ہم نشیں ویلفیئر فاؤنڈیشن، بھیونڈی کے زیرِ اہتمام شاکر ادیبی کی یاد میں شاندار شعری نشست، شعراء و ادباء نے خراجِ عقیدت پیش کیا۔
بھیونڈی (راست) ہم نشیں ویلفیئر فاؤنڈیشن، بھیونڈی کے زیرِ اہتمام ممتاز شاعر و ادیب مرحوم شاکر ادیبی کی یاد میں ایک باوقار شعری نشست 1 اگست بروز سنیچر، صنوبر ہال میں منعقد ہوئی، جس میں شہر اور اطراف کے معروف شعراء، ادباء اور ادب نواز حضرات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ یہ نشست مرحوم شاکر ادیبی کی ادبی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور ان کی یاد کو تازہ کرنے کے لیے منعقد کی گئی۔
پروگرام کی صدارت معروف ادیب و شاعر محمد رفیع انصاری صاحب نے فرمائی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے مرحوم شاکر ادیبی کی شخصیت اور فن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شاکر ادیبی نے اپنی شاعری اور ادبی خدمات کے ذریعے اردو ادب میں ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ ان کی تخلیقات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
اس موقع پر امیر حمزہ ثاقب، شکیل احمد شکیل اور عبداللطیف بابا نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے مرحوم کی ادبی، سماجی اور اخلاقی خدمات کو بھرپور انداز میں یاد کیا۔ مقررین نے کہا کہ شاکر ادیبی نہ صرف ایک بہترین شاعر تھے بلکہ نوجوان قلم کاروں کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ ان کی سادگی، خلوص اور محبت آج بھی اہلِ ادب کے دلوں میں زندہ ہے۔
اس کے بعد شعری نشست کا آغاز ہوا، جس میں عین الدین عازم، امتیاز راہی، تجمل حسین زاہد، شہزاد حسین شہزاد اور ریاض عاصی نے اپنے خوبصورت کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ جسے حاضرین نے بے حد پسند کیا اور بھرپور داد سے نوازا۔
پروگرام کی نظامت سرفراز مرمکر نے اپنے منفرد اور شستہ انداز میں انجام دی۔ انہوں نے نشست کو نہایت خوش اسلوبی سے آگے بڑھاتے ہوئے مرحوم شاکر ادیبی کی ادبی زندگی کے مختلف پہلوؤں کا بھی تذکرہ کیا۔
آخر میں جنید شیخ نے اظہارِ تشکر پیش کرتے ہوئے تمام مہمانانِ گرامی، شعراء، مقررین، شرکاء اور ہم نشیں ویلفیئر فاؤنڈیشن کی پوری ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ آئندہ بھی اردو زبان و ادب کے فروغ اور اہلِ قلم کی خدمات کے اعتراف کے لیے ایسے معیاری ادبی پروگرام منعقد کرتا رہے گا۔
Comments
Post a Comment