غزل - ازقلم : سرفراز حسین فراز پیپل سانہ مرادآباد۔
غزل -
ازقلم : سرفراز حسین فراز پیپل سانہ مرادآباد۔
میسج یہ آج آیا مرے غم گسار کا
کیجے کوئی مداوا دلِ بے قرار کا
ایسا مسیحا ڈھونڈ کے لادو کوئی مجھے
حل مسلہ جو کر دے غمِ روزگار کا
جیسے گزر رہی ہے گزرنے دو دوستو
پوچھو نہ حال میرے دلِ داغ دار کا
آؤ قریب ، دل سے لگا لوں میں آپ کو
دیکھو گزر نہ جائے یہ موسم بہار کا
پھر اگلے سال آنے کو لکّھا ہے آپ نے
گزرے گا کیسے اب یہ سماں انتظار کا
عارض کمال ہونٹ غضب شربتی نین
قائل ہے قلب آپ کے نقش و نگار کا
کچھ ایسا حال آپ کے بیمار کا ہے اب
بجھتا ہوا چراغ ہو جیسے مزار کا
قیدِ قفس سے آپ کی جاتے کہاں پہ ہم
ہوش و حواس ہی نہ تھا راہِ فرار کا
جو کان میں کہی تھی وہ بازار میں سنی
کیسے کروں یقین کسی رازدار کا
دو جسم ایک جان تھے کل تک تو ہم فراز
اب تو پتہ بھی یاد نہیں حسنِ یار کا
سرفراز حسین فراز پیپل سانہ مرادآباد
Comments
Post a Comment