لفظ "امتحان" - از قلم: تحسینہ ماوینکٹی۔ (مہمان لیکچرر شعبۂ اردو گورنمنٹ کالج برائے خواتین چنتامنی چکبلاپور ضلع کرناٹک۔)
لفظ "امتحان" -
از قلم: تحسینہ ماوینکٹی۔
(مہمان لیکچرر شعبۂ اردو گورنمنٹ کالج برائے خواتین چنتامنی چکبلاپور ضلع کرناٹک۔)
انسانی زندگی اگر ایک سفر ہے تو اس سفر کا دوسرا نام امتحان ہے۔ انسان کی پیدائش سے لے کر آخری سانس تک ہر موڑ پر اسے کسی نہ کسی آزمائش، تجربے اور امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔ اسی لیے لفظ "امتحان" محض تعلیمی نظام تک محدود نہیں بلکہ یہ پوری زندگی کی حقیقت، انسان کی شخصیت کی تعمیر اور اس کے کردار کی کسوٹی کا نام ہے۔
لغوی اعتبار سے "امتحان" عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں: آزمانا، پرکھنا، جانچنا اور کسی چیز کی حقیقت معلوم کرنا۔ اردو زبان میں یہ لفظ نہایت وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ امتحان صرف سوال و جواب کا پرچہ نہیں بلکہ انسان کے صبر، برداشت، دیانت، محبت، وفاداری، علم، عقل اور کردار کو جانچنے کا ذریعہ بھی ہے۔
ہر طالب علم کے ذہن میں لفظ "امتحان" آتے ہی کتابیں، سوالات، جوابی پرچے، نتائج اور مستقبل کی فکر گردش کرنے لگتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تعلیمی امتحان زندگی کے بڑے امتحانات کی صرف ایک جھلک ہے۔ اصل امتحان تو اس وقت ہوتا ہے جب انسان کو حق اور باطل میں انتخاب کرنا پڑے، سچ بولنے یا جھوٹ کا سہارا لینے کا موقع آئے، امانت اور خیانت میں فیصلہ کرنا ہو یا مشکل حالات میں صبر کا دامن تھامنا پڑے۔
اسلامی تعلیمات میں بھی امتحان کو زندگی کا بنیادی اصول قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کو خوشی، غم، صحت، بیماری، دولت، تنگ دستی، کامیابی اور ناکامی ہر صورت میں آزماتا ہے تاکہ اس کے ایمان، صبر اور شکر کی حقیقت ظاہر ہو۔ اس لیے ایک مومن کے نزدیک ہر حالت امتحان ہے؛ نعمت بھی امتحان اور مصیبت بھی امتحان۔
تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے تمام بڑے انسان امتحانات سے گزر کر ہی عظمت کی منزل تک پہنچے۔ انبیائے کرامؑ کی زندگیاں مسلسل آزمائشوں سے عبارت ہیں۔ علماء، ادباء، سائنس دانوں، مفکرین اور رہنماؤں نے بھی مشکلات اور ناکامیوں کا سامنا کیا، مگر انہی امتحانات نے انہیں تاریخ کا روشن باب بنا دیا۔
امتحان کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ یہ انسان کو اپنی کمزوریوں سے آگاہ کرتا ہے۔ جب کوئی طالب علم امتحان میں ناکام ہوتا ہے تو وہ اپنی خامیوں پر غور کرتا ہے اور مزید محنت کے ساتھ دوبارہ کوشش کرتا ہے۔ اسی طرح زندگی کی ناکامیاں بھی انسان کو بہتر انسان بننے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں امتحان کو خوف، دباؤ اور پریشانی کی علامت بنا دیا گیا ہے۔ بہت سے طلبہ امتحان کے نام سے ہی ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ غیر ضروری مقابلہ بازی، والدین اور معاشرے کی بے جا توقعات اور نمبروں کو قابلیت کا واحد معیار سمجھنا ہے۔ حالانکہ امتحان کا اصل مقصد انسان کی استعداد، محنت اور فکری صلاحیت کو جانچنا ہے، نہ کہ اسے خوفزدہ کرنا۔
زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہر امتحان وقتی ہوتا ہے، لیکن اس سے حاصل ہونے والا تجربہ دائمی سرمایہ بن جاتا ہے۔ کامیابی انسان کو خوشی دیتی ہے جبکہ ناکامی اسے سبق دیتی ہے، اور یہی سبق آئندہ کامیابی کی بنیاد بنتا ہے۔
لفظ "امتحان" اپنے اندر ایک امید بھی رکھتا ہے، کیونکہ ہر امتحان کے بعد ایک نیا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ جو لوگ ہمت، صبر اور مسلسل جدوجہد کے ساتھ اپنے امتحانات کا سامنا کرتے ہیں، وہی مستقبل میں کامیابی اور عزت حاصل کرتے ہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ امتحان زندگی کی ناگزیر حقیقت ہے۔ اس سے فرار ممکن نہیں، البتہ اس کا سامنا حوصلے، محنت، دیانت اور اعتماد کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ جو شخص امتحان کو سزا نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع سمجھتا ہے، وہی حقیقی کامیابی کا مستحق بنتا ہے۔ انسان کی اصل پہچان اس کے امتحانات سے نہیں بلکہ ان امتحانات میں اختیار کیے گئے اس کے کردار سے ہوتی ہے۔
Comments
Post a Comment