میری دانش ہے افرنگی میرا ایمان ہے زناری - عید میلاد کے پس منظر میں - بقلم : محمد ناظم ملی تونڈاپوری، جامعہ اکلکواں۔
میری دانش ہے افرنگی میرا ایمان ہے زناری -
عید میلاد کے پس منظر میں -
بقلم : محمد ناظم ملی تونڈاپوری،
جامعہ اکلکواں۔
ع
شعور لایا کتاب لایا وہ حشر تک کا نصاب لایا
دیا ہےکامل نظام اس نے اور اپ ہی انقلاب لایا
شعور کی گتھیاں عاجز ہے اور عقل کی انتہا سجدہ ریز زبان و قلم اپنی بے مائیگی کا اظہار کر رہے ہیں سچائی تو یہی ہے ۔کیونکرناوہ اظہار بے مایگی کرے ۔کہ بات اس معلم اعلی کی ہے جو خالق کائنات کا شاگرد ہے اور ساری مخلوق کا معلم ہے انسانیت کا راہبر ہے رہنما ہے بشر ہی نہیں خیر البشر ہے جس نے کائنات کو وہ حسین سوغاتیں دین جس کا اندازہ لگانے کے لیے خطہ عرب ہی نہیں بلکہ اس زمانے میں چہار دانگ عالم کی تاریخ کو پڑھنا اور سمجھنا ضروری ہوگا۔ تاریخ نگار لکھتے ہیں کہ اس عہد میں سارا سماج؛ پورا معاشرہ ؛اور ساری انسانیت؛ اپنے وجود میں باعث نحوست و ندامت تھی یہ اس زمانے کی بات ہے جس زمانے کو زمانہ" فترت" کہا جاتا تھا. انسانیت ذلت و نکبت کے نگار خانے میں اس قدر تذلیل کا شکار تھی جس کے بیاں سے قرطاس و قلم عاجز ہیں. کسی نے بڑی اچھی تعبیر میں اس طرح پیش کیا ہے ع
انسانیت کے جوہر کونوں میں رو رہے تھے
علم و ہنر کے پتلے قبروں میں سو رہے تھے
زمیں کہہ رہی تھی کہ میں اسماں ہوں
اسماں کہہ رہا تھا کہ میں لا مکاں ہوں
پھر خدائے مہربان نے دنیا پر اپنے کرم کی بارش اس طرح برسائی کے رحمتوں کا نشان بن کر عبداللہ کے نور نظر امنہ کے لخت جگر محمد ابن عبداللہ ابن عبدالمطلب رحمت عالم بن کر دنیا میں تشریف لائے
یوں تو دنیا میں ائے بڑے پاک و مکرم بن کر
کوئی ایا نہ مگر رحمت عالم بن کر
لقد من الله على المؤمنين اذ بعث فيهم رسولا .. الى الخ
الہی کس سے بیاں ہو سکے ثنا ان کی
کہ جس پر تیری ذات خاص کا ہو پیار
کہاں وہ رتبہ بلند کہاں عقل نارساں اپنی
کہاں وہ نور خدا اور کہاں یہ دیدہ زار
میں اپنی اس کم مائیگی اور بےچارگی کے عالم میں انہی کے دربار میں ملتجی ہوں کہ
ع
تو ائے مولا یثرب آپ میری چارہ سازی کر
میری دانش ہے افرنگی میرا ایمان ہے زناری
سچ تو یہی ہے کہ میں اپنی زبان کی گرہیں کھولو بھی تو کہاں سے؟ ع
کہ زندگیاں ختم ہو گئیں اور قلم ٹوٹ گئے
تیرے اوصاف کا ایک باب بھی پورا نہ ہوا
ائیے ۔ قبل از بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے حالات جانیں ؛جاھل عرب؛ اجڈ عرب؛ بدترین عرب؛ انسانیت کے دشمن عرب؛ ظالم و جابر اور قاہر عرب ؛گناہوں خرابیوں اور ذلتوں سے لت پت عرب؛ مگر اسی دوران ان کو ساقی کوثر؛ رسول رحمت؛ انسان کامل؛ تاجدار ختم نبوت؛ جیسا مشفق معلم اور مہربان استاد اور ایک ہادی راہبر اور رہنما مل جاتا ہے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہی انسانیت سے کھوکھلے عرب تہذیب و تمدن سے نا آشنا عرب ایک باوقار معاشرے میں تبدیل ہو کر دنیا کی امامت کے قابل بن جاتے ہیں۔ اورپھر دنیا نے اپنی کھلی انکھوں سے مشاہدہ کیا۔ اور اجاڑ و خزاں الود ماحول میں بہار کا سما دیکھا۔تاریکیوں کو روشنیوں سے بدلتے دیکھا۔ وہ ہدایت کا نیر تاباں جس کی تابانی سے کائنات خدا روشن ہوئ یقینا وہ مظہر نور الہی ہے۔ جس کی ہزارہا ہزار جہتیں ہیں۔ اور ہر جہت کے لا تعداد پہلو ہیں۔ اور ہر پہلو سے لا تعداد کرنیں پھوٹتی ہیں ۔ہر کرن کے لا تعداد رنگ ہیں۔اور ہر رنگ میں ایک نئی طاقت ہے ۔ اگروہ ایک جھلک ظاہر کر دے تو نوریوں کا امام اپنے پر بچھا دے۔اسکے قدموں پر لبوں کو رکھ دیں اور ایک جلوہ نمائی پر جہان طور بن جائے۔ یہ عظمت مصطفی ہے اس سے اگے بڑھ کر بھی کہا جا سکتا ہے کہ جس جس چیز میں خدا کی خدائی ہے اس اس چیز میں مصطفی کی مصطفای ہے سارا قران ہی عظمت مصطفی پر دلالت کرتا ہے ۔اور شان احمدی کا غماز ہے. "كان خلقه القران"مصطفی کی شان عظمت اس وقت بھی تھی جب نہ لوح تھا نہ قلم نہ عرب تھا نہ عجم نہ جنت تھی نہ جہنم نہ اتش تھا نہ گلزار نہ زمین و زماں نہ مکیں نہ مکاں۔ نہ چنیں نہ چناں ۔بس پہلے خدا تھا پھر مصطفی ۔ ساقی کوثر کے چہرہ انور سے پردہ ہٹا تو قران نے کہا "والضحى "اور عظمت مصطفی بتلا دی. حضور شافع محشر کی زلف عنبرین کیا کھلیں قران نے یہ کہہ دیا "والليل اذا سجى" اور عظمت مصطفى واضح کردی۔ الم نشرح لك صدرك کہہ کر اقا کے سینہ مبارک کی عظمت کا اظہار کر دیا منہ سے بات کیا نکلی قران گویا ہوا "وما ينطق عن الهواى "حضور صاحب کوثر صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں کیا پھینکی !قران نے عظمت کا اظہار کر دیا "وما رميت اذ رميت ولكن الله رمى" اقا کو سیر کرائی گئی قران نے اس کا بھی اظہار کیا" سبحان الذي اسرى بعبده ليلا من المسجد الحرام الى المسجد الاقصى" حضور رب کے حضور پہنچ گئے تو قران نے یوں کہا "فكان قاب قوسين او ادنى" حضور رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت کی بات ائی تو قران نے اظہار کیا" وما ارسلناك الا رحمه للعالمين" یہ عظمت مصطفی کے وہ گوہر پارے ہیں جن کو رب ذوالجلال نے خود بیان فرمایا ہیں. تو پھر بشر بے خبر انسان کی کیا طاقت کہ وہ عظمت مصطفی کو کلی طور پر بیان کر سکے۔ ع
شایان نبی کوئی کیسے مدح سرا ہو
سرکار کی توصیف کا حق کیسے ادا ہو
امی کوئی ایسا جو معلم ہو جہاں کا
بے سرا کوئی ایسا جو شہ دو سرا ہو
ہر دور کی تاریخ سے یہ پوچھ رہا ہوں
ہے تیرے یہاں کوئی جو اقا سے بڑا ہو
مگر افسوس چودھویں صدی کے مسلمان پر اس کی جہالت کی انتہا ہے نہ یہ عظمت مصطفی جانتا ہے نہ عظمت مصطفی کے تقاضے کا حامل ہے جاھل جو ٹھہرا بیچارہ ! یہ نبی کی عظمت کا ڈنکا پیٹ رہا ہے اس کی عقیدت صرف جھنڈوں میں ا کر اٹک گئی ہے یہ الٹے سیدھے نعروں کو اسلام سمجھ بیٹھا ہے اس کا من مانا اسلام اس کو اور پوری قوم کو کتنا نقصان پہنچا رہا ہے اس کو کوئی خبر نہیں خصوصا ہندوستان کی سرزمین پر تو یہ ایک حساس موضوع بن جاتا ہے حضور کی امد کو عید کا نام دے کر کے جھنڈو نعروں اور اچھل کود کا جواز پیدا کرنا درحقیقت عظمت مصطفی اور نام محمد کی توہین و تنقیص ہے. شریعت کہتی ہے في الاسلام عيدان عيد الفطر وعيد الاضحى. اور اہل سنت والجماعت کے نزدیک یہی دونوں عیدیں منصوص مقرر ہے خیر القرون اورعہد صحابہ سے لے کر تابعین اور تبع تابعین تک تمام امت مسلمہ انہی دونوں عیدوں کی قائل رہی ہیں اور ان دونوں عیدوں کے منانے میں کبھی کوئی اختلاف امت میں نہیں رہا اور یہ دونوں عیدیں بندگی کا بین اور کھلا اظہار ہے جبکہ بعد کے ادوار کی دونوں نو زائدہ عیدیں "عید میلاد النبی" اور "عید غدیر خم "بے شمار خرافات کا پلندہ ہے بدعت ہے اور خلاف شرع امور سے معمور ہے اس پورے معاملے میں حضور عالی مقام حضرت مدنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد عالی یاد رہے" من احدث في امرنا هذا ما ليس منه فهو رد "مگر اس کا کیا علاج کہ امت اندھی بہری اور گونگی ہوئی جا رہی ہے شریعت کا پاس و لحاظ کیے بغیر حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر خرافات کا اعلان کر رہی ہے افسوس سوائے اس کے کیا کہا جائے ع
کہ یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائے یہود
پھر میں اسی کی بارگاہ میں ملتجی ہوں۔ ع
تو اے مولا یثرب آپ میری چارہ سازی کر
میری دانش ہے افرنگی میرا ایمان ہے زناری
Comments
Post a Comment