نظم ترنگا شان ہے میری۔ ازقلم : سرفراز حسین فراز پیپلسانہ مرادآباد یوپی الہند.
نظم ترنگا شان ہے میری۔
ازقلم : سرفراز حسین فراز پیپلسانہ مرادآباد یوپی الہند.
ترنگا شان ہے میری ترنگا جان ہے میری.
یہ ہی ارمان ہے میرا یہ ہی پہچان ہے میری.
جبیں میری ہمالہ ہے مری دھرتی شوالہ ہے.
ابھی نقشے میں دنیا کے مری تصویر اعلیٰ ہے.
اِسى کے دم سے ہی قائم مَدُھر مسکان ہے میری.
ترنگا شان ہے میری ترنگا جان ہے میری.
یہ ہی ارمان ہے میرا یہ ہی پہچان ہے میری.
تبر اور تیر بھی جھیلا میں ہوں شمشیر سے کھیلا.
لگا کنیا کماری سے مرا کشمیر تک میلا.
یہ مال و زَر ہیں کیا اِس پر تو جاں قربان ہے میری.
ترنگا شان ہے میری ترنگا جان ہے میری.
یہ ہی ارمان ہے میرا یہ ہی پہچان ہے میری.
میں گاندھی کی تمنّا ہوں میں نہرو کا بھی سپنا ہوں.
میں ہی ہوں جان گوتم کی میں ٹیپو کا بھی اپنا ہوں.
اِنھیں لوگوں کے صدقے میں سلامت آن ہے میری.
ترنگا شان ہے میری ترنگا جان ہے میری.
یہ ہی ارمان ہے میرا یہ ہی پہچان ہے میری.
یہیں اشفاق ارو بسمل یہیں پیدا ہوئے شیدا.
یہی بستی بھگت سنگھ کی یہیں جوہر ہوئے پیدا.
اِنھیں کے خوں سے دنیا میں نرالی شان ہے میری.
ترنگا شان ہے میری ترنگا جان ہے میری.
یہ ہی ارمان ہے میرا یہ ہی پہچان ہے میری.
لئے پیغام حق آئے مرے خواجہ یہاں آئے.
یہیں نانک ہوئے پیدا لئے وحدت کا جام آئے.
اِنھیں کے نور سے ہر شئے بہت ذیشان ہے میری.
ترنگا شان ہے میری ترنگا جان ہے میری.
یہ ہی ارمان ہے میرا یہ ہی پہچان ہے میری.
بدن آزاد ہے میرا یوں ہی دل شاد ہے میرا.
بہاریں اب بھی زندہ ہیں چمن آباد ہے میرا.
مری گودی میں گوہر ہیں دَھرا دھنوان ہے میری.
ترنگا شان ہے میری ترنگا جان ہے میری.
یہ ہی ارمان ہے میرا یہ ہی پہچان ہے میری.
یہیں گنگ و جمن میرے یہیں رادھا کِشن میرے.
یہی ہے رام کی دھرتی یہیں کِھلتے چمن میرے.
اِنھیں سے ہی جبینِ شوق اعلیِ شان ہے میری.
ترنگا شان ہے میری ترنگا جان ہے میری.
یہ ہی ارمان ہے میرا یہ ہی پہچان ہے میری.
ترنگا شان ہے میری ترنگا جان ہے میری.
یہ ہی ارمان ہے میرا یہ ہی پہچان ہے میری.
سرفراز حسین فراز پیپلسانہ مرادآباد یوپی الہند.
Comments
Post a Comment