صرف ڈگری ہی نہیں قابلیت بھی درکار ہے - تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی۔


صرف ڈگری ہی نہیں قابلیت بھی درکار ہے
 تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی۔
 9881836729

 ایک مشہور اردو کہاوت اور ضرب المثل ہے کہ کم علم ناداں ظرف سے خالی لوگ زیادہ شور مچاتے ہیں,جبکہ باصلاحیت اور علم والے لوگ سنجیدہ اور پرسکون ہوتے ہیں۔ جو چیز جتنی خالی ہوتی ہے ,اتنی ہی زیادہ آواز کرتی ہے۔ اور جس میں جتنا ظرف ,قابلیت ,استعداد,اور علم ہوتا ہے ,اتنا ہی خاموش اور نفع رسانی کا ذریعہ ہوتا ہے۔ ایک شعر ہے جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے۔ کہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکوت جس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی ہے وہ خاموش چناں چہ علم کا حصول ایک فریضہ ہے اور کتمان علم یعنی اپنے علم کو اپنے ہی حد تک محدود رکھنا ,اور اپنے علم کی ضیاء پاشی لوگوں میں نہیں کرنا گناہ کے مترادف ہے ۔علم کے حاصل کرنے کاحکم سب سے پہلے قرآن کریم میں اللہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ کو کیا۔ (اقرا ) یعنی پڑھو۔ علم جو خدا کی ایک عظیم نعمت ہے, ہمیں اس کی قدر کرنا چاہیے۔ اور قرآن ,اللہ ورسول کے پیغام کو سمجھنے اور عام کرنے کے لیے اپنی اولاد کو اردو تعلیم سے آراستہ کرنا چاہیے, جس سے وہ دین اسلام کی تعلیمات سے آراستہ اور قرآن فہمی سے روشناس ہوسکے۔ لیکن آجکل یہ دید کو ملتا ہے کہ ہمارے بہت سارے نوجوان اور ان کے والدین اپنے بچوں کو اردو ذریعہ تعلیم کے بجاے انگریزی تعلیم دلوانے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ جس کو جدید زبان میں ماڈرن تعلیم( Modren education)سے موسوم کیا جاتا ہے۔ جبکہ انہیں اس بات کی فکر کرنا چاہیے کہ ہماری مادری زبان اردو ہے,اور اور اردو میڈیم سے تعلیم دیں۔ اس سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اولا اسلامی علوم اور اسلامی لیٹریچر جو تقریبا اردو میں ہی موجود ہے۔ اور شاہد کوئ اور لٹریچر اتنی مقدار میں یافت نہیں ہے۔ ہم اگر اپنی قابلیت ،صلاحئت, استعداد اور تمام علوم پر عبور حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ذریعہ تعلیم اردو اپنانا ہوگا ۔ اس سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ دیگر زبانوں پر بھی عبور حاصل کرسکتے ہیں، جیسے انگلش ,مراٹھی, ہندی اور دیگر علوم و فنون کے حصول میں کافی مدد مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ آپ کو اسلامی لٹریچر ,اور قرآن کی تلاوت اور قرآن فہمی میں بہت حد تک مدد ملتی ہے ,جو ہمارا اولین اور مقصد حیات ہے۔ اگر ہم یہ جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ جو لوگ اہل ثروت ہیں, مالدار ہیں,ایسے والدین اپنی اولاد کو ذریعہ تعلیم انگلش منتخب کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچے انگریزی تعلیم حاصل کرکے اسلامی معلومات ,اور قرآن فہمی سے دور ہوتے ہیں۔ اوریہی نہیں بلکہ وہ انگریزی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی انگریزی زبان پر محارت حاصل نہیں کرتے ,جتنی صلاحیت یا عبور حاصل کرنا چاہیے ۔ یہ ایسا ہے جیسے ۔ نہ خدا ہی ملانہ وصال صنم نہ ادھر کے ہوے نہ ادھر کے آپ ہر علم و فن کا حصول کرسکتے ہیں ,اور کرنا بھی چاہیے ۔ جہاں ہم اردو کے فروغ اور ذریعہ تعلیم اردو کے استحکام کی بات کر رہے ہیں۔ بہت سارے اردو مدارس میں اردو اساتذہ کا املاء بھی درست نہیں ہے۔ پھر وہ طلباء کو کیسے درس وتدریس کرسکتے ہیں۔ قابلیت اور صلاحیت کی اشد ضرورت ہے۔ صرف ڈگری ہی نہیں۔ آج ہم کسی ماڈرن تعلیم یافتہ سے اسلامی معلومات پر گفت و شنید کریں تو وہ غسل اور وضو کے فرائض سے بھی ناآشنا ہوتا ہے۔ جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔ انسان ڈگری خرید سکتا ہے ,لیکن قابلیت ,اور صلاحیت خرید نہیں سکتا۔ بقول شاعر ۔ سچائ چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے کہ خوشبو آنہیں سکتی کاغذ کے کے پھولوں سے اردو زبان ہماری ایک شناخت اور پہچھان ہے, اردو ادب و تہذیب کا گہوارہ ہے۔ جس میں مذہب اسلام کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بہت سارے اسکالرس اور علماء کی اسلام پر مبنی کتب کا دیگر زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔ لیکن اردو میں جو تصانیف کا ذخیرہ ہے اس کے مطالعہ کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔ لیکن بقول شاعر کاغذ کی یہ مہک یہ نشہ روٹھنے کو ہے یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی۔ آج یہ حال ہے کہ قیمتی الماریوں کے صاف و شفاف گلاس سے کتب جھانکتی ہے,اور فریاد کرتی ہے کہ کوئ ہے جو ہمیں پڑھیں۔ اگرکتب بینی کا ذوق وشوق ماند پڑھ جاۓ تو صلاحیتوں میں کمی ہونا لازمی ہے, اگر استاذ طلباء کو درس دیتا ہے تو اسکو ضروری ہے کہ وہ تیاری کریں پھر درس دیں۔ گورنمینٹ کا قدم قابل ستائیش ہے کہ تعلیمی میدان میں عصری مدارس کے اساتذہ کا اہلیتی ٹیسٹ کوضروری قرار دیا ہے۔ اور یقینا گورنمینٹ کے اس لائحہ عمل سے باصلاحیت اساتذہ تیار ہوں گے۔ جو طلباء کو ڈگری کے ساتھ صلاحیتوں کی سوغات بھی دیں گے

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔