صحابہ کرام واجب التعظیم- کسی بھی صحابی کی شان میں گستاخی و بے ادبی فرعون کی فرعونیت سے بڑھ کر ہے - حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات پر صحابہ کرام نے ہر وقت لبیک کہا-شاہی مسجد باغ عام میں خطبات سیرت سے مولانا حافظ احسن بن محمد الحمومی کا خطاب۔
حیدرآباد23 اگست( راست )مولانا ڈاکٹر حافظ احسن بن محمد الحمومی امام و خطیب شاہی مسجد باغ عام نام پلی حیدرآباد نے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں صحابہ نے اللہ اور رسول صلعم کے دشمنوں اور حدتو یہ کہ اپنے والدین سے بھی تعلق کو اہمیت نہیں دی صحابہ کرام نے حضور کی محبت میں ایمان نہ لانے والے اپنے والد اور بچوں سے بھی قطع تعلق کر لیا اور غزوات کے موقع پر وہ معاملہ کیا جو کسی دشمن سے کیا جاتا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے شاہی مسجد باغ عام نام پلی میں ہفتہ 22 اگست کو خطبات سیرت سے خطاب کرتے ہوئے کیا مولانا احسن الحمومی نےسلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہر صحابی رسول مکرم ومعظم ہیں صحابہ میں سے کسی بھی صحابی کی شان میں بے ادبی و گستاخی فرعون کی فرعونیت سے بڑھ کر ہے ہمیں چاہیے کہ ہم تمام صحابہ کرام کا دل و جان سے احترام کریں سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرام کے جان نثاری و فدایت کے مختلف واقعات سنائے اور کہا کہ جنگ بدر میں ایک صحابی کے جسم پر ضربات کے اتنے نشان تھے کہ نعش شناخت نہیں ہو پا رہی تھی صحابہ نے حضور سے اپنی سچی محبت اور اللہ کی خوشنودی کے لیے اس طرح کیا انہوں نے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ کا واقعہ سنایا اور کہا کہ اسکندریہ کے بادشاہ کو حضرت سعد بن عبادہ نے اسلام کی دعوت دی اور کہا کہ ہم روزانہ صبح کی نماز پڑھنے کے بعد شہادت کی دعا کرتے ہیں شہادت ہمارا خوف نہیں ہمارا شوق ہے مولانا نے کہا کہ صحابہ کرام ہر وقت حضور کرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے منتظر رہتے اور جو بھی حکم ملتا وہ فوری بجا لاتے تھے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر میں جا رہے تھے اس وقت گدھے کا گوشت کھانے کا رواج تھا دسترخوان پر گدھے کا گوشت تیار تھا لیکن حضور نے منادی کرائی کہ اللہ کی طرف سے حکم آیا ہے کہ گدھے کا گوشت حرام ہے سبھی نے اسی وقت اس گوشت سے ہاتھ اٹھا لیا کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اب کی بار کھا لیں اگے بعد میں احتیاط کریں گے ایسا نہیں کیا اطاعت رسول کے جذبے سے سرشار صحابہ کے واقعات سناتے ہوئے مولانا احسن بن محمد الحمومی نے مزید کہا کہ صحابہ کرام نے رشتہ داروں سے اپنی رشتہ داری کو بھی اس وقت توڑ لیا جب وہ رشتہ داریاں اللہ اور رسول کے احکام کے خلاف نظر آئیں صحابہ کرام نے ہمیشہ ایمان کو اہمیت دی رشتہ داری کی پرواہ نہیں کی حضرت مالک بن عمیررضہ سے مروی ایک واقعہ سناتے ہوئے مولانا نے کہا کہ ایک شخص آیا اور حضور سے کہا کہ دشمن کے لشکر میں میرا باپ بھی ہے میرے باپ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سخت بات کہی اور میں نے اپنے باپف کو نیزہ مار کر ہلاک کر دیا حضرت مصععب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ جو سب سے پہلے معلم تھے جنگ بدر ختم ہونے کے بعد قیدیوں میں حضرت مصعب کے بھائی بھی تھے مصعب بن عمیررضہ نے اپنے قیدی بھائی کے ساتھ بھی سخت رویہ اختیار کیا اور کہا کہ اس کی ماں دولت مند ہے میرے بھائی کے ہاتھ سختی سے باندھ دو اور جب اس کی ماں فدیہ دے تو پھر اس کو رہا کرنا چنانچہ مصعب بن عمیر کی ماں نے ساڑھے پانچ ہزار درہم دے کر اپنے بیٹے کو رہا کروا لیا مصعب بن عمیر کے بھائی کو یہ توقع تھی کہ مصعب بن عمیر ان سے ہمدردانہ رویہ اختیار کریں گے لیکن مصعب بن عمیررضہ نے دین کی خاطر اپنے بھائی کے ساتھ بھی کوئی ہمدردانہ رویہ اختیار نہیں کیا غزوہ تبوک کے حالات بیان کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ غزوہ تبوک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے آخری ایام میں پیش آیا اور روم کے بادشاہ نے اس وقت اعلان کیا تھا کہ وہ ایک لاکھ لوگوں کو لے کر مدینے والوں پر حملہ آور ہوگا روم کا بادشاہ سپر پاور طاقت رکھتا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر سب نے جنگ کی تیاری کی 30 ہزار صحابہ کا لشکر تیار ہوا جانا بہت دور تھا دھوپ کی شدت تھی قحط سالی کا بھی دورچل رہا تھا تھا اس موقع پر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ نے اس جنگ کے لیے اپنی طرف سے 100 اونٹ دینے کا اعلان کیا انہوں نے پھر 100 اونٹ اور پھر 100 اونٹ اس طرح سے جملہ 300 اونٹ سواری کے بطور استعمال کرنے کے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ نے اس جنگ کے لیے کیا دیا ہے تو حضرت ابوبکر صدیق نے فرمایا کہ میں نے اپنے گھر میں اللہ اور اللہ کے رسول کو چھوڑ آیا ہوں مطلب یہ تھا کہ جتنا مال و دولت تھا سب آپ کی خدمت میں پیش کر دیا ہوں ایک صحابی نےسوچا کہ جنگ تبوک کے لیے میں کیا کر سکتا ہوں وہ بہت غریب تھے انہوں نے محنت کر کے کچھ کھجوریں جمع کیں اور روتے روتے انتہائی عاجزی اور انکساری کے ساتھ حضور کے دربار میں پہنچے کیونکہ سب نے اس جنگ کے لیے کافی مال و دولت پیش کیا تھا اور ان کے پاس صرف چند کھجوریں تھیں اور اپنے پاس کچھ خاص دولت نہ ہونے پر وہ شرمندہ تھے کانپتے ہوئے اپنے ہاتھوں سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجوریں پیش کیں اور کہا کہ میرے پاس یہی کچھ ہے حضور نے کھجوروں کے اس تحفے کو بخوشی قبول کیااللہ تعالی نے اس منظر کو قرآن میں بھی بیان کیا مولانا نے کہا کہ خواتین نے بھی اسلام کے فروغ میں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں بے مثال قربانیاں انجام دی ہیں مولانا احسن بن محمد الحمومی نے کہا کہ حضرت انس بن مالک نے بتایا کہ جس وقت شراب حرام نہیں ہوئی تھی ایک محفل میں شراب کا دور چل رہا تھا میں بچہ تھا بڑے بڑے لوگ انگور کی شراب پی رہے تھے اچانک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک منادی نے ا کر آواز لگائی کہ شراب حرام قرار دی گئی ہے یہ وہ شراب تھی جو عرب صدیوں سے پیتے آرہے تھے شراب کی تعریف میں قصیدے لکھے جاتے تھے لیکن جیسے ہی معلوم ہوا کہ شراب حرام قرار دی گئی ہے تو جس کے سامنے شراب رکھی ہوئی تھی انہوں نے شراب سے فورا اپنا ہاتھ اٹھا لیا اور ساری شراب بہا دی یہ بہت قیمتی شراب تھی لوگوں نے شراب کی قیمت کو نہیں دیکھا ساری شراب بہا دی کہتے ہیں کہ مدینے کی گلیوں میں شراب بڑی مقدار میں بہتی دکھائی دی کسی نے یہ نہیں سوچا کہ شراب کی حرمت کا حکم تو اب آیا ہے ایک وقت پی لیں گے کچھ دیر بعد یا کل سے شراب نہیں پیئیں گے ایسا نہیں کیا بلکہ جیسے ہی حکم ملا کہ شراب حرام قرار دے دی گئی ہے تو سب نے فوری طور پر شراب سے ہاتھ روک لیا مولانا نے عامتہ المسلمین کو تلقین کی کہ وہ حضور کی محبت اور عشق سے زبانی دعووں کے بجائے عملی طور پر اظہار کریں اور جو کام حضور صلعم نے ہمیں کرنے کے لیے کہا ہے وہی کام کریں
Comments
Post a Comment