حصولِ آزادی کاروشن باب : زمانہ ساز اقوال و اشعار - ڈاکٹر ثناء اللہ شریف، بنگلور۔
حصولِ آزادی کاروشن باب : زمانہ ساز اقوال و اشعار -
ڈاکٹر ثناء اللہ شریف، بنگلور۔
موبائل: 9341854740
ماہِ اگست کی آمد پر برصغیر میں بابِ وطن اور بہادر شخصیات کا ولولہ، عزم اور مضبوط قوتِ ارادی وطنِ عزیز سے فروغ و شادمانی کا تذکرہ کرتا ہے۔ راہِ آزادی کے شہیدوں کی یاد آتی ہے، جنہوں نے مادرِ وطن ہندوستان کی آزادی کے لیے اپنے لہو سے جاں نثاریاں رقم کیں۔
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
وقت آنے دے بتادیں گے تجھے ایسے آسمان
ہم ابھی سے کیا بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے
بسمل عظیم آبادی
15 اگست کو ملک عزیز کے کونے کونے، چپے چپے، ذرے ذرے، پتے پتے، بوٹے بوئے گلی گلی کوچہ کوچہ، اسکول کا لجس اور ہر رہ گز ر اور چوراہوں پر یہ مترنم صدا سے ہمارا دل گونج اٹھتا ہے۔
سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی، یہ گلستاں ہمارا
مذہب نہیں سکھاتاآپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہیں یہ گلستاں ہمارا
علامہ اقبال
وطن پر جب بھی مصیبت کے بادل منڈلاتے ہیں تو شمعِ آزادی کے پروانے جاں پر کھیل جاتے ہیں۔
وطن کی فکر کرناداں مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
نہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
شیر میسور حضرت ٹیپو سلطان شہید، سلاطین و حکمرانوں میں وہ ممتاز نام ہے جنہوں نے قابض انگریزوں کے خلاف صف آراء ہو کر اس سرزمین پر اپنا مقدس خون بہایا اور اس کے ذروں کو منور کرتے ہوئے یہ پیغام دیا ’’گیدڑ کی صد سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے‘‘۔
مولانا حسرت موہانی، مجاہد آزادی اور اْردو کے مقبول شاعر و صحافی ، سودیشی تحریک کی رہبری کرنے والے اولین مسلم لیڈر جنہوں نے مسلمانوں کو دلیرانہ سیاست کا پیغام دیا۔ یہ نعرہ آج بھی ہر موقع پر استعمال ہوتا ہے’’ انقلاب زندہ باد‘‘
اور ان کا یہ شعر زبانِ خاص و عام ہے:
ہے مشقِ سخن جاری چکی کی مشقت بھی
ایک طرفہ تماشاہے حسرت کی طبیعت بھی
قومی پرچم کو سلامی دینا، جئے ہند کہنا، قومی ترانہ گانا ، ایک دوسرے کو سلام کرنا تینوں لازم و ملزوم ہیں۔ اس کے ذریعہ سے ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرنا ہوتا ہے تا کہ ان کے جذبات و احساسات پروان چڑھے۔ آج بھی یہ نعرہ زمانہ ساز ہے اور ہر موقع پر استعمال ہوتا ہے۔ اس کو میجر عابد حسین زعفرانی نے پیش کیا۔ یہ نعرہ جئے ہند دل و دماغ پر وجد طاری کرتا ہے۔
قومی پرچم :۔ کسی بھی ملک کا پرچم اس قوم کیلئے محض ایک کپڑے کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ یہ اس آزاد قوم کی عظیم روایات، عظمت، سرفرازی دسر بلندی کا معیار ہوتا ہے۔ شناخت اور Identity ہوتاہے۔ جس سے اس قوم کی آزادی، اتحاد و اتفاق ، قومی یک جہتی اور عظمت جیسے اوصاف نمایاں ہوتے ہیں۔ جب تک اس کا پرچم بلند رہتا ہے اس وقت تک وہ قوم دنیا میں ہے اسی وقت تک وہ قوم دنیا نہیں ناکامی ، ذلت و شکست سے ہمکنار نہیں ہوتی۔ قومی پرچم کو بدرالدین طیب جی I.C.S نے ڈیزائن کیا۔ ہندوستان کی آزادی کی تاریخی رات کو ملک کے اولین وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے اس کو لہرایا۔
’’بھارت چھوڑو ‘‘کا نعرہ پیش کرنے والے یوسف مہر علی ہیں۔ 18 اگست کو کانگریس پارٹی ممبئی اجلاس میں مولانا ابوالکلام آزاد کی صدارت میں اور یوسف مہر علی کے نعرے بھارت چھوڑو Quit India Moment تحریک کا بگل بجایا تو اس میں بلا تفریق مذہب وملت معاشرے کے ہر طبقے نے خصوصا خواتین نے بڑے پیمانے پر حصہ لیا جس میں پردہ نشین خواتین بھی شامل تھیں۔ ان جانباز خواتین نے تمام تکالیف کو ہنستے ہنستے برداشت کیا مگر دل میں جل رہے حب الوطنی کے چراغ کو بجھنے نہیں دیا۔
مولانا محمد علی جوہر :- اسلام کے تابندہ جو ہر اور شعر و ادب کے ماہر تھے مولانا محمد علی جوہر۔ سیاسی رہنماؤں میں آپ کا مقام نہایت اعلیٰ تھا۔ شعلہ بیان مقرر، ہمہ گیر شخصیت کے مالک ہمدرد اور کامریڈ کے ایڈیٹر تھے۔ آپ کی والدہ ماجدہ کے یہ بول نہایت دلیرانہ اور عزم وحوصلے کا باعث بنے۔
بولی بی اماں محمد علی کی جان بیٹا خلافت پر دے دو
ساتھ تیرے ہیں شوکت علی بھی جان بیٹا خلافت پر دے دو
بوڑھی ماں کا کچھ غم نہ کرنا کلمہ پڑھ کر خلافت پر مرنا
محمد علی جو ہر 1935ء میں پہلی گول میز کانفرنس میں (انگریزوں کے سامنے) جس جوش و جذبے سے بھر پور تقریر کی کہ آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے اور یہ الفاظ آج جس مقصد کے لئے میں یہاں آیا ہوں ، وہ یہی ہے کہ میں اپنے ملک کو ایسی حالت میں جاؤں جب کہ آزادی کا پروانہ میرے ہاتھ میں ہو۔ میں ایک غلام ملک کو واپس نہیں جاؤں گا۔ ایک غیر ملک ہی سہی جب کہ وہ آزاد ہے مرنے کو ترجیح دوں گا اور اگر آپ مجھے ہندوستان کو آزادی نہیں دیں گے تو پھر آپ کو یہاں مجھے قبر کیلئے جگہ دینی پڑے گی۔
The Proclamation of Freedom“The Proclamation of Freedom, Should be given in any hands or you ought to give the place for a Grave.”
مولانا جو ہر اور دیگر احباب اکثر وقت جیل میں گزارتے، برٹش حکومت نے معذرت نامہ لکھنے کے لئے کہا۔ ہر طرح کا لالچ دیا۔ سنگ و آہن جیسے عزائم کو سیم وزر کے انبار بھی خرید نہ سکے۔ بقول شاعر
کسی کے خوف سے لکھے نہ گئے معذرت نامے
پڑا جو وقت تو سولی پر چڑھ گئے ہم لوگ
علمائے کرام :- علمائے کرام نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتوی دیا تو انہیں واپس لینے کے لئے دباؤ ڈالا گیا، کالا پانی کی سزائیں دی گئیں۔ قید و بند کی صعوبتوں سے آزمایا۔ خون کے دریا بہائے گئے۔ جائیدادیں ضبط کی گئیں لیکن علمائے کرام نے پوری ثابت قدمی اور استقلال سے کہا : ’’اپنے خون کا آخری قطرہ تک ملک کے لئے بہادیں گے لیکن فتوی نہیں بدلیں گے‘‘۔
شعرائے کرام ، صحافیوں، سیاسی رہنماؤں اور صاحب غیرت مسلمانوں پر انگریز پولیس نے فائرنگ کی۔ کبھی پر لیس ضبط کئے گئے ، اخبار جلا دئے اور جیل کی اذیتوں اور مصیبتوں میں بھی جتلا کیا گیا لیکن انھوں نے عزم وحوصلے کا ثبوت دیتے ہوئے کہا ہے
متاعِ لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے
کہ خون دل میں ڈبولی ہیں انگلیاں میں نے
زباں پہ مہر لگی ہے تو کیا کہ رکھ دی ہے
ہریک حلقہء زنجیر میں زباں میں نے
فیض احمد فیض
مولانا ابوالکلام آزاد : مولانا ابوالکلام آزاد تحریک آزادی کے قد آور مسلم رہنما ہی نہیں بلکہ کانگریس کے صدر بھی رہے۔ ماہر تعلیم ، شعلہ بیان مقرر، الہلال والبلاغ کے مدیر نے اپنے قول و عمل سے واضح کیا۔
دل اسیری میں بھی آزاد ہے آزادوں کا
ولولوں کے لئے ممکن نہیں زنداں ہوتا
عمر عزیز کا قیمتی وقت قید و بند میں گزرا۔ پریشان حال مسلمانوں کی رہنمائی کرتے ہوئے کہا کہ فرار کی زندگی جو تم نے ہجرت کے مقدس نام سے اختیار کی ہے، اس پر غور کرو، اپنے دلوں کو مضبوط بنالو، اپنے دماغوں پر زور ڈالو تمہارے یہ فیصلے کتنے عاجلانہ ہیں ، آخر کہاں جارہے ہو، کیوں جارہے ہو؟ تمہارے وہ اسلاف تھے جو سمندروں میں اتر گئے۔ پہاڑوں کی چھاتیوں کو روند ڈالا۔ بجلیاں آئیں ، ان سے مسکراتے بادل گرجے تو قہقہوں سے جواب دیا۔
آزاد نے مسلمانوں کو عزت دشان سے سر اٹھا کر جینے کا حوصلہ دیا کہا کہ مسلمان اور بزدلی ایک ساتھ جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔ آؤ عہد کریں، یہ ملک ہمارا ہے ہم اس کے لئے ہیں۔ اور اسکی تقدیر کے فیصلے ہماری آواز کے بنا ادھورے ہیں۔ عزیز وہ آج زلزلوں سے ڈرتے ہو بھی تم خود ایک زلزلہ تھے۔
اردو زبان :- یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اردو زبان نے حصول ِ آزادی میں مجاہدانہ رول ادلا کیا۔ اسی لئے تو کہا جاتا ہے کہ ہر موقع پر مسلمان اور اردو زبان دونوں جنگ آزادی میں برابر کے شریک رہے ہیں، لیکن یہ ایک المیہ ہے کہ آج دونوں کی خدمات کو فراموش کیا جا رہا ہے۔ اردو زبان کی اولوالعزم و سرفروشانہ جدو جہد ، اس کے نعرہ مستانہ، اس کے جوش جنوں ، حب الوطنی سے لبریز ومست بے خود کر دینے والے آہنی عزم کے ترجمان ترانے اور قومی یکجہتی کے نغموں کو یکسرنظرانداز کر دیا گیا ہے اور تو اور اس کے شجرئہ نسب پر بھی داغ لگایاجارہاہے۔ اسی لئے مجبوراً شاعر کو کہنا پڑا۔
جب پڑا وقت گلستان پر تو خوں ہم نے دیا
جب بہار آئی تو کہتے ہیں ترا کام نہیں
٭٭٭
Comments
Post a Comment