ایران کے معاملے کا سفارتی حل، مشرقِ وسطیٰ میں امن کا اعادہ: سعودی عرب اور فرانس کا مشترکہ بیان۔
کے این واصف : سعودی کراؤں پرنس محمد بن سلمان کا دورئے فرانس مملکت کے مفادات کے مشرقِ وسطیٰ میں قیام امن کی کوشش اہم موضوع کے طور پر دیکھا جارہاہے۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پیر کو پیرس کے ایلیسی پیلس میں فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں سے ملاقات کی ہے۔
ملاقات کے بعد جاری مشترکہ بیان میں فرانس اور سعودی عرب نے اسٹریٹیجک شراکت داری کا اعادہ کیا۔ دفاع، سرمایہ کاری، توانائی، مصنوعی ذہانت، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، ثقافت اور سیاحت میں تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔
ایران کے معاملے کے سفارتی حل، آبنائے ہرمز کے ذریعے کسی رکاوٹ کے بغیر جہاز رانی کی بحالی پر زور اور فلسطینی ریاست کی سپورٹ کا اعادہ کیا۔
دونوں ملکوں نے مشرق وسطی میں استحکام کے لیے ریاستی خود مختاری، بین الاقوامی قانون اور سفارتی حل کے احترام پر مبنی اپنے مشترکہ وژن پر زور دیا۔
بیان میں ایران کا ذکر نمایاں طور پر کیا گیا، پیرس اور ریاض نے مزید کشیدگی سے بچنے اور علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مذاکراتی حل پر زور دیا اور ایک ایسے سفارتی تصفیے کے لیے اپنی سپورٹ کا اعادہ کیا جو تہران کے جوہری پروگرام کی پرامن نوعیت کو یقینی بنائے۔ انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون دوبارہ شروع کرے۔
سعودی ولیِ عہد کے دورے کے دوران 22 سے زائد معاہدوں اور مفاہمت یادداشتتوں کا اعلان کیا گیا جس میں دفاع، ہیلتھ کیئر، اے آئی، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور تفریح سمیت کئی شعبوں کو کور کیا گیا ہے۔
قبل ازیں سعودی ولی عہد پیر کو ملاقات کے لیے ایلیسی پیلس پہنچے تو فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے ان کا خیر مقدم کیا۔
Comments
Post a Comment