آزادی کی صبح درخشاں - (گزشتہ سے پیوستہ) - بقلم : محمد ناظم ملی، جامعہ اکلکواں ۔
آزادی کی صبح درخشاں -
(گزشتہ سے پیوستہ) -
بقلم : محمد ناظم ملی،
جامعہ اکلکواں ۔
ارباب نظر یہ خبر کر دو سارے جہان کو
کہ پست سے بالا کر دے ہر کوئی اپنے وجدان کو
میرا ملک بھارت قدرت کی صناعی کا ایک اعلی شاہکار ہے قدرت نے اس کو ایک عجیب البیلا پن دے رکھا ہے یہاں کی مٹی پوتر पवित्र اور پاکیزہ مٹی ہے یہاں دلوں میں پیار چہروں پہ مسکان اور خیالات میں بہتری اور محبت کی چاشنی ہے میرا ملک ہندوستان, خدا کی بے شمار اور عظیم نعمتوں کا مظہر ہے یہاں کہیں گنگناتی ابشاریں ہیں تو کہیں نیلے پانی کی شفاف جھیلیں ہیں کہیں سبز لحاف میں ڈھکی فلک شگاف پہاڑوں کی جنت نظیر وادیاں ہیں باد و بہارہ سے رقص کرتی بہاریں ہیں مظاہر فطرت سے معمور نظارے ہیں میں اپنی اس دھرتی धरतीکو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتا ہوں۔ ع
چمک رہا ہے جہان میں تیرے فن کی طرح
نہیں ہے کوئی چمن میرے وطن کی طرح
اج میں جذبہ حب الوطنی کا ارتعاش پیدا کر کے اور ان کی فکر و نظر کے تاریک دریچوں میں اپنے افکار و جذبات میں شمع فروزاں کر کے بقعہ نور بنانا چاہتا ہوں۔ سنیے گا ! میں کیا کہنا چاہتا ہوں ۔
میں چاہتا ہوں کہ 15 اگست اج کے اس مہان महान اور پوتر पवित्रدن کے اوسر अवसरپر جو ہمارے لیے ہر سال ایک خوشیوں بھرے دن کی حیثیت سے اتا رہتا ہے یقینا یہ دن ہندوستان کی تاریخ میں ایک تاریخی دن ہے کہ اسی مبارک دن میں ہندوستان کو غلام انگریزوں کے چنگل سے نجات ملی تھی اور ہندوستان ایک ازاد स्वतंत्र ملک بنا تھا یہاں میں ان لوگوں سے یہ پوچھنا چاہوں گا ! کہ کیا کبھی ہم نے تنہائی میں بیٹھ کر یہ سوچا ہے کہ ہمارے ان بزرگوں نے ان مہان ہستیوں महान हस्तियां نے اپنی جان و مال اور عزت و ابرو کو داؤ پر لگا کر اس ملک کو ازاد کرایا تھا ان قربانی आहुतियां دینے والے اور ملک کے خاطر سب کچھ لٹا دینے کے جذبات رکھنے والے اور لٹا دینے والے لوگوں نے کن بنیادوں کے اور مقاصد کے سبب یہ قربانیاں आहुतियां دی تھیں شاید میں سمجھتا ہوں اس طرح سوچ رکھنے والے بہت کم افراد ہوں گے جنہوں نے یوم ازادی स्वतंत्रता दिवस کی حقیقت کو صرف ازاد ہونے تک ہی محدود رکھا اور انہوں نے اس کے پیچھے زندگیاں لگا دینے والوں کے جذبات کو نہیں سمجھا
یہ سچائی ہے کہ یوم ازادی स्वतंत्रता दिवस اتا ہے اور چلا جاتا ہے لوگ قومی و ملی ترانے سنتے ہیں ہندوستان کی تعریف اور اس کی منقبت اور اس کی وشال विशालता اور مہان महान सभ्यताओं سبیہتاؤں کو یاد کرتے ہیں سنتے ہیں ۔ اور خوشی میں جھوم جاتے ہیں اوراسی خوشی میں ازادی स्वतंत्रता کے تقاضے اور ازادی کے مقاصد پس پشت ڈال کر کھوکھلے نعروں میں مست ہو جاتے ہیں۔ درحقیقت یوم ازادی یہ عہد وفا کا دن ہے وہ عہد جو ہمارے ان مہان بزرگوں महान पुरुषों نے سوچا تھا اور تمام باشندگان ہند نے ساتھ مل کر کیا تھا ازادی کا عین مقصد تھا ہماری گنگا جمنی تہذیب गंगा जमुनी तहजीबکو پروان چڑھانا
یہاں میں اس بات کا اظہار کر دوں کہ صدیوں سے ہندوستان قائم ہیں قائم تھا اور قائم رہے گا دو صدیوں کی غلامی ہماری سبھیتا सभ्यता ہماری پرمپراوں परंपराओं اور ہماری روایات اور گنگا چمنی تہذیب اور انیکتا میں ایکتا अनेकता में एकताکو نہیں بدل سکی ہمارے جذبہ حب الوطنی میں کوئی دراڑیں نہ ڈال سکی مگر میں بڑے ہی افسوس سے کہنا چاہوں گا
وطن تو ازاد ہو چکا غلام ہے دماغ و دل اب بھی
پیے ہوئے ہیں شراب غفلت یہاں یہ عام و خواص اب بھی
غلط ہے تیرا یہ نعرہ ساقی بدل چکا ہے نظام محفل
وہی شکستہ سی بو تلیں ہیں وہی شکستہ ہے جام اب بھی
میں ایک بار پھر اپنی بات کو دہراؤں گا اج ملک بھر میں یوم ازادی منایا جا رہا ہے اور منایا جانا چاہیے ہر طرف خوشیاں ہیں جلسے ہیں جلوس ہیں جھنڈے ہیں نعرے ہیں تقریریں ہیں ثقافتی وہ تہذیبی پروگرام منعقد ہو رہے ہیں مگر اے جشن ازادی منانے والوں ! کیا تم جانتے بھی ہو اس ملک کی حریت و ازادی کے لیے کتنی ماؤں کے لخت جگر کٹ گئے کتنی ہی عصمتیں لٹ گئیں اور خون کے کتنے ہی دریا بھر گئے ارزوں کے کتنے ہی محل جل گئے اے ازادی کے شادیانوں پر جھومنے والو کیا تم جانتے بھی ہو کہ ازادی کیا ہے ؟کیا ازادی یہ ہے کہ ہم جو چاہیں کریں جیسا چاہے کرے جس کو چاہے ستائیں جس کو چاہے قید و بند اور محبوس کر دے اپنی ماں بہن کا فرق مٹا دے عریانیت کو عام کر دے بے حیائی کے لیے قوانین مرتب کریں ناچے گائے ادھم مچائے نہ ہم کو ہماری تہذیب کا پاس و لحاظ ہو نہ ہم کو ہمارے اس پیارے وطن کی تہذیب و تمدن اور اس کی روایات قدیمہ کا کوئی خیال نہ ہو کیا ازادی یہ ہے کہ ہم جوا شراب اور جسم کو نقصان دینے والے نشیلے नशीले खान पान کھان پان کا سیون सेवन کرتے رہے نقصان دینے والی چیزوں کا کھلے عام استعمال کرے
اگر ازادی یہی ہے تو پھر سن لیجئے کہ یہ ازادی ہمیں انگریزوں کے دور میں بھی تو حاصل تھی وہاں بے پردگی سود خوری شراب خوری زنا کاری لوٹ کھسوٹ بدمعاشی کی ازادی تھی تو پھر کیوں ہم نے لاکھوں بچے قتل کر کے ہزاروں بیٹیوں کا سہاگ اجاڑ کے ہزاروں ماؤں کی گود کو خالی کر کے کیا اسی لیے ہم نے ازادی حاصل کی تھی ؟ کیا ہم انسانوں کی غلامی سے ازاد ہو گئے تو اپنے اللہ اپنے ایشور ईश्वर اپنے بھگوان भगवान کی غلامی کا طوق اپنے گلے میں نہ ڈالے! ذرا سوچیے کیا یہ مقصد ازادی پورا ہو گیا؟ کیا ہم ازاد ہو چکے ہیں. ذرا تصورات سے نکل کر حقائق کی دنیا میں قدم رکھیں اس وقت ہم بڑے بھیانک دور سے گزر رہے ہیں ایسے دور سے جس نے میرے پیارے وطن کی ازادی کی ساخت ہی بدل کر رکھ دی ہے ازادی ہم نے اس لیے حاصل کی تھی کہ ہم ایجوکیشن educationاور تعلیم میں بہت اگے رہیں گے ترقی کی دوڑ میں ہم پیچھے نہیں رہیں گے اور اج میں فخر محسوس کرتا ہوں کہ ہم ترقی کے راستے پر ضرور گامزن ہے لیکن صرف اتنا ہی نہیں ہم کو بھارت کو ایک وکست دیش विकसित देश ایک مہان ملک महान धरतीاور دنیا میں اس کی ایک پہچان بنانی ہے اس کے لیے ہمارے پاس کیا اپائے उपाय ہو سکتے ہیں ہم کیا کر سکتے ہیں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہم اپنے اس پیارے وطن ہندوستان کی روایات کو گنگا جمنی تہذیب गंगा जमुनी तहजीब کو یہاں کی پرم پراہوں परंपराओंکو مٹنے نہ دے اسے سنبھال کر رکھیں اور یہی خواب تھے ہمارے ازادی دلانے والے ویر جوانوں वीर जवानों کے ع
مل ہی جاتی کہیں ان خوابوں کی تعبیر کبھی
تیرے وہ خواب مگر ہم سے سنبھالے نہ گئے
ازادی کے 76 برسوں میں جو چیز ہمارے لیے باعث تشویش بنتی جا رہی ہے وہ یہ ہے کہ جنگ ازادی کے جتنے ہیروز heroes تھے ان سے ان کی عقل و دانائی سے ان کی فہم و فراست سے ہم دور ہوتے جا رہے ہیں یا ہم کو دور کیا جا رہا ہے یہی گنگا جمنی تہذیب गंगा जमुना तहजीब جس کے سبب سے ہمیں ازادی ملی دوسرے لفظوں میں ہم اس کو یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ برسہا برس سے قائم ہندو مسلم اتحاد हिंदू मुस्लिम एकता کی بدولت ہمیں یہ ازادی स्वतंत्रता نصیب ہوئی اسی اتحاد و اتفاق اور انیکتا میں ایکتا अनेकता में एकताاور گنگا جمنی تہذیب गंगा जमुनी तहजीब کے چلتے ہم نے اج تک ملک کو ترقی کی طرف گامزن کیا ہوا ہے اور ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ یہ ترقی کے بام عروج پر پہنچے اور میرا ملک دنیا کی سب سے بڑی مملکت विशाल धरती اور دنیا کا سب سے مضبوط ترین ملک بنے اس کے لیے میں کیا کر سکتا ہوں ہم کیا کر سکتے ہیں ہر ایک کی یہی سوچ اور فکر ہونا چاہیے
میں پورے جذبہ حب الوطنی اور پورے وثوق سے کہنا چاہوں گا کہ انگریز اپنی پوری طاقت جھونک دینے کے باوجود ناکام ہوئے اور ہر ہندوستانی نے جس طرح اس وقت ان کا مقابلہ کیا تھا اج پھر ہر ہندوستانی सच्चे ह भारतीय नागरिक اور سچے ہندوستانی کو اپنے ملک देश اپنے وطن اور اپنے ترنگے तिरंगेکے لیے یہ خیال رکھنا چاہیے کہ وہ جان کا سودا تو کر سکتا ہے مگر اپنے وطن کی گنگا جمنی تہذیب کو مٹنے نہیں دے گا دنیا میں ابھی کوئی طاقت ایسی وجود میں نہیں ائی جو ہندوستان کو مٹا دے یا ہندوستان پر دوبارہ قبضہ کر لے مگر چشم فلک نے دنیا کے اسی اسٹیج stage پر بڑے بڑے ممالک کو سہمتے ہوئے اور دولخت ہوتے ہوئے دیکھا ہے ان کی اس ہزیمت اور شکست کے پیچھے بڑے بڑے راز ہیں اور ان میں سب سے بڑا راز ان کا اپس میں انتشار اور متحد نہ ہونا ہے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میرا یہ وطن اسلاف کی قربانیوں اور لازوال قربانیوں کا مظہر ہے جس طرح ہم نے کل اپنے ہندو مسلم اتحاد हिंदू मुस्लिम एकताاور گنگا جمنی تہذیب गंगा जमुना सभ्यता کی بنیادوں پر انگریزوں کو شکست دی تھی میرا یقین ہے اج بھی ہم انہی پرمپراؤں परंपराओं کو انہی روایات کو گلے لگا کر اپنے اس ملک کو مہان महानاور وشال विशाल بنا سکتے ہیں پھر سے ہم کو دنیا کے سامنے سامراجی साम्राज्य اور طاغوتی طاقتوں کے سامنے یہ نعرہ لگانا ہوگا۔
ہندو مسلم اتحاد زندہ باد۔ گنگا جمنی تہذیب زندہ باد ہندوستان زندہ باد ع
بغیر اس کے کہاں ممکن تھی شناخت میری
میرا وطن میرے شجرہ نسب کی طرح ہے
Comments
Post a Comment