کالم - ٹوٹتے رشتے - از قلم : رہبر تماپوری۔
کالم - ٹوٹتے رشتے -
از قلم : رہبر تماپوری۔
رابطہ: 8431012141
رشتے انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ دولت اور جائیداد سہولت تو دے سکتی ہیں، مگر سکون کا احساس مخلص رشتوں ہی سے ملتا ہے۔ افسوس کہ آج ہمارے معاشرے میں بہت سے رشتے بظاہر قائم ہیں، لیکن ان کے اندر محبت، احساس، خلوص اور اعتماد کم ہو رہا ہے۔ کہیں انا دیوار بن رہی ہے، کہیں مفاد، کہیں جائیداد اور کہیں بدلتی ہوئی طرزِ زندگی اپنوں کو ایک دوسرے سے دور کر رہی ہے۔
کسی خاندان میں جب ایک بھائی یا باپ دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو صرف ایک فرد نہیں جاتا، بلکہ ایک خاندان مشکلات میں گھِر جاتا ہے۔ پیچھے رہ جانے والی بیوہ اور بچے اپنے رشتہ داروں سے سہارا، محبت اور تحفظ کی امید رکھتے ہیں۔ ایسے وقت میں اگر رشتہ دار مرحوم کے اہلِ خانہ کے دکھ کو سمجھیں، ان کے ساتھ کھڑے ہوں اور ان کے جائز حقوق کی حفاظت کریں تو یہی رشتہ داری کی اصل خوبصورتی ہے۔
لیکن بعض اوقات جائیداد اور وراثت کا مسئلہ سامنے آتے ہی وہی رشتہ دار ایک دوسرے کے مدِ مقابل کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کسی کاغذ، دستخط، وعدے یا دعوے کو بنیاد بنا کر جائیداد پر اپنا حق جتایا جاتا ہے۔ اختلاف ہو تو فیصلہ جذبات یا طاقت سے نہیں، بلکہ حقائق، شفافیت، باہمی گفت و شنید اور ضرورت پڑنے پر قانونی طریقے سے ہونا چاہیے۔ کسی کمزور وارث کے حق کو دبانا نہ اخلاقی طور پر درست ہے اور نہ معاشرتی طور پر قابلِ قبول۔
تکلیف اس وقت بڑھ جاتی ہے جب کسی مرحوم کے بچے مالی مشکلات کا شکار ہوں، ان کی تعلیم متاثر ہو رہی ہو اور بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو، مگر قریبی رشتہ دار بے نیاز رہیں۔ ایسے موقع پر جائیداد سے بڑھ کر انسانیت کا تقاضا ہے کہ کمزور کا سہارا بنا جائے۔ مال دوبارہ کمایا جا سکتا ہے، مگر محرومی کا دکھ آسانی سے ختم نہیں ہوتا۔
رشتوں میں دراڑ صرف جائیداد سے نہیں پڑتی۔ آج سوشل میڈیا نے بھی تعلقات کے اظہار کا انداز بدل دیا ہے۔ ’فادرز ڈے‘ پر والد کی تصویر، ’مدرز ڈے‘ پر ماں کے ساتھ جذباتی پیغام، دوست کی سالگرہ پر خوبصورت تصویر اور عزیزوں کے لیے محبت بھرے پیغامات اپنی جگہ اچھے ہیں، مگر حقیقی محبت صرف تصویروں اور پیغامات تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ والدین کے لیے وقت نکالنا، ان کی بات سننا، دوست کی مشکل میں ساتھ دینا اور رشتہ دار کی پریشانی میں سہارا بننا محبت کی اصل علامت ہے۔
گھروں میں بھی وقت کی کمی ایک بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ والدین اپنے کاموں میں مصروف ہیں، بچے موبائل اور ٹیلی ویژن میں مشغول ہیں اور ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد کے درمیان گفتگو کم ہوتی جا رہی ہے۔ بچے اسکول تو جاتے ہیں، لیکن ان کی پڑھائی، دوستوں اور مسائل کے بارے میں جاننے کے لیے والدین کے پاس وقت کم ہوتا ہے۔ کھیل کے میدان کی جگہ اسکرین نے لے لی ہے، جس سے بچوں کی جذباتی اور اخلاقی تربیت متاثر ہو سکتی ہے۔
رشتوں کی مضبوطی کے لیے ہمیں دینی اور اخلاقی تعلیمات کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ قرآنِ کریم اور سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں عدل، صبر، رحم، ایثار، والدین کے احترام اور رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کی تعلیم دیتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا واقعہ اطاعت و قربانی کا درس دیتا ہے، جبکہ حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی جدوجہد صبر اور حوصلے کی مثال ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیوں میں ایثار، اخوت اور وفاداری کے بے شمار واقعات ملتے ہیں۔ ہمیں ان واقعات کو صرف پڑھنا نہیں، بلکہ اپنی زندگی میں عملی نمونہ بنانا چاہیے۔
رشتے صرف زبانی دعووں سے نہیں نبھتے؛ انہیں وقت، توجہ، اعتماد، وفا، برداشت اور خلوص کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کو سمجھنا، غلطی پر معاف کرنا، مشکل وقت میں ساتھ دینا اور اپنے مفاد سے بالاتر ہو کر دوسرے کے حق کا خیال رکھنا ہی رشتوں کی اصل بنیاد ہے۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم رشتوں کو صرف نام کے لیے قائم رکھنا چاہتے ہیں یا حقیقت میں نبھانا بھی چاہتے ہیں۔ جائیداد، دولت اور دنیاوی مفاد عارضی ہیں، مگر اچھا کردار اور کسی کا حق ادا کرنے کا اطمینان انسان کے ساتھ رہتا ہے۔
رشتے دولت سے نہیں، خلوص سے مضبوط ہوتے ہیں؛ الفاظ سے نہیں، عمل سے زندہ رہتے ہیں؛ اور صرف خون کے تعلق سے نہیں، بلکہ احساس، وفا اور اعتماد سے پائیدار بنتے ہیں۔
Comments
Post a Comment