غزل - ازقلم : سرفراز حسین فراز پیپل سانہ مرادآباد۔
غزل -
ازقلم : سرفراز حسین فراز پیپل سانہ مرادآباد۔
رنجشیں دل کی مٹاؤ جشن آزادی کے دن
ایکتا کے گیت گاؤ جشن آزادی کے دن
خار نفرت کے بچھانے سے نہیں کچھ فائدہ
گل محبت کے لٹاؤ جشن آزادی کے دن
کیوں کریدے جا رہے ہو تم قدیمی زخم کو
جشن آزادی مناؤ جشن آزادی کے دن
کونے کونے سے مٹا دو تیرگی کا نام اب
ہر گلی کوچہ سجاؤ جشن آزادی کے دن
بھائی بھائی ایک دوجے کو لگا کر پھر گلے
دشمنوں کے دل جلاؤ جشن آزادی کے دن
بے سر و ساماں کو بھی راحت میسر ہو سکے
اک مشن ایسا چلاؤ جشن آزادی کے دن
قہقہے بزم سخن میں گونج اٹٹھیں اے فراز
شعر کچھ ایسے سناؤ جشن آزادی کے دن
سرفراز حسین فراز پیپل سانہ مرادآباد
Comments
Post a Comment