں جن پر آنے والی نسلوں کی تعمیر و تشکیل کا دارومدار ہے۔ ایک عورت کی زبان سے نکلے ہوئے میٹھے بول محض الفاظ نہیں ہوتے بلکہ محبت، خلوص، احترام اور تہذیب کا آئینہ ہوتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ میٹھا بول دلوں کو جوڑتاہے، نفرتوں کو مٹاتا اور رشتوں کو مضبوط بناتاہے۔ اگر ہم اپنی گفتگو میں نرمی، شائستگی اور خوش اخلاقی کو جگہ دیں تو نہ صرف ہماری ذاتی زندگی خوشگوار بن سکتی ہے بلکہ پورا معاشرہ محبت و اخوت کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنی زبان کو مٹھاس، خیر خواہی اور حسنِ اخلاق سے آراستہ کریں۔
Nice
ReplyDelete