غزل - ازقلم - مہرالنّساء مہروؔ بیجاپور کرناٹک۔
غزل -
ازقلم - مہرالنّساء مہروؔ بیجاپور کرناٹک۔
کھو گئے انتظار کے رستے
اب نہ ہونگے بہار کے رستے
بِن ترے پھول بھی بچھے ہوں اگر
مجھ کو لگتے ہیں خار کے رستے
نفرتیں دل سے تم مٹاؤ سہی
خود بلائیں گے پیار کے رستے
بچ کے رہنا کبھی نہ جانا تم
آستینوں کے مار کے رستے
ہائے افسوس ہوش کھو بیٹھا
چل دیا تھا خمار کے رستے
کبھی مایوس تم نہیں ہونا
جب بھی آئیں گے ہار کے رستے
مجھ کو معلوم پہلے سے ہی تھا
آپ آئیں گے کار کے رستے
دین اپنا بچانے کی خاطر
چل دئے تھے وہ غار کے رستے
اپنی بستی کو چھوڑ کر مہروؔ
کیوں چلے ہیں یہ شار کے رستے
مہرالنّساء مہروؔ بیجاپور کرناٹک۔
Comments
Post a Comment