مسلمانوں کے موجودہ مسائل" کے عنوان سے منعقدہ تاریخی اجتماع میں علماء، دانشوروں، عوام الناس اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے برادرانِ وطن کی کثیر تعداد میں شرکت، ملت کو درپیش اہم مسائل پر فکر انگیز خطابات، حکومت کے نام اہم تجاویز و مطالبات پیش۔
حیدرآباد: 3/ اگست 2026 ریاستی جمعیۃ علماء تلنگانہ کے زیراہتمام اور جمعیۃ علماء ضلع نظام آباد کے زیر انتظام زیر سرپرستی حضرت مولانا شاہ محمد جمال الرحمن صاحب دامت براتہم العالیہ امیر شریعت تلنگانہ و آندھرا پردیش، زیر صدارت حضرت مولانا سید احسان الدین صاحب مدظلہ نائب امیر شریعت و صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ زون نمبر 2 (متحدہ اضلاع نظام آباد، عادل آباد اور کریم نگر) کا ایک عظیم الشان اور تاریخ ساز اجلاسِ عام بعنوان "مسلمانوں کے موجودہ مسائل" شہر کے معروف نظام پیالیس فنکشن ہال، بودھن روڈ میں نہایت تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہوا۔
یہ اجلاس اپنی نوعیت کا ایک منفرد، جامع اور نمائندہ اجتماع ثابت ہوا، جس میں تینوں اضلاع سے ہزاروں علماء کرام، حفاظ، ائمہ، مؤذنین، دانشوران، سماجی کارکنان، نوجوانوں، معزز شہریوں اور عوام الناس نے والہانہ انداز میں شرکت کی۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے برادرانِ وطن کی شرکت نے اس پروگرام کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی، قومی یکجہتی اور باہمی اخوت کی ایک خوبصورت مثال بنا دیا۔
اجلاس کا مقصد ملتِ اسلامیہ کو درپیش مذہبی، سماجی، تعلیمی، معاشی، قانونی اور ملی مسائل کو اجاگر کرنا، ان کے حل کی عملی راہیں متعین کرنا، حکومت تک مسلمانوں کے جائز مطالبات پہنچانا اور ملت میں اتحاد و شعور پیدا کرنا تھا۔
روح پرور آغاز
اجلاس کا آغاز معروف قاری قاری یونس خان، حیدرآباد کی دلنشین اور پُرسوز تلاوتِ قرآن مجید سے ہوا۔ قرآن کریم کی آیات کی تلاوت نے پورے ماحول کو نورانیت، خشوع اور روحانیت سے بھر دیا۔ بعد ازاں معروف نعت خواں احمد حسین ساگر نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نہایت عقیدت و محبت کے ساتھ نعتِ رسول ﷺ پیش کی، جسے حاضرین نے انتہائی انہماک اور ادب کے ساتھ سماعت کیا۔
مسلمانوں کی معاشی خود کفالت وقت کی اہم ضرورت
سب سے پہلے خطاب کرتے ہوئے مولانا غیاث احمد رشادی صاحب نے مسلمانوں کی معاشی پسماندگی پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ آج ملت جن مسائل سے دوچار ہے، ان میں معاشی کمزوری بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ جب تک مسلمان معاشی طور پر مضبوط نہیں ہوں گے، اس وقت تک تعلیمی، سماجی اور سیاسی میدانوں میں مطلوبہ مقام حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
انہوں نے نوجوانوں کو تجارت، صنعت، جدید ٹیکنالوجی، کاروبار، اسٹارٹ اپس، ہنرمندی، زرعی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع اختیار کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمان صرف ملازمتوں پر انحصار نہ کریں بلکہ خود روزگار پیدا کرنے والے بنیں۔ انہوں نے خواتین کی تعلیم، نوجوانوں کی فنی تربیت، سرمایہ کاری اور باہمی تعاون کے فروغ کو بھی ملت کی ترقی کا بنیادی ذریعہ قرار دیا۔
مدارس اور مساجد کا قانونی تحفظ ناگزیر
اس کے بعد مولانا حسام الدین جعفر پاشاہ نے اپنے خطاب میں مساجد، مدارس اور دینی اداروں کے تحفظ کے حوالے سے نہایت اہم نکات پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں صرف عبادت گاہوں کی تعمیر کافی نہیں بلکہ ان کی قانونی حفاظت بھی انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے ذمہ دارانِ مساجد و مدارس کو ہدایت دی کہ تمام اراضی کے کاغذات، رجسٹریشن، وقف ریکارڈ، ٹیکس سے متعلق دستاویزات اور دیگر قانونی ریکارڈ مکمل اور محفوظ رکھے جائیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی قانونی پیچیدگی یا تنازع سے بچا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دینی اداروں کا تحفظ پوری ملت کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
اصلاحِ معاشرہ کے بغیر ترقی ممکن نہیں
مولانا مفتی تجمل حسین قاسمی نے اصلاحِ معاشرہ کے موضوع پر نہایت مدلل، مؤثر اور اصلاحی خطاب فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ آج مسلم معاشرہ جن گھریلو مسائل، خاندانی انتشار اور اخلاقی بحران کا شکار ہے، اس کا بنیادی علاج دین اسلام کی تعلیمات پر عمل میں ہے۔
انہوں نے نکاح کو آسان بنانے، فضول رسم و رواج کے خاتمے، جہیز کی لعنت سے بچنے، ازدواجی زندگی میں برداشت، صبر اور حسنِ اخلاق کو فروغ دینے پر زور دیا۔
طلاق اور خلع کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معمولی اختلافات کو طلاق تک پہنچانا انتہائی افسوسناک رجحان ہے۔ انہوں نے خاندانوں کو مشورہ دیا کہ گھریلو اختلافات کو علماء، بزرگوں اور اصلاحی کمیٹیوں کے ذریعے حل کیا جائے تاکہ خاندان ٹوٹنے سے بچ سکیں۔
انہوں نے نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی، منشیات، بے حیائی، سوشل میڈیا کے غلط استعمال اور دینی اقدار سے دوری پر بھی اظہارِ تشویش کرتے ہوئے والدین کو اپنی اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دینے کی تلقین کی۔
حکومت انتخابی وعدے پورے کرے
حافظ پیر خلیق احمد صابر جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء تلنگانہ نے اپنے پُرجوش خطاب میں ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں سے کیے گئے تمام وعدوں کو فوری طور پر پورا کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست میں بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقاریر اور مذہبی منافرت کا ماحول انتہائی تشویشناک ہے۔ اس لیے ہیٹ اسپیچ اور ہیٹ کرائم کے خلاف ایک مضبوط، مؤثر اور قابلِ عمل قانون فوری نافذ کیا جائے تاکہ شرپسند عناصر کے خلاف سخت کارروائی ممکن ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ تلنگانہ حکومت نے اپنے انتخابی منشور میں ائمہ و مؤذنین کے اعزازیہ میں اضافہ اور بروقت ادائیگی کا وعدہ کیا تھا، مگر آج بھی ہزاروں ائمہ و مؤذنین اس سہولت سے محروم ہیں۔
انہوں نے حکومت کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کی آئینی مدت کا صرف دو سالہ عرصہ باقی رہ گیا ہے، لہٰذا اب وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کا وقت آ چکا ہے۔
صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ کی اہم تجاویز
صدارتی خطاب میں حضرت مولانا سید شاہ احسان الدین صاحب صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ نے نہایت جامع انداز میں ملت کے مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے حکومت کے سامنے اہم تجاویز اور مطالبات پیش کیے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ:
اول: اقلیتوں سے کیے گئے تمام وعدوں پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔
دوم: ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والے شرپسند عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔
سوم: ہیٹ اسپیچ اور ہیٹ کرائم کے خلاف خصوصی قانون بنا کر اسے فوری نافذ کیا جائے۔
چہارم: ائمہ و مؤذنین کے اعزازیہ میں اضافہ کرتے ہوئے بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہمیشہ دستورِ ہند کے دائرے میں رہتے ہوئے امن، انصاف، بھائی چارہ اور قومی یکجہتی کے لیے جدوجہد کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔
برادرانِ وطن کی قابلِ قدر شرکت
اجلاس کی ایک نمایاں خصوصیت مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے برادرانِ وطن کی بڑی تعداد میں شرکت رہی۔
ہندو، سکھ، عیسائی اور دیگر مذاہب کے نمائندوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی ترقی باہمی محبت، مذہبی رواداری اور آئینی مساوات میں مضمر ہے۔
انہوں نے مسلمانوں کو یقین دلایا کہ ملک میں امن، بھائی چارہ اور انصاف کے تحفظ کی جدوجہد میں وہ ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور نفرت پھیلانے والی طاقتوں کے خلاف متحد رہیں گے۔
ان مقررین نے اس بات پر بھی افسوس ظاہر کیا کہ مذہب کے نام پر نفرت پھیلانا ملک کے مفاد میں نہیں، بلکہ اس سے قومی یکجہتی متاثر ہوتی ہے۔
مہمانوں کا استقبال
حضرت مولانا سید سمیع اللہ صاحب قاسمی صدر جمعیۃ علماء ضلع نظام آباد نے افتتاحی کلمات میں تمام مہمانانِ کرام، ریاستی قائدین، علماء، عوام الناس اور متحدہ اضلاع سے تشریف لانے والے شرکاء کا پرتپاک استقبال کیا۔
انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہر دور میں ملت کے دینی، سماجی، تعلیمی اور قومی مسائل کی ترجمانی کرتی رہے اور عوام میں شعور بیدار کرے۔
بہترین نظامت
پورے اجلاس کی نظامت حضرت مفتی الیاس احمد حامد قاسمی نے انتہائی شائستہ، علمی اور پراثر انداز میں انجام دی۔ انہوں نے تمام مقررین کا تعارف، پروگرام کے مختلف مراحل اور اجلاس کی کارروائی نہایت خوبصورتی سے پیش کی، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔
اظہارِ تشکر
آخر میں جناب افضل الدین جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ضلع نظام آباد نے تمام مہمانانِ گرامی، علماء کرام، برادرانِ وطن، میڈیا نمائندگان، کارکنان اور عوام الناس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس تاریخی اجتماع کی کامیابی ملت کے اتحاد، اخلاص اور باہمی تعاون کا نتیجہ ہے۔
اختتامی دعا
اجلاس کا اختتام صدرِ اجلاس حضرت مولانا سید شاہ احسان الدین صاحب کی انتہائی رقت آمیز دعا پر ہوا۔ دعا میں ملک و ملت کی سلامتی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، مسلمانوں کے جان و مال کے تحفظ، نوجوان نسل کی اصلاح، دینی اداروں کی بقا، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور ریاست تلنگانہ میں امن و انصاف کے قیام کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
یہ عظیم الشان اجلاس نہ صرف مسلمانوں کے موجودہ مسائل کی بھرپور ترجمانی کرنے میں کامیاب رہا بلکہ ملت کے لیے آئندہ کی اجتماعی حکمتِ عملی، اتحاد، شعور اور عملی جدوجہد کا ایک مضبوط پیغام بھی دے گیا۔
Comments
Post a Comment