امہات المؤمنینؓ کی سیرت و کردار امتِ مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ ہے: مولانا مفتی محمد مجیب خان نقشبندی کاخطاب
بیدر 24 اگست (نامہ نگار) امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کی پاکیزہ سیرت و کردار امتِ مسلمہ، بالخصوص خواتین کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ قرآنِ مجید نے ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کو ’’امہات المؤمنین‘‘ کا اعزاز عطا فرمایا، اس لیے ان کی عزت و توقیر ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار حضرت علامہ مولانا مفتی محمد مجیب خان نقشبندی، کامل جامعہ نظامیہ، ناظم جامعہ طیبہ حیدرآباد نے نبی خانہ مبارک بیدر میں ڈاکٹر الحاج سید حسام الدین قادری عزیر، صدر قاضی بیدر کی نگرانی میں منعقدہ نویں محفلِ میلاد النبی ﷺ میں ’’سیرت ازواجِ مطہرات و عصرِ حاضر کے مسائل‘‘ کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ قرآنِ مجید نے مردوں اور عورتوں دونوں کے حقوق و ذمہ داریوں کو واضح کیا ہے اور ہر ایک کے لیے اس کے اعمال کے مطابق اجر رکھا ہے۔ سورۃ النساء عورتوں کے مقام و حقوق کی اہمیت واضح کرتی ہے۔ مردوں کو خاندان کی کفالت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جبکہ عورت کو بھی اپنی مخصوص ذمہ داریوں اور فضیلتوں سے نوازا گیا ہے۔ قرآنِ کریم نے شوہروں کو حکم دیا کہ عورتوں کے ساتھ بھلائی اور حسنِ معاشرت سے زندگی گزارو۔ اس لیے میاں بیوی کے درمیان محبت، احترام، نرمی اور خیرخواہی کا ماحول قائم رہنا چاہیے۔ مفتی محمد مجیب خان نقشبندی نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہا تمام اہلِ ایمان کی مائیں ہیں۔ حضرت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا، حضرت سودہ رضی اللہ عنہا، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا، حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا، حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا اور دیگر ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہا نے دینِ اسلام کے لیے بے مثال خدمات انجام دیں۔ حضرت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سیرت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپؓ کی زندگی میں شوہر کے ساتھ محبت، اعتماد، حوصلہ افزائی اور مشکل وقت میں تسلی دینے کا بے مثال نمونہ ملتا ہے۔ پہلی وحی کے بعد جب حضور اکرم ﷺ گھر تشریف لائے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو تسلی دی اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل بھروسے کا اظہار کیا۔ آپؓ نے حضور ﷺ کی سخاوت، صلہ رحمی، مہمان نوازی اور غریبوں کی مدد جیسی صفات بیان کرتے ہوئے یقین دلایا کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو کبھی رسوا نہیں فرمائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے گھروں کے لیے اس میں یہ سبق ہے کہ شوہر کی تھکن اور مسائل کو سمجھا جائے، محبت و تسلی کے کلمات کہے جائیں اور گھر کو سکون کا مرکز بنایا جائے، جبکہ مرد بھی اپنی بیوی کے جذبات اور ذمہ داریوں کا احساس کرے۔ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے ذکر میں انہوں نے کہا کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے وصال کے بعد حضور اکرم ﷺ غمگین رہنے لگے۔ حضرت خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا نے نکاح کے بارے میں عرض کیا، چنانچہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے اپنی زندگی سے ایثار، وفاداری اور گھریلو ذمہ داری کی عظیم مثال قائم کی۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے علمی مقام کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپؓ علم و فقہ میں بلند مقام رکھتی تھیں اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم قرآن و حدیث کے مسائل میں آپؓ سے رجوع کرتے تھے۔ آپؓ احادیث روایت کرنے کے ساتھ ان کے مفہوم کی قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت بھی فرماتیں۔ اس سے خواتین کے لیے دینی علم حاصل کرنے کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ آج ہماری ماؤں اور بہنوں کو قرآن، حدیث، سیرتِ رسول ﷺ اور امہات المؤمنینؓ کی زندگیوں کا علم حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ دینی تعلیم گھر اور نسلوں کی اصلاح کا ذریعہ بنتی ہے۔ گھریلو تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آج معمولی باتوں پر گھروں میں جھگڑے، تلخ کلامی، گالی گلوچ اور بے ادبی بڑھتی جارہی ہے، جس کے منفی اثرات بچوں کی تربیت پر بھی پڑتے ہیں۔ اسلام نے میاں بیوی دونوں کو حسنِ سلوک، احترام اور محبت کا درس دیا ہے۔ گھر کا سکون صرف ایک فریق کی ذمہ داری نہیں بلکہ شوہر اور بیوی دونوں کو اپنے کردار سے ماحول خوشگوار بنانا چاہیے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گھر کے ماحول کو خوشگوار رکھنے اور والدِ گرامی حضور اکرم ﷺ کے چہرۂ انور پر مسکراہٹ لانے کے لیے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی محبت و خدمت بے مثال تھی۔ اس سے سبق ملتا ہے کہ گھر میں محبت بھری باتیں بھی خوشگوار ماحول پیدا کرتی ہیں۔ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو ’’ام المساکین‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا اور سخاوت آپؓ کی نمایاں صفت تھی۔ ’’لمبے ہاتھ‘‘ سے مراد آپؓ کی کثرتِ صدقہ و خیرات تھی۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی ہجرت، صبر و استقامت اور دین کے لیے قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپؓ نے مشکل حالات برداشت کیے اور دینی تعلیمات کی امت تک منتقلی میں اہم کردار ادا کیا۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو بھی قرآنِ مجید کے تحریری نسخوں کی حفاظت کا شرف حاصل ہوا اور آپؓ علم و دینی شعور میں ممتاز تھیں۔مولانا نے کہا کہ ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کی سیرت ہماری عملی زندگی کی رہنمائی کا خزانہ ہے۔ ان پاکیزہ ہستیوں نے گھریلو زندگی، صبر، سخاوت، علم، عبادت، ہجرت، قربانی اور دین کی خدمت کے ایسے نمونے پیش کیے جو قیامت تک امتِ مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ رہیں گے۔ اگر ہم اپنے گھروں میں محبت، احترام، دینی تعلیم، حسنِ اخلاق اور سیرتِ رسول ﷺ و امہات المؤمنینؓ کو زندہ کریں تو بہت سے گھریلو اور معاشرتی مسائل ختم ہوسکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سیرت کے واقعات سننے تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کے کردار کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔ آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کی سیرت پر عمل اور قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
Comments
Post a Comment