جہنمی کون - ازقلم : پروفیسر مختارفرید، بھیونڈی مہاراشٹرا۔


جہنمی کون ۔
ازقلم : پروفیسر مختارفرید، بھیونڈی مہاراشٹرا۔

اکثر اوقات ہمارے ذہنوں میں یہ غلط فہمی پیدا ہو جاتی ہے کہ فلاں شخص جہنم میں جائے گا اور فلاں سیدھا جنت میں، یا یہ کہ کچھ لوگ یہاں وہاں کچھ وقت گزارنے کے بعد جنت میں بھیج دیے جائیں گے۔ قرآن نے اس بات کو انتہائی سادہ انداز میں بیان کیا ہے جسے ہر سنی اور غیر سنی شخص ذرا غور و فکر سے سمجھ سکتا ہے؛ وہ یہ کہ جہنم میں بڑی تعداد میں وہ لوگ جائیں گے جو تمام تر صلاحیتوں کے باوجود حق کی تلاش نہیں کرتے۔ اسے یوں بیان کیا گیا ہے کہ ان کے پاس ذہن، دل اور دماغ تو موجود ہیں مگر وہ انہیں استعمال نہیں کرتے؛ وہ چیزوں کو دیکھتے ہیں مگر توجہ نہیں دیتے، اور باتیں سنتے ہیں مگر سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ درحقیقت، وہ ان کیڑے مکوڑوں کے مانند ہیں یا بے مقصد زندگی گزارنے والوں کی مانند ہیں جو دنیا میں آئے، کھایا پیا اور چلے گئے۔ بلکہ وہ ان سے بھی بدتر ہیں کیونکہ وہ اپنے ذہن اور فہم و ادراک کو بروئے کار نہیں لاتے۔ چنانچہ یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جہنم میں جانے کا امکان اس وقت یقینی ہو جاتا ہے جب ہم حق کی تلاش کے لیے اپنے ذہن اور صلاحیتوں کو استعمال نہیں کرتے اور سچائی کو ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کرتے۔ لہٰذا، حق کی تلاش ہماری ذمہ داری ہے۔ اور حق کی تلاش کے لیے، یقیناً، کتابِ الٰہی کی آیات اور کائنات کی نشانیاں ہمارے سامنے موجود ہیں؛ ہمیں ان دونوں پر توجہ دیتے ہوئے حق کی جستجو کرنی چاہیے
ہم صحیح راستے پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں، تو ہمارے لیے وہ بہتر مواقع میسر آتے ہیں جو کامیابی کی طرف لے جاتے ہیں؛ اس کے برعکس، جو لوگ غفلت برتتے ہیں وہ جہنم کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں وہ لوگ ہیں جو سمجھ بوجھ سے کام لیتے ہیں، سچ کی تلاش کرتے ہیں، حق کو سمجھتے اور اسے قبول کرتے ہیں۔ یہ باتیں ان آیات کے تناظر میں کہی گئی ہیں؛ ایسا کرنے پر وہ کامیاب لوگوں میں شمار ہوں گے اور ان کی زندگی بہت بہتر ہو جائے گی۔ لیکن جو لوگ سچ کی تلاش نہیں کرتے، اپنی سمجھ بوجھ کو استعمال میں نہیں لاتے اور آیات پر توجہ نہیں دیتے، ان کے لیے انجام بہت تکلیف دہ ہوگا۔ دیکھیے، یہ ایک بہت بڑی اور اہم آیت ہے کیونکہ اس میں کئی بنیادی باتیں موجود ہیں۔ سب سے پہلی بات جس پر توجہ اور تنبیہ کی ضرورت ہے—اور جسے سمجھ کر ہمیں ہوش میں آ جانا چاہیے—وہ یہ ہے کہ قرآن اعلان کر رہا ہے کہ جنوں اور انسانوں کی اکثریت کو جہنم کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ اب جس گروہ کے بارے میں قرآن یا اللہ نے فرما دیا کہ وہ جہنم کے لیے ہیں، انہیں کوئی نہیں بچا سکتا؛ ان کا کوئی بچانے والا نہیں۔ وہ کون لوگ ہیں؟ یہ وہ تمام لوگ ہیں جن کے پاس دل اور دماغ تو ہے مگر وہ سوچتے نہیں؛ ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ دیکھتے نہیں؛ وہ سنتے نہیں۔ یعنی اگر ہم ان تین بنیادی صلاحیتوں کو یکجا کریں تو بات عقل و فہم کی طرف آتی ہے؛ یعنی وہ عقل کا استعمال نہیں کرتے، دلائل تلاش نہیں کرتے اور استدلال کی بات نہیں کرتے، بلکہ بغیر کسی ثبوت کے کسی کی بھی بات مان لیتے ہیں
کبھی وہ کہتے ہیں کہ ہمارے بڑوں نے ایسا ہی کہا تھا، اور کبھی کہتے ہیں کہ یہ بہت بری بات ہے۔ وہ اسے غلط کیسے کہہ سکتے ہیں؟ یہ معاملہ تقلید کا ہے، عقل کا نہیں۔ دوسری طرف، ہم جو کچھ بھی دیکھتے ہیں، عقل ہی کے ذریعے دیکھتے ہیں۔ یہ ایک سائنسی حقیقت ہے جو میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ ہماری آنکھیں نہیں دیکھتیں بلکہ دماغ دیکھتا ہے۔ آنکھوں سے صرف تصویر دماغ تک پہنچتی ہے، اور دماغ اسے پہچانتا اور اس پر عمل (پروسیسنگ) کرتا ہے اور ہمیں بتاتا ہے کہ یہ کیا ہے۔ یہی سننے کی صلاحیت اور آواز کو سمجھنے کی صلاحیت ہے۔ کان تو صرف آواز پہنچانے کا ذریعہ ہیں، اصل عمل دماغ میں ہوتا ہے۔ لہٰذا ہر چیز کا مرکز دماغ ہی ہے۔ جو شخص اس دماغ کا استعمال نہیں کرتا اور ذہنی معاملات سے بے خبر رہتا ہے، وہ اسی زمرے میں آتا ہے۔ وہ چیزوں پر توجہ نہیں دیتے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کی آیات کے بارے میں فرماتا ہے کہ تم انہیں کیوں نہیں دیکھتے؟ مومنین کی پہچان یہ ہے کہ جب اللہ کی آیات ان کے سامنے آتی ہیں تو وہ اندھوں کی طرح ان پر نہیں گزر جاتے، بلکہ ان پر توجہ دیتے ہیں اور غور و فکر کرتے ہیں۔ یہاں اس آیت کو دیکھیں، یہ بہت حیران کن ہے۔ زمین اور آسمانوں میں کتنی ہی ایسی نشانیاں (آیات) ہیں جن کے پاس سے یہ لوگ گزرتے ہیں لیکن ان پر کوئی توجہ نہیں دیتے۔ ان میں سے اکثر اللہ پر ایمان تو رکھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ اب پہلی بات یہ ہے کہ یہ ایک اور آیت ہے جو کائنات کی ہر تخلیق کو اللہ کی اپنی نشانی قرار دیتی ہے۔ زمین اور آسمانوں میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن کے پاس سے یہ لوگ گزرتے ہیں؛ یعنی وہ راستے جن سے انسان گزرتا ہے، چاہے زمین میں ہو یا آسمانوں میں، بلندیوں پر ہو، ہوائی جہازوں یا راکٹوں کے ذریعے، دوربین کی مدد سے یا اپنی آنکھوں سے دیکھ کر۔ ان نشانیوں کو دیکھنے کے باوجود وہ اللہ کی وحدانیت اور عظمت کا ادراک نہیں کرتے۔ اسی لیے قرآن نے یہ بات کہی ہے۔ سورہ النمل کی آیات 83 سے 85 بہت اہم ہیں جن کا میں اکثر ذکر کرتا ہوں۔ ان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن میں ان لوگوں کے لشکر کو اکٹھا کروں گا جنہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا تھا۔ اور جب وہ اکٹھے ہوں گے تو اللہ ان سے پوچھے گا کہ تم نے میری آیات کا انکار کیا حالانکہ تمہیں ان کا صحیح علم نہیں تھا۔
سورۃ النمل، آیت 83 "اور اس دن ہم ہر امت میں سے ایک گروہ جمع کریں گے، ان لوگوں کا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا، پھر انہیں ترتیب سے روکا اور جمع کیا جائے گا۔" 
 اس آیت میں قیامت کے ایک ہولناک منظر کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہر امت میں سے ان لوگوں کا ایک گروہ الگ کیا جائے گا جنہوں نے جان بوجھ کر اللہ کی آیات کا انکار کیا، انبیاء کی دعوت کو رد کیا اور حق کو جھٹلایا۔ انہیں منظم انداز میں میدانِ حشر میں لایا جائے گا تاکہ ان کا حساب لیا جائے۔ اللہ کے ہاں کوئی مجرم چھپ نہیں سکتا۔ ہر قوم اپنے اعمال کی ذمہ دار ہے۔ حق کا انکار کرنے والوں کو اجتماعی طور پر جواب دہ ہونا ہوگا۔
 آیت 84 "یہاں تک کہ جب وہ آ جائیں گے تو اللہ فرمائے گا: کیا تم نے میری آیات کو جھٹلایا، حالانکہ تم نے ان کا علم بھی حاصل نہیں کیا تھا؟ یا پھر تم کیا کرتے رہے؟" 
 یہ سوال سزا معلوم کرنے کے لیے نہیں بلکہ مجرموں کو ان کے جرم کا اعتراف کرانے کے لیے ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا کہ کیا تم نے بغیر سمجھے، بغیر تحقیق کیے، صرف تعصب، خواہشِ نفس یا آبائی تقلید کی بنا پر میری آیات کا انکار کر دیا؟ اگر انکار نہیں کیا تھا تو پھر تمہاری زندگی کا مقصد کیا تھا؟ 
سوال ہم مسلمانوں سے بھی ہوگا کہ قرآن کو تم نے پس پشت ڈال رکھا تھا بغیر سوچے سمجھے بغیر علم کے صرف طوطے کی طرح غٹرغوں کرتے ہوئے رٹ لیا ہے ۔ پورے کے پورے 6,236 آیت رٹ کر حافظ قرآن بن سرپر ایک خاص قسم کی پگڑی باندھتے ہیں جیسے بعض لوگ دستار بندی کہتے ہیں ۔ عام طور پر یہ بات جاہل عوام میں بہت مشہور ہے کہ حافظ قرآن اپنے خاندان کے دس یا سات یا سترافراد کو جنت میں لے جائے گا، جن پر جہنم واجب ہوچکی ہوگی ۔ اس بات پر تبصرہ کرنے سے قلم قاصر ہے، کیوں کہ بات حدیث میں آئی ہے اور مشکل یہ ہے کہ سنن الترمذی میں حدیث نمبر2905 میں درج ہے۔ عقل حیراں کہ پیٹوں جگر کو میں ۔ 

بغیر علم کے کسی بات کو رد کرنا بہت بڑا جرم ہے۔ یہ اندھی تقلید ہے مقصد حیات اور الله کے آیتوں پر غور کئے بغیر صرف سنی سنائی باتوں پر اعتقاد رکھنا اور ایک آسان طریقہ جنت میں جانے کا تلاش کرنا، ہمارے علماء اور بڑے بزرگوں نے کچھ پڑھ کر ہی ان باتوں پر عمل کیا ہوگا ۔ اس بات بھروسہ رکھنا کہ ہمارے بڑے قیامت کے دن الله سے وہماری شفاعت کریں گے ۔ قیامت کےدن خود ان لوگوں کو کٹھیرے میں کھڑا کردیا جائے گا سورۃ الاحزاب آیت نمبر 67 اور وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی، تو انہوں نے ہمیں سیدھے راستے سے بھٹکا دیا۔" یہ آیت خاصطور پراندھی تقلید آور ایسے سرداروں و بڑوں کی پیروی سے خبردار کرتی ہے جو انسان کو اللہ کے راستے سے ہٹا دیں۔ اگلی آیت میں وہ دعا کریں گے۔ "اے ہمارے رب! انہیں عذاب کا دگنا حصہ دے اور ان پر بڑی لعنت فرما۔ 

انسان پر لازم ہے کہ وہ حق کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ قیامت میں کوئی جھوٹا عذر قبول نہیں ہوگا۔
آیت 85: "اور ان کے ظلم کی وجہ سے ان پر عذاب کا فیصلہ ثابت ہو جائے گا، پھر وہ کچھ بول بھی نہ سکیں گے۔" 
 جب ان کے تمام اعمال اور انکار واضح ہو جائیں گے تو اللہ کا فیصلہ نافذ ہو جائے گا۔ اس وقت وہ اپنی صفائی میں کچھ نہ کہہ سکیں گے، کیونکہ ان کے اپنے اعمال، ان کی زبانیں، ہاتھ، پاؤں اور دیگر گواہ ان کے خلاف گواہی دے چکے ہوں گے۔ ان کی خاموشی اس بات کی علامت ہوگی کہ ان کے پاس کوئی قابلِ قبول دلیل باقی نہیں رہے گی۔ 
موجودہ دور کے لیے پیغام یہ آیات ہر دور کے انسان کو خبردار کرتی ہیں کہ: حق کو بغیر تحقیق کے رد نہ کرے۔ قرآن کی آیات پر غور و فکر کرے اور تعصب سے بچے۔ اختیار، طاقت یا اکثریت کسی کو اللہ کے سامنے جواب دہی سے نہیں بچا سکتی۔ قیامت کے دن صرف وہی کامیاب ہوگا جو ایمان، علم اور نیک اعمال کے ساتھ اللہ کے حضور حاضر ہوگا۔ یہ آیات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ عدلِ الٰہی میں کسی پر ظلم نہیں ہوگا، بلکہ ہر شخص کو اس کے اپنے اعمال کا پورا بدلہ ملے گا۔ 
ضرور۔ سورۃ الاحزاب کی آیات 66 تا 68 بہت گہری تنبیہ رکھتی ہیں۔ ان میں قیامت کے دن ان لوگوں کا انجام بیان ہوا ہے جنہوں نے حق کو پہچاننے کے باوجود اپنے سرداروں، بڑوں، مذہبی یا دنیاوی مقتدر لوگوں کی ایسی پیروی کی جس نے انہیں اللہ کی راہ سے دور کر دیا۔

سورۃ الأحزاب: آیات 66–68
"جس دن ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کیے جائیں گے، وہ کہیں گے: کاش ہم نے اللہ کی اطاعت کی ہوتی اور رسول کی اطاعت کی ہوتی۔"
"اور وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی، پس انہوں نے ہمیں راستے سے بھٹکا دیا۔ اے ہمارے رب! انہیں دگنا عذاب دے اور ان پر بہت بڑی لعنت فرما۔"
آج کے دور کے لیے ایک آئینہ ، ان آیات کا پیغام صرف ماضی کے لوگوں کے لیے نہیں۔ قرآن انسان کو قیامت کا منظر دکھا کر آج ہی متنبہ کرتا ہے کہ اپنی عقل، ضمیر اور اللہ کی کتاب کو چھوڑ کر کسی انسان کی اندھی پیروی نہ کرو۔ قیامت کے دن انسان اپنے ان بڑوں کو الزام دے گا جن کے پیچھے چل کر وہ گمراہ ہوا تھا۔ لیکن قرآن کا اصول یہ ہے کہ قیامت کے دن کوئی یہ عذر پیش نہیں کر سکے گا کہ "میں تو اپنے بڑوں کے پیچھے چل رہا تھا۔"

دنیا میں ہم اکثر کہتے ہیں: "ہمارے بزرگ ایسے کرتے آئے ہیں۔"ہماری جماعت کا یہی عقیدہ ہے۔"ہمارے علماء نے یہی کہا ہے۔"ہمارے لیڈر نے جو کہا، ہم نے مان لیا۔"ہم نے تو اپنے آباؤ اجداد کی پیروی کی ہے۔"
لیکن قرآن سوال اٹھاتا ہے: اگر وہ راستہ اللہ کے راستے کے خلاف ہو تو؟ یہی اصل امتحان ہے۔
"سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا" سے مراد صرف حکمران نہیں
آیت میں سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا کے الفاظ بہت وسیع معنی رکھتے ہیں۔ اس میں وہ لوگ شامل ہو سکتے ہیں جنہیں معاشرے میں اقتدار، مقام، اثر و رسوخ یا قیادت حاصل ہو اور جن کی پیروی انسان کو گمراہی تک پہنچا دے۔اس میں سیاسی قیادت بھی آ سکتی ہے، سماجی قیادت بھی، مذہبی اثر و رسوخ رکھنے والے لوگ بھی، اور خاندان یا معاشرے کے وہ بڑے بھی جن کی بات کو بغیر دلیل کے حق سمجھ لیا جائے۔ لیکن ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے: قرآن ہر بزرگ، عالم یا قائد کی پیروی سے منع نہیں کرتا؛ قرآن اندھی اور ایسی اطاعت سے خبردار کرتا ہے جو اللہ اور رسول کی ہدایت کے خلاف ہو۔ اسلام میں علم رکھنے والے سے رہنمائی لینا ایک چیز ہے، اور اسے حق و باطل کا آخری معیار بنا دینا دوسری چیز۔

اصل اطاعت کس کی ہے؟ آیت 66 میں قیامت کے دن انسان کی حسرت کا سبب خود اس کی زبان سے بیان ہوتا ہے: کاش ہم نے اللہ اور رسول کی اطاعت کی ہوتی! پھر فوراً اگلی آیت میں وہ کہتے ہیں: ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی اطاعت کی۔ گویا انسان کو آخرکار احساس ہوگا کہ اللہ اور رسول کی اطاعت چھوڑ کر انسانوں کی اندھی اطاعت کرنا اس کی سب سے بڑی غلطی تھی۔
موجودہ زمانے کا سب سے بڑا خطرہ آج انسان کے پاس معلومات پہلے سے کہیں زیادہ ہیں، لیکن اسی کے ساتھ اندھی پیروی کے ذرائع بھی پہلے سے کہیں زیادہ ہیں۔ سوشل میڈیا، سیاسی جماعتیں، مذہبی گروہ، مشہور شخصیات، مقررین اور مختلف نظریاتی حلقے انسان کے ذہن پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ ایک شخص کسی بات کو صرف اس لیے درست سمجھ لیتا ہے کہ اسے اس کا پسندیدہ لیڈر کہتا ہے۔
دوسرا کسی بات کو صرف اس لیے حق سمجھتا ہے کہ اس کے خاندان میں نسلوں سے یہی مانا جاتا ہے۔
تیسرا کسی مذہبی شخصیت کے قول کو اس لیے آخری سمجھ لیتا ہے کہ وہ اس شخصیت کا عقیدت مند ہے۔
لیکن مومن کا معیار یہ ہونا چاہیے: بات کس نے کہی ہے، یہ اہم ہے؛ مگر اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ بات حق ہے یا نہیں۔

قرآن کہتا ہے: "تحقیق کر لیا کرو۔" (الحجرات 49:6)
اور:"جس چیز کا تمہیں علم نہیں، اس کے پیچھے نہ چلو۔" (الإسراء 17:36)

ہمیں آیت 67 سے کیا سبق لینا چاہیے؟ یہ آیت ہمیں کسی شخصیت سے نفرت نہیں سکھاتی؛ یہ ہمیں اپنی ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے۔ اگر ہمارا عالم غلطی کرے تو ہمیں قرآن و سنت کی روشنی میں حق تلاش کرنا ہوگا۔
اگر ہمارا قائد غلط راستہ اختیار کرے تو ہمیں اس غلطی کی پیروی نہیں کرنی چاہیے۔ اگر ہمارے آباؤ اجداد کسی ایسی رسم یا عقیدے پر قائم رہے جو اللہ کی ہدایت کے خلاف ہو تو محض یہ کہنا کافی نہیں کہ:
"ہمارے باپ دادا بھی یہی کرتے تھے۔"
قرآن نے اسی ذہنیت پر متعدد مقامات پر تنقید کی ہے۔ قیامت کا منظر آج ہی ہمیں جھنجھوڑ رہا ہے، ذرا تصور کیجیے:قیامت کا دن ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے دنیا میں اپنے بڑوں کی ہر بات بغیر سوچے مان لی تھی، آج جہنم کے سامنے کھڑے ہیں۔ وہ اپنے رہنماؤں کو دیکھ کر کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی اطاعت کی، انہوں نے ہمیں راستے سے بھٹکا دیا۔ پھر وہ دعا کریں گے: اے ہمارے رب! انہیں دگنا عذاب دے! لیکن اس وقت بہت دیر ہو چکی ہوگی۔ دنیا میں وہ اپنے رہنماؤں کے پیچھے چل رہے تھے؛ آخرت میں وہ انہی کو اپنا دشمن قرار دے رہے ہوں گے۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن ہمیں قیامت سے پہلے سوچنے کا موقع دے رہا ہے۔
اختتامی پیغام " آج ہمیں اپنے آپ سے ایک سوال کرنا چاہیے ،میں کس کی پیروی کر رہا ہوں؟ کیا میں حق کی پیروی کر رہا ہوں، یا صرف اپنے پسندیدہ شخص کی؟ کیا میں قرآن کی روشنی میں بات کو پرکھتا ہوں، یا شخصیت کو دیکھ کر حق و باطل کا فیصلہ کرتا ہوں؟ کیا میری وفاداری اللہ کے ساتھ ہے، یا کسی جماعت، گروہ، خاندان، عالم یا قائد کے ساتھ؟ کیونکہ قیامت کے دن ہمارا عذر یہ نہیں ہوگا کہ: "ہمیں ہمارے بڑوں نے ایسا بتایا تھا۔" ہمیں اپنے اعمال کا خود جواب دینا ہوگا۔ اس لیے قرآن کا پیغام آج بھی یہی ہے: بڑوں کا احترام کرو، علماء سے علم حاصل کرو، رہنماؤں سے مشورہ کرو، مگر حق کا معیار کسی انسان کو نہ بناؤ۔ حق کو انسانوں سے نہ پہچانو؛ انسانوں کو حق کی روشنی میں پہچانو۔
پروفیسر مختارفرید 
بھیونڈی مہاراشٹرا

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔