نبی کریم ﷺ کی وصال کے بعد تدفین تک کے اہم واقعات - ازقلم : کلیم اللہ امداد تیمی، (مسجد یعقوبیہ اہلحدیث، چینئی)
نبی کریم ﷺ کی وصال کے بعد تدفین تک کے اہم واقعات
از قلم : کلیم اللہ امداد تیمی،
(مسجد یعقوبیہ اہلحدیث، چینئی)
رسول اللہ ﷺ کی وفات امتِ مسلمہ کی تاریخ کا سب سے غم ناک واقعہ تھا۔ مدینہ منورہ کی فضا سوگوار تھی اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔ لیکن اس عظیم صدمے کے باوجود صحابۂ کرامؓ نے جس ذمہ داری، نظم و ضبط اور محبت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی تجہیز و تکفین کے مراحل انجام دیے، وہ سیرتِ نبوی ﷺ کا ایک نہایت سبق آموز باب ہے۔
آئیے، ترتیب وار جائزہ لیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد تدفین تک کون کون سے اہم مراحل پیش آئے۔
پیر کا دن: وفاتِ نبوی ﷺ :
رسول اللہ ﷺ نے 12 ربیع الاول سنہ 11 ہجری کو پیر کے دن وفات پائی۔ چاشت کا وقت تھا۔ آپ ﷺ کی وفات کی خبر پھیلتے ہی سارا عالم اسلام کانپ اٹھا۔ اہل مدینہ پر کوہ غم و الم ٹوٹ پڑا۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے یہ صدمہ اس لیے بھی غیر معمولی تھا کہ وہ جس محبوب ہستی ﷺ کے ارد گرد سایے کی طرح ساتھ رہتے تھے اور جن کے رخ انور کو دیکھ کر اپنے دل کو سکون پہنچاتے تھے اب وہ ان کے درمیان موجود نہ تھے۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ جس دن رسول اللہ ﷺ مدینہ میں تشریف لائے تھے، اس دن سے زیادہ روشن اور خوب صورت دن انہوں نے نہیں دیکھا تھا، اور جس دن آپ ﷺ کی وفات ہوئی، اس سے زیادہ تاریک اور غم ناک دن بھی نہیں دیکھا۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شدید صدمے کی وجہ سے وفاتِ نبوی ﷺ کو تسلیم نہیں کر پا رہے تھے۔ وہ لوگوں سے کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ وفات نہیں پا گئے، بلکہ اپنے رب کے پاس تشریف لے گئے ہیں، جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے غائب ہوئے تھے۔
اسی نازک وقت میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سنح سے تشریف لائے۔ وہ مسجد سے گزر کر حضرت عائشہؓ کے حجرے میں داخل ہوئے، رسول اللہ ﷺ کے چہرۂ انور سے کپڑا ہٹایا، آپ ﷺ کو بوسہ دیا اور روتے ہوئے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ آپ پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا؛ جو موت آپ کے لیے لکھی گئی تھی، وہ واقع ہوچکی۔
اس کے بعد حضرت ابوبکرؓ مسجد میں تشریف لائے اور لوگوں کو حقیقتِ حال سمجھائی۔ انہوں نے قرآنِ کریم کی یہ آیت تلاوت کی:
﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ﴾ یعنی محمد ﷺ صرف ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔
حضرت ابوبکرؓ کی یہ گفتگو سن کر صحابۂ کرامؓ پر حقیقت واضح ہوگئی اور حضرت عمرؓ نے بھی اعتراف کیا کہ جب انہوں نے ابوبکرؓ کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا تو ان کے قدم جواب دینے لگے اور انہیں یقین ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ واقعی وفات پاچکے ہیں۔ (الرحیق المختوم: 632)
پیر ہی کا دن: سقیفہ بنی ساعدہ :
رسول اللہ ﷺ کی وفات کے فوراً بعد مسلمانوں کی اجتماعی قیادت کا مسئلہ سامنےآگیا۔ بعض انصار و مہاجرین سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے اور اس معاملے پر مشورہ شروع کیا۔ یہاں تک کے اختلاف کی نوبت آگئی۔
جب حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر بن خطابؓ اور حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ کو اس اجتماع کی اطلاع ہوئی تو وہ سقیفہ بنی ساعدہ پہنچے۔ وہاں مہاجرین و انصار کے درمیان تفصیلی گفتگو ہوئی۔ حضرت ابوبکرؓ نے انصار کی قربانیوں اور اسلام کے لیے ان کی خدمات کو تسلیم کیا اور ساتھ ہی قریش کی قیادت کی حیثیت واضح کی۔
گفتگو کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ پر بیعت کی اور پھر دوسرے حاضرین نے بھی بیعت کی۔ یوں اس نازک موقع پر مسلمانوں کی اجتماعی قیادت کا مسئلہ طے ہوگیا۔
منگل: غسل اور کفن :
جب خلافت کے معاملے میں ابتدائی فیصلہ ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ کی تجہیز و تکفین کا مرحلہ آگے بڑھا۔ منگل کے دن آپ ﷺ کو غسل دیا گیا۔
غسلِ نبوی ﷺ کی سعادت حضرت علی رضی اللہ عنہ اور اہلِ بیت کے چند افراد کو حاصل ہوئی۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ،ان کے صاحبزادے فضل اور قثم رضی اللہ عنہما، حضرت اسامہ بن زید اور حضرت شقران رضی اللہ عنہم بھی اس خدمت میں شریک تھے۔ حضرت علیؓ غسل دیتے تھے اور دوسرے حضرات جسمِ مبارک کو سنبھالنے اور پانی ڈالنے میں معاون تھے۔
غسل کے بعد رسول اللہ ﷺ کو تین سفید یمنی کپڑوں میں کفن دیا گیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ کو تین سفید سحولی چادروں میں کفن دیا گیا، جن میں نہ قمیص تھی اور نہ عمامہ۔ (صحیح بخاری 1/169)
تدفین کہاں ہو؟
کفن کے بعد یہ سوال سامنے آیا کہ رسول اللہ ﷺ کو کہاں دفن کیا جائے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوئی یہ بات بیان کی کہ انبیائے کرام علیہم السلام جہاں وفات پاتے ہیں، وہیں دفن کیے جاتے ہیں۔
چنانچہ فیصلہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کو اسی حجرۂ مبارک میں دفن کیا جائے جہاں آپ ﷺ نے وفات پائی تھی۔ حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ نے قبر تیار کی اور اس میں لحد بنائی۔ (الرحيق المختوم:633)
نمازِ جنازہ کا منفرد طریقہ :
رسول اللہ ﷺ کی نمازِ جنازہ بھی انتہائی منفرد انداز میں ادا ہوئی۔ دس دس دس صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم باری باری حجرۂ مبارک میں داخل ہوتے اور آپ ﷺ پر نماز پڑھتے۔ کسی ایک صحابی کو امام بنا کر نماز نہیں پڑھائی گئی۔
سب سے پہلے آپ کے خانوادہ نے نماز ادا کی، پھر مہاجرین، انصار، خواتین اور بچوں نے باری باری نماز پڑھی۔ ہر شخص کے لیے یہ اپنے محبوب رسول ﷺ سے آخری ظاہری ملاقات تھی۔
یوں منگل کا پوار دن اسی غسل، کفن اور نمازِ جنازہ کے مراحل میں گزر گیا۔
بدھ کی رات: تدفینِ نبوی ﷺ :
جب منگل کا دن گزر گیا اور چہار شنبہ(بدھ) کی رات آگئی تو آپ کے جسم اطہر کو سپرد خاک کیا گیا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک روایت میں ہے کہ انہیں رسول اللہ ﷺ کی تدفین کا علم بدھ کی رات کے آخری حصے میں قبر کھودنے کے آلات کی آواز سے ہوا۔
(مختصر سیرۃ الرسول:471)
اس طرح پیر کے دن شروع ہونے والا یہ غم ناک مرحلہ منگل کے دن غسل، کفن اور نمازِ جنازہ کے مراحل سے گزرتا ہوا بدھ کی رات رسول اللہ ﷺ کی تدفین پر اختتام پذیر ہوا۔ آپ ﷺ اسی حجرۂ مبارک میں مدفون ہیں جہاں آپ ﷺ نے وفات پائی تھی، جو بعد میں مسجدِ نبوی ﷺ کا حصہ بن گیا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں رسول اللہ ﷺ سے سچی محبت، آپ ﷺ کی سنت کی پیروی اور آپ ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
وصلى الله وسلم على نبينا محمد ﷺ
Comments
Post a Comment