بیدر کے میر - مظہر محی الدین۔
بیدر کے میر -
مظہر محی الدین۔
سفید چمکدار چہرہ، گھنی بارعب بلیک اینڈ وائٹ داڑھی، بھاری بھرکم جسم اور چال ڈھال سے بزرگی نمایاں، یہ ہیں جناب یوسف عبدالرحیم المعروف میر بیدری، جنہیں دیکھنے والا پہلی ہی نظر میں متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ جب انہیں خاموش بیٹھے کوئی دیکھے تو یہ کہہ اٹھے کہ یہ پتلون اور شرٹ میں ملبوس کوئی صوفی بزرگ تشریف فرما ہیں، لیکن یہ سکوت تو بس ایک سراب ہو تا ہے جسے دیکھ کر آدمی تھوڑا سا کنفیوژن کا شکار ہو جاتا ہے۔ ان سے گفتگو کرناکسی اہم مہم جوئی سے کم نہیں— وہ ہمیشہ اپنی بات کا آغاز بہت ہی دھیمی اور مدہم آواز میں کرتے ہیں، بالکل ایسے جیسے کوئی لوری سنا رہا ہو لیکن جیسے جیسے وہ اپنی بات کی گہرائی میں اترتے ہیں دیکھتے ہی دیکھتے ان کا لہجہ بدل جاتا ہے اور آواز دھیمی حد سے نکل کر بلند و بالا ہو جاتی ہے اور چہرہ ان الفاظ کی عکاسی کر رہا ہوتا ہے جو وہ بیان کر رہے ہیں۔ سامع نے اپنی رائے دینے کے لیے ادھر منہ کھولا نہیں کہ ادھر ان کے الفاظ کا سیلاب سامع کی آواز کو بہا لے جائے گا. لفظوں پر اجارہ داری اور موڈ کے رنگ میر بیدری کا خاصہ ہیں۔ اس پر مستزاد ان کا بدلتا ہوا موڈ ہوتا ہے۔ ایک لمحے حد خوش مزاج اور اگلے ہی لمحے شدید برہم. ان کا موڈ کس کروٹ بیٹھے گا اس کا اندازہ لگانا اتنا ہی مشکل ہے جتنا کہ یہ کہنا کہ ایران اور امریکہ کب دوست بنیں گے۔
لیکن اس تنک مزاجی اور غصے کے پیچھے ایک بے حد ملنسار اور مخلص انسان چھپا ہوا ہے۔ دل کے مریض ہیں لیکن دل کے برے نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر محفل میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ اردو ادب کے بے لوث خادم، اردو اور دکنی زبان کے شاعر اور بے باک و نڈر صحافی ہیں۔ مقامی مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں اور ان کا حل بھی اربابِ حل و عقد سے تجویز کرتے ہیں۔
جب سے سعودی سے واپس آئے ہیں تب سے اردو ادب کی خدمت کو حرزِ جاں بنائے ہوئے ہیں. خود بھی اس کے لیے کوشاں اور بیدر کے ادباء اور شعرا کو بھی فعال کر رکھا ہے۔ اپنی صحافتی مصروفیات سے وقت نکال کر روزانہ شاعری اور افسانچہ نگاری میں بھی جم کرقلم گھستے ہیں. روزانہ جب تک ایک دو غزلیں اور دو چار افسانچے لکھ نہیں لیتے نیند آنکھوں سے روٹھی ہی رہتی ہے۔
ادب اور ادبی شخصیات سے ان کا لگاؤ جنون کی حد تک ہے تا ہم اردو میں تخلیق کردہ ان کےاشعار اور غزلیں ایک عام قاری کے سر کے اوپر سے ایسے ہی گزرتی ہیں جیسے کرکٹ میں باؤنسر گیند بیٹس مین کے سر کے اوپر سے گزرتی ہے۔ محفل میں جب اپنی غزل سنا رہے ہوتے ہیں تو سامعین داد تو دیتے ہیں مگر دل ہی دل میں مانو یہ کہہ رہے ہوں کہ "یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے"۔
ادھر کچھ دنوں سے دکنی زبان میں شاعری کی طرف متوجہ سے ہو گئے ہیں— گویا کہ حضرت سلیمان خطیب کی رحلت سے پیدا شدہ خلا کو پُر کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ میر بیدری کی دکنی شاعری روایتی دکنی (جو علاقہ حیدرآباد کرناٹک کے دیسی علاقوں میں آج بھی بکثرت بولی جاتی ہے) اس کے الفاظ کم اور وہ دکنی زبان جو علاقہ بمبئی کرناٹک مثلاً بیجاپور اور باگل کوٹ وغیرہ میں بولی جانے والی زبان کے الفاظ زیادہ ہیں۔ بہرحال دکنی زبان میں ان کی شاعری اپنے اندر ایک دلکشی اورجاذبیت ضرور رکھتی ہے۔
Comments
Post a Comment