افسانہ: چرچا - تحریر: تحسینہ ماوینکٹی - مہمان لیکچرر، شعبۂ اردو، گورنمنٹ کالج برائے خواتین، چنتامنی، ضلع چکبلاپور (کرناٹک)
افسانہ: چرچا -
تحریر: تحسینہ ماوینکٹی -
مہمان لیکچرر، شعبۂ اردو، گورنمنٹ کالج برائے خواتین، چنتامنی، ضلع چکبلاپور (کرناٹک)
شہر کی ہر گلی، ہر نکڑ اور ہر محفل میں آج کل ایک ہی موضوعِ گفتگو تھا۔ کوئی حقیقت جانتا تھا، کوئی افواہوں کو سچ بنا کر پیش کر رہا تھا، اور کوئی اپنی طرف سے نئی نئی کہانیاں گھڑ کر دوسروں کو سنا رہا تھا۔ عجیب بات یہ تھی کہ جس شخصیت کا چرچا ہو رہا تھا، وہ خود خاموش تھی۔
عائشہ ایک عام سی لڑکی تھی۔ نہ وہ دولت مند تھی، نہ کسی بڑے خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ اس کی پہچان صرف اس کا کردار، اس کی محنت اور اس کی خودداری تھی۔ وہ ایک سرکاری کالج میں تدریسی فرائض انجام دیتی تھی اور شام کو ضرورت مند بچیوں کو مفت تعلیم دیتی تھی۔ اس نے کبھی شہرت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی، مگر شاید اچھے کردار کی خوشبو کو چھپایا نہیں جا سکتا۔
شروع میں لوگ اس کی تعریف کرتے تھے، پھر وہی تعریف حسد میں بدل گئی۔ بات صرف زبانی افواہوں تک محدود نہ رہی، بلکہ ایک دن حد ہی ہو گئی۔ کالج کے نوٹس بورڈ اور سوشل میڈیا کے چند مقامی گروپس میں ایک گمنام خط گردش کرنے لگا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عائشہ کو ملنے والے ایک تعلیمی فنڈ میں بڑی مالی بدعنوانی ہوئی ہے اور وہ یہ سب کچھ اپنے ذاتی مفاد اور شہرت کے لیے کر رہی ہے۔
ادھر کسی نے کہا کہ اس نے سفارش کے ذریعے ترقی حاصل کی ہے، تو کسی نے الزام لگایا کہ وہ طالبات میں اپنی مقبولیت بڑھانے کے لیے یہ سب کر رہی ہے۔ جھوٹ اس تیزی سے پھیل رہا تھا کہ سچ کو اپنی باری آنے میں وقت لگنے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کا نام ہر زبان پر چڑھ گیا۔ لوگ چائے کی دکانوں سے لے کر اساتذہ کے اسٹاف روم تک، اس کے کردار اور نیت پر کھل کر انگلیاں اٹھانے لگے۔
کالج کے پرنسپل نے معاملے کی مکمل جانچ کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی۔ کئی دنوں تک مالی ریکارڈ، بینک دستاویزات، فنڈ کی تفصیلات اور متعلقہ افراد کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ عائشہ نے کسی قسم کی صفائی پیش کرنے کے بجائے تمام ریکارڈ خاموشی سے کمیٹی کے حوالے کر دیا۔ اسے یقین تھا کہ سچ کو گواہوں کی ضرورت نہیں ہوتی، صرف وقت درکار ہوتا ہے۔
عائشہ نے ایک دن اپنی بوڑھی والدہ سے پوچھا:
"امّی! میں تو صرف بچیوں کا مستقبل سنوارنا چاہتی ہوں، آخر لوگ میرے بارے میں اتنی باتیں اور اتنے جھوٹ کیوں گھڑتے ہیں؟"
والدہ نے مسکراتے ہوئے کہا:
"بیٹی! لوگ ہمیشہ انہی درختوں پر پتھر مارتے ہیں جن پر پھل لگتے ہیں۔ سوکھے درختوں کی طرف کوئی نہیں دیکھتا۔"
یہ بات عائشہ کے دل میں اتر گئی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ صفائیاں دینے کے بجائے خاموشی سے اپنا کام جاری رکھے گی۔ وہ پہلے سے بھی زیادہ لگن کے ساتھ پڑھانے لگی۔ اس کی شاگردائیں امتحانات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے لگیں اور ان کے والدین کی دعائیں اس کا سب سے بڑا سرمایہ بن گئیں۔
چند ہفتوں بعد تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ منظرِ عام پر آئی۔ رپورٹ میں واضح طور پر لکھا تھا کہ مالی بدعنوانی کا کوئی ثبوت نہیں ملا، بلکہ تمام حسابات مکمل طور پر درست تھے۔ مزید یہ کہ گمنام خط ایک ایسے شخص نے تیار کیا تھا جو عائشہ کی بڑھتی ہوئی عزت اور مقبولیت سے حسد کرتا تھا۔ اس شخص کے خلاف کالج انتظامیہ نے قانونی کارروائی بھی شروع کر دی۔
یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ جن لوگوں نے بغیر تحقیق الزام لگائے تھے، وہ نظریں چرانے لگے۔ کچھ نے معذرت کی، کچھ خاموش رہے، اور کچھ اپنی ہی باتوں سے مکر گئے۔ مگر عائشہ نے کسی سے شکوہ نہ کیا۔ اس کے چہرے پر وہی سکون تھا جو صرف سچائی کے ساتھ جینے والوں کو نصیب ہوتا ہے۔
چند برس بعد اسی شہر میں ایک تعلیمی تقریب منعقد ہوئی۔ اسٹیج پر عائشہ کو "بہترین سماجی خدمت" کے اعزاز سے نوازا گیا۔ ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ پہلی صف میں وہی لوگ بھی بیٹھے تھے جو کبھی اس کے خلاف افواہیں پھیلا رہے تھے۔ آج ان کے چہروں پر خاموشی اور شرمندگی تھی، جبکہ عائشہ کے چہرے پر اطمینان اور وقار جھلک رہا تھا۔
اپنی مختصر تقریر میں اس نے صرف اتنا کہا:
"چرچا انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا، لیکن کردار ضرور اس کے اختیار میں ہوتا ہے۔ اگر نیت صاف ہو تو وقت ہر جھوٹ اور ہر الزام کا جواب خود دے دیتا ہے۔"
اس دن شہر میں پھر اس کا چرچا تھا، مگر اس بار فرق یہ تھا کہ زبانوں پر افواہیں نہیں، بلکہ احترام تھا۔ لوگوں نے محسوس کیا کہ شہرت انسان کو بڑا نہیں بناتی، بلکہ کردار انسان کو وہ مقام عطا کرتا ہے جہاں الزام خود شرمندہ ہو جاتے ہیں اور سچ ہمیشہ سرخرو ہو کر سامنے آتا ہے۔
ماشا ء اللہ بہت خوب۔۔۔۔
ReplyDelete