ہم جیسے ہیں، کیوں ہیں؟ - ( کالم )۔ از قلم : رہبر تماپوری
ہم جیسے ہیں، کیوں ہیں؟ -
( کالم )
از قلم : رہبر تماپوری -
مہمان معلم، جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم
جامعہ نگر، تماپور، تعلقہ شوراپور، ضلع یادگیر، ریاستِ کرناٹک
رابطہ: 8431012141
ہم اکثر دوسروں کے رویوں، معاشرتی بگاڑ اور حالات کے بدلتے رخ پر بحث کرتے ہیں، مگر شاید ہی کبھی ٹھہر کر اپنے وجود، اپنی سوچ پر غور کرتے ہیں۔ ہم جیسے ہیں، آخر ویسے کیوں ہیں؟ یہ سوال بظاہر سادہ، مگر خود احتسابی کی گہری دعوت ہے۔
جس طرح ایک مضبوط عمارت کا دارومدار اس کی بنیاد پر ہوتا ہے، اسی طرح انسان کی شخصیت بھی اچانک وجود میں نہیں آتی۔ اس کی بنیاد بچپن کے نازک دور میں رکھی جاتی ہے۔ بچپن کے نقوش وقت کے ساتھ شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تعلیم اور تربیت کا فرق واضح ہوتا ہے۔ تعلیم علم حاصل کرنے کا نام ہے، جبکہ تربیت اس علم کو کردار میں ڈھالنے کا عمل ہے۔ بچپن میں اتاری گئی باتیں عمر بھر رویے اور مزاج پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
تربیت صرف گھر تک محدود نہیں رہتی۔ والدین، اساتذہ، دوست اور ماحول شخصیت کی تشکیل کرتے ہیں۔ کہاوت ہے کہ کوئلے کی دکان پر جاؤ گے تو ہاتھ کالے ہونے کا اندیشہ رہے گا، اور عطر فروش کے پاس بیٹھو گے تو خوشبو تمہارے دامن سے بھی مہکے گی۔ بچپن کے خیالات آگے چل کر رویے بن جاتے ہیں۔
شخصیت کی تعمیر میں چار بنیادی عناصر اہم کردار ادا کرتے ہیں: تربیت، ماحول، تجربات اور فکر و فہم۔ انسان کی گفتگو اور برتاؤ انہی کا آئینہ دار ہوتے ہیں۔ مگر انسانی فطرت کا عجیب تضاد یہ ہے کہ وہ دوسروں کو بدلنا چاہتا ہے، خود کو نہیں۔ یہی ’’میں‘‘ اور ’’انا‘‘ ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ اسی کیفیت میں میرا شعر یاد آتا ہے:
ساری بستی جل رہی تھی، رہبر!
خود کو خود سے جلانا بھول گئے کیا؟
— رہبر تماپوری
دوسروں کے عیوب دیکھنا آسان ہے، مگر اپنی ذات کے اندھیرے میں خود شناسی کا چراغ جلانا اصل امتحان ہے۔ دوسروں کی کامیابیوں سے سیکھنا چاہیے، مگر اپنی قدر کا پیمانہ دوسروں کو نہیں بنانا چاہیے۔ حقیقی عزتِ نفس یہ ہے کہ ہم دوسروں کے جذبات اور وجود کا احترام کریں۔
انسان دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے، مگر کردار باقی رہتا ہے۔ لوگ عہدے سے زیادہ حسنِ سلوک اور کردار کو یاد رکھتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنے پیچھے کیا چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ تبدیلی ہمیشہ بڑے اقدام سے نہیں آتی۔ بہتا ہوا نل بند کر دینا یا راستے سے کسی مسافر کے لیے پتھر ہٹا دینا بھی زندہ ضمیر کی علامت ہے۔
’’ہم جیسے ہیں، کیوں ہیں؟‘‘ صرف شخصیت کے بننے کا سوال نہیں، بلکہ اسے بہتر بنانے کی ذمہ داری کا سوال بھی ہے۔ ماضی ہماری مکمل تقدیر نہیں۔ شعور، خود احتسابی اور ارادہ ہمیں بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ جب انسان ’’میں‘‘ کے دائرے سے نکل کر ’’ہم‘‘ کے اجتماعی شعور میں داخل ہوتا ہے تو اس کی ذات معاشرے کے لیے نفع بخش بن جاتی ہے۔ معاشرہ ہم سب کا مجموعہ ہے۔ اگر ہر شخص دوسروں کو بدلنے سے پہلے خود کو بہتر بنانے کا عزم کر لے، تو حقیقی تبدیلی کا آغاز وہیں سے ہوگا، معاشرہ بھی سنورے گا۔
Comments
Post a Comment