بھارت جوڑو یاترا سے طلباء کی تعلیمی پریشانیوں اور احتجاج تک راہل گاندھی کی کامیاب نمائندگی - مسافر اُٹھ کہ اب سورج نکلنے ہی والا ہے - ازقلم : سعید پٹیل جلگاؤں۔
بھارت جوڑو یاترا سے طلباء کی تعلیمی پریشانیوں اور احتجاج تک راہل گاندھی کی کامیاب نمائندگی -
مسافر اُٹھ کہ اب سورج نکلنے ہی والا ہے -
ازقلم : سعید پٹیل جلگاؤں۔
راہل گاندھی کی قیادت میں ١٥٠ دنوں تک ٤ ہزار کلومیٹر سے زائد کا فاصلہ پیدل چلنے کی تاریخ مرتب کرتے ہوۓ سن ٢٠٢٢ء کے ٧ ستمبر سے شروع ہوئی بھارت جوڑو یاترا کنیاکماری سے ملک کی ١٤ ریاستوں سے گذر کر ٣٠ جنوری ٢٠٢٣ء کو سری نگر میں ختم ہوئی تھی۔اسی دوران کانگریس رہنما راہل گاندھی نے قومی یکجہتی کے فروغ اور ملک کے شہریان کو پیار محبت کا پیغام دیتے ہوۓ مشن پورا کیا تھا۔انھوں نے سماج کے ہر شعبہ جات کے عام آدمی سے ملاقاتیں کی ، ان سے گفتگو کرکے انھیں ہمت اور تسلی دینے کا کارنامہ انجام دیا تھا۔ یہاں سے راہل گاندھی قومی سطح پر عوام کے درمیان اور پارلیمان میں ایک ذمہ دار لیڈر کے طور پر جو نمائندگی کر رہے ہیں وہ کامیاب اور قابل ستائش ہے۔پہلے تو ملک میں بڑھتی ہوئی تفریق اور مذہبی منافرت کی فضا کو ختم کرنے کی کوشش ، عوامی مسائل عوام ہی کی زبان سے سننا ، باہمی اتحاد اور بھائی چارہ قائم رہنے کےلیۓ بھرپور کوشش کرنا ، مہنگائی ، بیروزگاری اور سماجی ناہمواری کے خلاف آواز اُٹھانہ ، کسانوں ، مزدوروں کے مسائل کی نمائندگی اور گذشتہ تین مہینے سے جین زی طلباء کے ساتھ ان کی تعلیمی پیش رفت میں رکاوٹ بنے پیپر لیک جیسے مسلہ پر کامیاب نمائندگی کرنا۔راہل گاندھی طلباء کے نیتا بننے میں کامیاب ہوتے ہوۓ نظر آرہے ہیں۔جین زی کو راہل گاندھی میں دیش کے نۓ نیتا کی تصویر نظر آرہی ہے۔راہل گاندھی ان دنوں نوجوانوں کو بیروزگاری کی کشمکش اور طلباء کو پیپر لیک جیسے سنگین مسائل سے باہر نکالنا چاہتے ہیں۔راہل گاندھی کی مذکورہ قومی جدوجہد کی ہر کانگریسی ورکر نے بھرپور حمایت کرنے کی ضرورت ہے ، موجودہ حالات میں ان کے اس مشن کو کامیاب بنانے کی
ہر کانگریسی ورکر کی ذمہ داری ہے۔کانگریس کی جو نمائندگی قومی سطح پر نظر آتی ہے وہی نمائندگی زمینی سطح پر پارٹی کی ہر اکائی میں بھی نظر آنا چاہیۓ۔
مسافر اُٹھ کہ اب سورج نکلنے ہی والا ہے۔
اب اس کے بعد جو سوۓگا وہ کھوۓ گا۔
Comments
Post a Comment