ایس آئی آر اور ووٹر لسٹ کی نظرثانی اور ہمارے کرنے کے کام - ازقلم : محمد یوسف کنّی۔
ایس آئی آر اور ووٹر لسٹ کی نظرثانی اور ہمارے کرنے کے کام -
ازقلم : محمد یوسف کنّی۔
ووٹر لسٹ کی نظرثانی ہر سال کی جاتی ہے۔ اس دوران ووٹر کی عمر، پتے اور جائے سکونت کی جانچ ہوتی ہے، انتقال کر جانے والوں کے نام حذف کیے جاتے ہیں اور 18 سال کی عمر مکمل کرنے والوں کے نام فہرست میں شامل کیے جاتے ہیں۔ ہر سال Intensive Revision بھی ہوتا رہا ہے اور اس معمول کے عمل پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔
جمہوریت کی خوب صورتی یہ ہے کہ ہر شہری کے ووٹ کی قدر یکساں ہے۔ آزادی کے بعد 1951 میں پہلی مرتبہ انتخابات کا نظام قائم ہوا اور آزاد ملک کے عوام کو پہلی بار ووٹ ڈالنے کا موقع ملا۔ دستورِ ہند کی دفعات 5 سے 12 میں شہریت سے متعلق امور کا ذکر موجود ہے۔ ووٹ کے سلسلے میں عوام کی رہنمائی کرنا اور آزادانہ و منصفانہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔
اس سے پہلے بھی Intensive Revision ہوتا رہا ہے، لیکن ایس آئی آر، یعنی Special Intensive Revision، کی موجودہ شکل اس سے مختلف ہے۔ آزادی کے بعد Citizenship Act 1955 بنایا گیا اور ووٹر لسٹیں مرتب کی گئیں۔ اس وقت ووٹرز کی مجموعی تعداد 17 کروڑ 32 لاکھ تھی۔
اس کے بعد معمول کے طریقۂ کار کے تحت 18 سال کی عمر مکمل کرنے والوں کے نام گھر گھر جاکر شامل کیے جاتے رہے اور انتقال کر جانے والوں کے نام فہرست سے حذف کیے جاتے رہے۔ یہ سلسلہ 2024 تک جاری رہا۔ 2024 کے عام انتخابات کے موقع پر تقریباً 96 کروڑ ووٹرز کی فہرست تیار ہوئی اور ان تمام اہل ووٹرز کو ووٹ دینے کا موقع ملا۔
جون 2025 میں آزاد ہندوستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ موجودہ نوعیت کا SIR متعارف کرایا گیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اچانک اس عمل کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ حکومت اور الیکشن کمیشن یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ اس سے پہلے بھی SIR ہوتا رہا ہے، لیکن موجودہ SIR کی نوعیت، شرائط اور طریقۂ کار سابقہ نظرثانی سے مختلف ہیں۔
سپریم کورٹ کے استفسار پر الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ بڑے پیمانے پر دراندازی ہوئی ہے، اس لیے ووٹر لسٹ میں شفافیت لانا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ ڈپلیکیٹ ووٹرز کی نشان دہی اور انتقال کر جانے والوں کے نام حذف کرنا بھی اس کارروائی کا مقصد بتایا گیا۔
لیکن جس دراندازی کو SIR کی بنیاد بنایا گیا، ابھی تک ایسے مبینہ دراندازوں کی مستند تعداد جاری نہیں کی گئی۔ اس لیے یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ 2019 میں این آر سی کی ناکامی کے بعد اب بیک ڈور سے اسی نوعیت کا عمل نافذ کیا جارہا ہے اور شہریوں کے جمہوری و قانونی حقوق سے ایک طرح کا کھلواڑ ہورہا ہے۔
دستاویزات کا مسئلہ
SIR کے لیے 12 دستاویزات طلب کی گئیں، لیکن ان میں آدھار کارڈ اور ووٹر شناختی کارڈ کو شامل نہیں کیا گیا۔ جن دستاویزات کو قابلِ قبول قرار دیا گیا، ان میں پاسپورٹ بھی شامل ہے، جبکہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ صرف 7.92 فیصد افراد کے پاس پاسپورٹ موجود ہے۔
ایک تجزیے کے مطابق طلب کی جانے والی دستاویزات صرف 36.5 فیصد لوگوں کے پاس موجود ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک کی بہت بڑی آبادی کے لیے ان شرائط کو پورا کرنا آسان نہیں ہوگا۔
اس کے باوجود، جب حکومت اور الیکشن کمیشن کو اپنے مطلوبہ نتائج حاصل ہوتے نظر نہیں آئے تو بنگال میں Logical Discrepancy کے نام سے ایک نیا App متعارف کرایا گیا۔ اس App کے ذریعے بنگال میں ایک کروڑ 35 لاکھ لوگوں کے نام حذف کردیے گئے۔
عوامی مخالفت کے بعد ایک عدالتی ٹریبونل قائم کیا گیا، جس سے 27 لاکھ لوگوں نے رجوع کیا، لیکن صرف 139 افراد کے معاملات کی سماعت ہوسکی۔ ابھی لاکھوں لوگ یہ جاننے اور انصاف حاصل کرنے کے منتظر ہیں کہ ان کے نام ووٹر لسٹ سے کیوں حذف کیے گئے۔ دیگر ریاستوں میں بھی اسی نوعیت کے مسائل سامنے آئے ہیں۔
SIR اور وسیع سیاسی منصوبہ
این آر سی کی ناکامی کے بعد ریاستوں کی سطح پر SIR کا نفاذ حکومت کے لیے ایک نیا حربہ بن گیا۔ خدشہ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے ذریعے اسے پورے ملک میں نافذ کرکے حکومت اپنے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانا چاہتی ہے۔
One Nation, One Election اور Delimitation کے ذریعے دستورِ ہند کے بنیادی سیاسی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں لانا اس وسیع منصوبے کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ شمالی ہندوستان میں پارلیمانی نشستوں کی تعداد میں اضافہ اس منصوبے کی کامیابی کے لیے اہم تصور کیا جارہا ہے۔
بہار اسمبلی انتخابات سے چند ماہ قبل SIR متعارف کرایا گیا۔ شدید مخالفت کے باوجود اسے نافذ کیا گیا اور 68 لاکھ لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کردیے گئے۔ اسی طرح بنگال سمیت دیگر 12 ریاستوں میں بھی SIR مکمل کیا گیا۔
ان ریاستوں کے تقریباً 50 کروڑ ووٹرز میں سے 6.5 کروڑ افراد کے نام 2024 کی ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے۔
کرناٹک کی صورتِ حال
کرناٹک میں ووٹرز کی مجموعی تعداد تقریباً 5.54 کروڑ ہے۔ اسی مناسبت سے کرناٹک الیکشن کمیشن نے Enumeration Forms جاری کیے ہیں۔
SIR کے عمل میں 59,050 بی ایل اوز سمیت مجموعی طور پر 68,123 افراد کو کام پر لگایا گیا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے تقریباً 1,24,018 بی ایل ایز بھی میدانِ عمل میں موجود ہیں۔ ان کے علاوہ سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں بلاک لیول والنٹیئرز بھی کام کررہے ہیں۔
اس وقت سب سے بڑا چیلنج Enumeration Form میں پوچھے گئے سوالات کے درست جوابات لکھنا، مقررہ اصولوں کے مطابق فارم پُر کرنا اور اسے وقت پر واپس جمع کرانا ہے۔
کرناٹک میں SIR نافذ ہوچکا ہے اور Enumeration Forms تقسیم کیے جارہے ہیں۔ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے دوران اب تک سامنے آنے والے ریکارڈ کے مطابق ASDDA، یعنی:
• Absent — غیر حاضر
• Shifted — منتقل
• Dead — فوت شدہ
• Duplicate — ایک سے زیادہ اندراج
• Others — دیگر وجوہات
ان زمروں کے تحت تقریباً ایک کروڑ سے بھی زائد ووٹرز کے نام خطرے میں ہیں۔
تشویش ناک امر یہ ہے کہ ریاست بھر میں 65 لاکھ ووٹرز کو مستقل طور پر منتقل شدہ قرار دیا گیا ہے اور ان تک رسائی نہیں ہوسکی، جبکہ 16 لاکھ ووٹرز کے انتقال کر جانے کی اطلاع درج کی گئی ہے۔
سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ بنگلور، میسور، بلگاوی اور ٹمکور میں بڑی تعداد میں نامکمل فارم پائے گئے ہیں۔ خدشہ ہے کہ اس سے متاثر ہونے والوں میں مسلمانوں، دلتوں، آدی واسیوں، مزدوروں اور خواتین کی تعداد زیادہ ہوسکتی ہے۔
آئندہ پیش آنے والے مسائل
اس وقت ہمارا ملک ایک بڑے فتنے اور آزمائش سے دوچار ہے۔ خدشہ ہے کہ کرناٹک میں SIR کے نتائج نہایت سنگین ہوں گے اور عام لوگ شدید درد، کرب اور بے بسی سے گزریں گے۔
اگر بڑی تعداد میں لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف ہوگئے تو انہیں اپنا ووٹ بحال کرانے کے لیے مطلوبہ دستاویزات جمع کرانی پڑیں گی۔ سرکاری دفاتر میں لوگوں کی طویل قطاریں نظر آئیں گی اور رشوت و بدعنوانی کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ قانونی جدوجہد بھی ایک طویل، مہنگا اور مشکل عمل بن سکتی ہے۔
یہ مسئلہ کسی ایک مذہب، ذات یا طبقے تک محدود نہیں رہے گا۔ یہ ایسی آگ ثابت ہوسکتی ہے جو معاشرے کے ہر کمزور اور محروم طبقے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
ایک طرف ہمیں ووٹ جیسے بنیادی جمہوری حق کو بچانے کی کوشش کرنی ہے اور دوسری طرف مظلوم، ناخواندہ اور بے بس عوام کے تحفظ کے لیے میدان میں آنا ہے۔
اس وقت فسطائی قوتیں عروج پر ہیں۔ ان کے منصوبوں کو ناکام یا کمزور کرنے کے لیے ایک مضبوط، منظم اور منصوبہ بند عوامی تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔ یہ زمین اللہ کی ہے اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہماری دینی، اخلاقی اور جمہوری ذمہ داری ہے۔
ہمارے کرنے کے کام
غور فرمائیں کہ 224 اسمبلی حلقوں میں سے ہم تمام اسمبلی حلقوں میں موجود ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم تقریباً 56 ہزار بوتھوں میں کام کرسکتے ہیں۔ ان تمام بوتھوں میں 5 کروڑ 56 لاکھ افراد موجود ہیں۔ اگر صرف مسلمانوں کی بات کی جائے تو ہم 50 لاکھ سے زیادہ مسلم ووٹرز ہیں۔
★ فوری طور پر شہری سطح کی میٹنگ منعقد کریں۔
★ دوسرا Enumeration Forms کا جائزہ لیں، انہیں پُر کروائیں اور متعلقہ بی ایل او تک پہنچائیں۔
★اپنے وارڈ اور بوتھ کے منتخب نمائندوں سے اس سلسلے میں تعاون کی اپیل کریں اور گھر گھر جاکر صورتِ حال کا جائزہ لیں۔
★ آئندہ پیش آنے والے مسائل کے حل کے لیے شہری سطح پر ایک کمیٹی تشکیل دیں۔ اس کمیٹی میں ایک وکیل کو لازماً شامل کریں۔ اسی طرح بوتھ کی سطح پر بھی ایک کمیٹی بنائی جائے۔ ان کمیٹیوں میں برادرانِ وطن کو بھی شامل کرلیں۔
ان کمیٹیوں کا نام ’’مت رکشنا سمیتی‘‘ رکھیں۔ اگر کسی مقام پر پہلے سے مت رکشنا سمیتی موجود ہے تو اسے مزید مضبوط کریں۔ یہ کام 15 اگست تک مکمل کرلیا جائے۔ اس عرصے میں سرکار سے بھی ان امور پر بات کی جائے گی، تاکہ ووٹرز کو درپیش مسائل کے حل میں سرکاری تعاون حاصل کیا جاسکے۔
★ 17 اگست کو Draft List کی اشاعت کے بعد ریاست بھر میں ڈی سی آفس کے سامنے احتجاجی پروگرام منعقد کیے جائیں۔ ان احتجاجی پروگراموں میں آپ کی شرکت مفید ہوگی۔
بنگلور میں الیکشن کمیشن اور گورنر کے دفتر کے سامنے احتجاج کیا جائے
ان احتجاجی پروگراموں کا انعقاد ایڈیلو کرناٹکا، کرناٹکا مسلم متحدہ محاذ، میرا ووٹ میرا حق، جاگرت کرناٹکا اور سیکولر سیاسی جماعتوں، دلت، کسان، آدی واسی اور طلبہ و نوجوانوں کی تنظیموں کی طرف سے مفید ہوگا
★ 17 اگست سے 16 ستمبر تک Objections داخل کرنے کا موقع رہے گا۔ اس دوران ووٹرز کی رہنمائی اور قانونی مدد کے لیے مت رکشنا لیگل ٹیم تشکیل دینی ہوگی۔
اس سلسلے میں مختلف سطحوں پر کوششیں جاری ہیں۔ آج ہی ریاستی سطح پر سپریم کورٹ کے معروف وکیل پرشانت بھوشن کی نگرانی میں وکلاء کی ایک میٹنگ LH میں منعقد ہورہی ہے۔
7۔ ریاست کے منتخب مقامات پر بوتھ، پنچایت اور وارڈ کی سطح پر سروے کرائے جائیں۔ اس کا مقصد ان افراد کی تفصیلات جمع کرنا ہے جن کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کیے گئے ہوں، تاکہ ٹریبونل یا عدالت میں ان کے حق میں قانونی لڑائی لڑی جاسکے۔
اس سلسلے میں مختلف تنظیمیں الگ الگ مقامات پر کام کریں گی۔
اس کام کے لیے ایک App تیار کیا گیا ہے، جس کا ڈیمو بھی پیش کیا جائے گا۔
8۔ اس دوران لوگوں کی رہنمائی کی جائے کہ وہ کم از کم ایک ضروری دستاویز لازماً حاصل کرکے اپنے پاس محفوظ رکھیں، مثلاً Permanent Residential Certificate، پاسپورٹ، پیدائش کا سرٹیفکیٹ وغیرہ۔
9۔ اس دوران پریس کانفرنسوں اور حسبِ ضرورت احتجاجی پروگراموں کا بھی نظم کیا جائے گا۔
10۔ وقتاً فوقتاً جو رہنمائی دی جائے گی، اس کے مطابق دیگر طبقات کو ساتھ لے کر کام کیا جائے گا۔
11۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنے مالک و آقا، اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط کریں اور اس سے مسلسل دعاؤں کا اہتمام ہو۔
اللہ تعالیٰ ہماری مدد فرمائے، ملک میں امن و امان، بھائی چارے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو قائم رکھے اور تمام برادرانِ وطن، بالخصوص پچھڑے طبقات، دلتوں، آدی واسیوں، مزدوروں اور خواتین کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔
Comments
Post a Comment