رب کی بندگی میں انسان کی عزت،عظمت اور سربلندی کا راز - از قلم : ڈاکٹر محمد عبدالسمیع ندوی۔ (اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد)
رب کی بندگی میں انسان کی عزت،عظمت اور سربلندی کا راز -
از قلم: ڈاکٹر محمد عبدالسمیع ندوی۔
(اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد)
موبائل نمبر 9325217306
انسان ہمیشہ سے عزت، وقار، عظمت اور سربلندی کا متلاشی رہا ہے۔ ہر دور میں انسان نے عزت حاصل کرنے کے مختلف پیمانے قائم کئے۔ کسی نے دولت کو معیار بنایا، کسی نے اقتدار کو، کسی نے شہرت کو اور کسی نے خاندانی وجاہت کو۔ لیکن اسلام نے عزت و سربلندی کا جو تصور پیش کیا ھے، وہ ان تمام دنیاوی پیمانوں سے بلند اور دائمی ھے۔ اسلام کے نزدیک انسان کی حقیقی عزت اس کے رب کی بندگی میں پوشیدہ ھے۔ یہی حقیقت ایک نہایت بلیغ اور روح پرور عربی عبارت میں نہایت جامع انداز میں بیان ہوئی ھے:
كفى بي عزًّا أن أكون لك عبدًا،
وكفى بي فخرًا أن تكون لي ربًّا،
أنت كما أحب،
فاجعلني كما تحب.
ترجمہ: "میرے لئے عزت کے لئے یہی کافی ھے کہ میں تیرا بندہ ہوں، اور میرے لئے فخر کے لئے یہی کافی ھے کہ تو میرا رب ھے۔ اے اللہ! تو ویسا ہی ہے جیسا میں تجھے پسند کرتا ہوں، پس مجھے بھی ویسا بنا دے جیسا تو پسند کرتا ھے۔"
یہ مختصر سی دعا درحقیقت بندگی، معرفت، محبت، توکل، اخلاص اور خود احتسابی کا ایسا جامع درس ھے جس میں ایک مومن کی پوری زندگی کا فلسفہ سمٹ آیا ھے۔
سب سے پہلے بندہ یہ اعتراف کرتا ھے کہ اس کی اصل عزت اللہ کی بندگی میں ھے۔ قرآن مجید نے اسی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا ھے:
﴿وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ﴾
"عزت تو صرف اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان ہی کے لئے ھے۔"
یہ آیت واضح کرتی ھے کہ جو عزت اللہ سے وابستہ نہیں، وہ عارضی اور فانی ھے۔ مال ختم ہو سکتا ھے، اقتدار چھن سکتا ھے، شہرت ماند پڑ سکتی ھے، لیکن اللہ کی بندگی سے حاصل ہونے والی عزت نہ دنیا میں زائل ہوتی ہے اور نہ آخرت میں۔
اسلام کا تصورِ بندگی انسان کو ہر قسم کی غلامی سے آزاد کرتا ھے۔ جو شخص اللہ کا بندہ بن جاتا ہے، وہ نفس کی غلامی، خواہشات کی اسیری، دولت کی محبت، اقتدار کے نشے اور لوگوں کی خوشنودی کی زنجیروں سے آزاد ہو جاتا ھے۔ اس کی پیشانی صرف اپنے رب کے سامنے جھکتی ھے، اسی لیے دنیا کی کوئی طاقت اسے ذلیل نہیں کر سکتی۔ حضرت عمر بن خطابؓ کا وہ تاریخی جملہ آج بھی رہنمائی کرتا ھے: "ہم وہ قوم ہیں جسے اللہ نے اسلام کے ذریعے عزت عطا کی، لہٰذا اگر ہم عزت کسی اور چیز میں تلاش کریں گے تو اللہ ہمیں ذلیل کر دے گا۔"
عبارت کا دوسرا جملہ بندے کے ایمان کی معراج ھے:
"وكفى بي فخرًا أن تكون لي ربًّا"
یعنی "میرے لئے فخر کی بات یہی کافی ھے کہ تو میرا رب ھے۔"
دنیا میں لوگ بڑے خاندانوں، بااثر شخصیات اور طاقتور حکومتوں سے اپنی نسبت پر فخر کرتے ہیں، لیکن ایک مومن کا سب سے بڑا فخر یہ ہے کہ اس کا رب وہ اللہ ھے جو زمین و آسمان کا خالق، تمام جہانوں کا مالک، رحمن، رحیم، غفور، کریم اور حکیم ھے۔ جس رب کی رحمت کی کوئی انتہا نہیں، جس کے خزانے کبھی ختم نہیں ہوتے، جس کی قدرت ہر چیز پر محیط ھے، اس کی ربوبیت سے بڑھ کر کوئی نسبت قابلِ فخر نہیں ہو سکتی۔
اس کے بعد بندہ کہتا ھے:
"أنت كما أحب"
یعنی "اے اللہ! تو ویسا ہی ہے جیسا میں تجھے پسند کرتا ہوں۔"
اس جملے میں بندے کا حسنِ ظن نمایاں ہوتا ھے۔ وہ اپنے رب کو رحمت، مغفرت، کرم، عفو، شفقت اور محبت کا سرچشمہ سمجھتا ھے۔ وہ یقین رکھتا ھے کہ اللہ اپنے بندوں پر ستر ماؤں سے زیادہ مہربان ھے، ان کی توبہ قبول کرتا ھے، ان کی لغزشوں کو معاف فرماتا ھے اور ہر حال میں ان کے لئے خیر ہی چاہتا ھے۔
لیکن اس دعا کا سب سے بلند اور انقلابی حصہ آخری جملہ ھے:
"فاجعلني كما تحب"
"اے اللہ! مجھے بھی ویسا بنا دے جیسا تو پسند کرتا ھے۔"
یہ الفاظ بندگی کی معراج ہیں۔ عام طور پر انسان یہ دعا کرتا ھے کہ اللہ اس کی خواہشیں پوری کر دے، لیکن یہاں بندہ اپنی خواہشات کو اللہ کی رضا کے تابع کر دیتا ھے۔ گویا وہ عرض کرتا ہے کہ اے رب! میری پسند نہیں، تیری پسند میری زندگی کا معیار بن جائے۔ میرے اخلاق، میرا کردار، میری سوچ، میری عبادت، میرے معاملات، میری گفتگو اور میری پوری زندگی تیری رضا کے مطابق ہو جائے۔
آج کا انسان دوسروں کی نظروں میں بڑا بننے کی فکر میں مبتلا ھے۔ سوشل میڈیا کی مقبولیت، دنیاوی کامیابی، ظاہری شخصیت اور وقتی تعریف کو عزت کا معیار سمجھ لیا گیا ھے، جبکہ اسلام انسان کو یہ تعلیم دیتا ھے کہ اگر تم اللہ کی نگاہ میں محبوب بن گئے تو دنیا کی عزت خود تمہارے قدم چومے گی۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾
"بلاشبہ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ھے جو سب سے زیادہ متقی ھے۔"
یہی وجہ ھے کہ تاریخِ اسلام کے وہ عظیم انسان جن کے پاس نہ سلطنت تھی، نہ دولت اور نہ ظاہری وسائل، آج بھی دنیا ان کا نام ادب و احترام سے لیتی ھے، کیونکہ ان کی عزت کا سرچشمہ اللہ کی بندگی تھی۔
ضرورت اس بات کی ھے کہ ہم اپنی زندگی کا رخ دنیا کی عارضی کامیابیوں سے ہٹا کر اللہ کی رضا کی طرف موڑیں۔ اگر ہم اپنے گھروں، اپنے کاروبار، اپنی ملازمت، اپنی تعلیم، اپنی سیاست اور اپنے سماجی معاملات میں اللہ کے احکام کو مقدم کر لیں تو ہماری انفرادی زندگی بھی سنور جائے گی اور ہمارا اجتماعی وجود بھی عزت و وقار کا آئینہ دار بن جائے گا۔
آئیے! ہم اس دعا کو صرف زبان پر نہ رکھیں بلکہ اپنی زندگی کا شعار بنائیں:
كفى بي عزًّا أن أكون لك عبدًا،
وكفى بي فخرًا أن تكون لي ربًّا،
أنت كما أحب،
فاجعلني كما تحب.
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی حقیقی بندگی نصیب فرمائیے، اپنے بارے میں حسنِ ظن عطا فرمائیے، اپنی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق بخشئے اور دنیا و آخرت کی حقیقی عزت و سربلندی سے سرفراز فرمائیے۔ آمین۔
Comments
Post a Comment